آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی زمانے میں یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے کسی دوسرے ملک میں موجود جدید مشینوں کے بارے میں جان سکیں یا انہیں چلانے کا طر یقہ سیکھ سکیں۔ لیکن جدّت کی راہ پر دوڑتی ہوئی دنیا نے ہر مشکل کام کو آسان سے آسان تر بنا دیا ہے ۔سائنس اورٹیکنالوجی کی ترقّی کی وجہ سے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں ترقی اور دریافت کا عمل جاری ہے وہیں لوگوں کی آسانی کے لیے بہت سی اشیا کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور جدید مشینری سے آگاہی کے لیے آن لائن ٹریننگ دینے کا راستہ بھی اختیار کیا گیا ہے ۔یہ ایسا طر یقہ ہے،جس کی مدد سےدنیا کے کسی بھی کونے میں موجود مشینوں کو چلا نا بآسانی سیکھا جاسکتا ہے۔اسی سہولت سے فائدہ اٹھتے ہوئے حال ہی میں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے’’ سی پیک ‘‘میں استعمال ہونے والی مشینری کو چلانا سکھا نے کے لیے آن تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اس منصوبے کی تفصیل جاننے کے لیے گزشتہ دنوں’’جنگ‘‘نےاس ادارے کے چیئرمین سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے ۔

س:قارئین کی معلومات کے لیے یہ بتائیے کہ یہ منصوبہ شروع کرنے کا خیال کیسے آیا؟

ج: ہم جو تیکنیکی تعلیم و تربیت دیتے ہیں اس میں کلاس روم کے ساتھ لیب ورک کافی زیادہ شامل ہوتا ہے ۔ہمارے نصاب میں ساٹھ فی صد عملی کام اورچالیس فی صدنظری تعلیم ہوتی ہے ۔یہ ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینیئر(DAE) کے پروگرام میں ہوتا ہے ۔و وکیشنل ٹریننگ میں اسّی فی صدعملی اوربیس فی صدنظری کام ہوتا ہے ۔ہمارا اصل مسئلہ یہ کہ ہمارے پا س جو مشینیں موجود ہے وہ بہت ہی پرانی ہوچکی ہیں۔جدید دور میں ٹیکنالوجی جس تیزی سے ترقی کررہی ہے ،ہم اتنی تیزی سے اپنی مشینی ضروریات کو تبدیل نہیں کر رہے ہیں ۔یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ممالک کا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جدید مشینیںبہت مہنگی ہوتی ہیں ۔اب اس کے لیے بعض ممالک نے متبادل راستے تلاش کرلیےہیں۔مثلا، جرمنی نے اپنا ڈویل ٹریننگ(عملی تعلیم اور نظر ی تعلیم دونوں دی جارہی ہیں) پروگرام شروع کیا ہے جو بہت مشہور ہے۔ا س میں تین دن طلبا تربیت حاصل کرتے ہیں اور تین دن نظری تعلیم (تھیوری) کی کلا سز لیتے ہیں ۔بعض ممالک نے مہنگی مشینری لانے کے بجائے سیمولیٹر ٹیکنالوجی (Simulator technology) کا استعمال شروع کردیاہے جو زیادہ مہنگی نہیںہے ۔اس کے علاوہ ایک طریقہ ورچوئل ٹریننگ کامتعارف ہو چکا ہے جو مشینری خریدنےکے مقابلے میں کافی سستاہے ۔اس میں کچے میٹریل (Raw Material) کا بہت کم استعمال ہوتا ہے ۔یہ ایک طر ح سے ICT(انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی)ہے ،جس میں طلبا ایک ہیڈ سیٹ (head set ) پہنتےہیںاور اس کی مدد سے مختلف اشیا کے بارے میںتربیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔یعنی اس کے موشن سیٹ ہورہے ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پینٹنگ یا کارپینٹر کا کام ہے ۔آن لائن ٹریننگ بھی اسی کا حصہ ہے ۔اس تربیت کا مقصد یہ ہے کہ جہاں جدید مشینری موجود نہیں ہے وہاں آن لائن تربیت دینے کا پروگرام شروع کرکے دوسری جگہ موجود مشینوں کے بارے میں معلومات اور ان کے استعمال کے بارے میںآگاہی فراہم کی جا ئے ۔اس کے ساتھ ہم طلباکو دوسرے ممالک کی زبانیں بھی سکھا سکتے ہیں ۔اس ضمن میں ہمارے ادارے نے ایک نجی انسٹی ٹیوٹ میںچین کی نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے ورچوئل کلا س روم کے ذریعےطلبا کو چینی زبان سکھائی تھی ،کیوں کہ سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے ہمیں آنے والے دنوں میں چینی زبان سمجھنے اور بولنے والوں کی بہت ضرورت ہوگی۔

س:یہ منصوبہ شروع کرنے کا بنیادی مقصد کیاہے ؟

ج:دراصل عام تعلیم کے مقابلے میں تیکنیکی تعلیم اور تربیت کا فی مختلف ہوتی ہے ۔ایسے میں طلباکے پاس عملی صلاحیتیں لازمی ہونی چاہییں ۔تیکنیکی تعلیم کے کسی بھی ادارے میںعملی تربیت دینے کے لیے جدید طرز کی مشینیں ہونی چاہییں،لیکن یہاں ان نئی مشینوں کو متعارف کرانے میں نہ جانے کتنی صدیاں لگ جائیں ۔ چناں چہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپنے طلباکو جد ید مشینوں اور آلات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے ورچوئل ٹریننگ دینے کا پروگرام شروع کیا ہے ،تا کہ جب وہ تعلیم مکمل کرکے نکلیں تووہ جدیدمشینیں چلانے کے ہنرسےبھی آراستہ ہوں۔پہلے ورچوئل کلاسز صرف نظری (تھیوری)تعلیم دینے کے لیے استعمال ہوتی تھیں ، لیکن جدید دور میں ورچوئل ٹریننگ کے ذریعے نت نئی مشینوں کی تعلیم بھی بآسانی دی جارہی ہے ۔

س: اس آن لائن ٹریننگ کے لیے آپ کے ادارے نے کس طرح کے انتظامات کیے ہیں،کیا کوئی خاص سافٹ ویئربنایاگیا ہے ؟

ج:فی الحال اس کے لیے کوئی سافٹ ویئر نہیں بنایا گیا ہے،کیوں کہ ہمارے لیےیہ ٹیکنالوجی ابھی بالکل نئی ہے اور اس کے لیے ہائی ٹیک (Hi -Tech) ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔پہلے تو اس کےلیے سازوسامان ( equipment) چاہیےجو زیادہ مہنگا نہیں ہے،لیکن انہیںچلا نے کے لیے ایک سافٹ وئیر کی لازما ًضرورت ہوتی ہے۔بدقسمتی سےاس ضمن میں پاکستان میں زیادہ ترقی نہیں کی گئی ہے۔اب تک صرف کارپینٹنگ اور تین یا چارمزیدشعبوںکے لیے سافٹ وئیرز تیارکیے گئے ہیں۔تاہم کئی پروگرامز کے لیے سافٹ وئیرز کی تیاری جاری ہے۔حال ہی میں ہم نےڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی میں قائم ایک نجی اسکول کے ساتھ مل کر معذور بچوں کو ہیڈ سیٹ کی مدد سے کار پینٹنگ سکھانے کا آغاز کیا ہے۔

س:پوری دنیا میں جس طر ح ووکیشنل اورتیکنیکی تعلیم و تربیت دی جاری ہے،کیا وہ ماڈل آپ کے پیشِ نظر ہے اورپاکستان میں اس ضمن میںکیاہورہا ہے ؟

ج:ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ضمن میںجو مسائل پوری دنیا میں موجود ہیں وہی پاکستان میں بھی ہیں ،کیوں کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اب تک اپنے تعلیمی اداروں میں اس طرح کی ٹیکنالوجی نہیں لا ئےہیں ،جس کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کےانہوں نے مختلف حل ضرور نکا ل لیےہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کا اپنے انڈسٹریل انسٹی ٹیوٹس سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اس ضمن میںوہاںانڈسٹری خودآگے بڑھتی ہے،طلباکی صلاحیتیں ابھارنےکے لیے اور انہیں مواقعے اور انٹرشپ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔مگرپاکستان میں اس چیز کی بہت زیادہ کمی ہے ۔کسی بھی انڈسٹریل انسٹی ٹیوٹ کےآٹو کمپنیز کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہیں ۔اسی وجہ سے ہم دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں۔اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ جب طلبا کسی انڈسٹری میں نوکری کرنے کے لیے جاتے ہیں تو وہاں انہیں مشینیں استعمال کرنے میں مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،کیوں کہ وہاں جدیدطرز کی مشینیں استعمال ہو رہی ہوتی ہیں اور طلبا کو جن مشینوں پر سکھا یا ہوتا ہے وہ پرانی طرز کی ہوتی ہیں ۔لہٰذا پاکستان اس معاملےمیں بہت پیچھے ہے۔ ہمارے ملک کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔مثال کے طور پر آٹو انڈسٹریز کو لے لیںجواب بہت جدید ہو چکی ہے۔اس میں پہلے ای ایف آئی ( EFI) انجن آیا ،پھر وی ٹی آئی (VTI)،اس کے بعد وی وی ٹی آئی (VVTI)اور اب ہائی برڈ (Hybrid) انجن استعمال ہورہا ہے ۔دوسری جانب ہمارے بعض انسٹی ٹیوٹس میں آٹو ٹیکنالوجی کے ڈپارٹمنٹ میں دو اور چار اسٹروک والےانجن آج تک موجودہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ طلبا کو ان جدید انجنز کے بارے میں بنیادی معلومات تو ہوتی ہیں ،مگر انہیں عملاً کس طر ح استعمال کرنا ہے ،اس بارے میں معلومات نہیں ہوتیں۔نصاب میں تبدیلی کرکے نئی چیزیں متعارف توکروادی گئی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ عملی تربیت کے لیے انہیں مشینری اورسازوسامان کی ضرورت ہے۔ان حالات میں ہمیں صنعتوں سےتعلقات بڑھانےکےلیےجلدازجلد اقد ا ما ت کرنےچاہییں ۔ہمارا ہر نوجوان ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا،لیکن ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مدد سے وہ ڈاکٹر اور انجینئرکے برابر پیسے ضرورکما سکتے ہیں ،بہ شرط یہ کہ انہیں اپنے شعبے میں بھر پور مہارت حاصل ہو۔ مہارت کے بل بوتے پر وہ self employedبن سکتےہیں اور نجی یا سرکاری اداروںمیں بھی بآسانی جاسکتے ہیں۔

س:آپ کے خیال میں پاکستان تیکنیکی اعتبار سے کس حدتک ترقی کرچکا ہےاورکس طر ح اس شعبے میں مزید آگے بڑھ سکتا ہے ؟

ج:پاکستان نے تیکنیکی اعتبار سے اب تک کوئی خاص ترقی نہیں کی ہے ۔تیزی سے ترقی کی راہ پر گام زن ہونے کے لیے ہمیں اپنے آٹو انسٹی ٹیوٹس اور اداروں کے مابین گہرے تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوان تیکنیکی تعلیم کو پہلی ترجیح نہیں دیتے بلکہ اسے سیکنڈ آپشن کے طور پر لیتے ہیں ۔اس لیے بھی ہم دیگر ممالک کے مقابلے میں ا س شعبے میں پیچھے ہیں۔

س:کیا اس منصوبے کے ضمن میں آپ کا چین کے اداروں سے بھی رابطہ ہے ؟

ج:چین اور پاکستان کی تعلیم میں بہت واضح فرق ہے۔ چین میں ٹیکنالوجی یا ووکیشنل ٹریننگ کے ادارے اسپیشلائزڈ ہیں، لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے ۔یہا ں کثیر المقاصد ( MULTI PURPOSE)تربیت دینے والے ادارے ہیں۔مثلا ًپاکستان میں ایک ادارہ پولی ٹیکنیکل ،سول ،الیکٹریکل اور میکنیکل، تینوں ٹیکنالوجیز کی ٹریننگ کرارہاہوتا ہے ۔لیکن چین میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں ہرشعبے کے لیے الگ الگ ادارے ہیں۔ان کا الگ الگ ادارے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہر شعبے میں اپنے بچوں کو ماہر بناسکیں ۔ سی پیک کے منصوبے کے لیے چین کی ٹیکنالوجی اور مشینیں آئیں گی اورہمارے نو جو ا نو ں کو یہ جدید ٹیکنالوجیز اور مشینیں استعمال کرنا آنا چاہیے ۔پاکستان سے طلبا کو چین بھیجنا آسان نہیں ہے،اسی لیے آن لائن ٹریننگ کا منصوبہ شروع کیا گیا ،تا کہ ان جدید مشینوں سے ہم اپنے طلبا کو آشنا کرسکیں ۔آن لائن ٹریننگ دینے کے علاوہ ہمارے ادارے نے چین کے دو انسٹی ٹیوٹس سے تربیت دینے کے لیے معاہدہ بھی کیا ہے۔ ایک ریلوے کا انسٹی ٹیوٹ ہے،’’ بٹاوا‘‘ اور دوسرا میری ٹائم کا’’ بنزو‘‘(binzo)نامی ادارہ ہے ۔اس ٹریننگ میں چین ہمارے طلبا کوٹیوشن فیس میں رعایت بھی دے گا ۔

س:اس ٹریننگ پروگرام کا دورانیہ کیا ہے ؟

ج:تربیت کا دورانیہ شعبے پر منحصر ہے،دوم یہ کہ تربیت حاصل کرنے والے کو متعلقہ شعبےکے بارے میں کتنی معلومات اور مہارت ہے ۔عام طور پر یہ آن لائن ٹریننگ، شارٹ کورسز ہی ہیں جو تقریباً چھ ماہ کے دورانیے پر مشتمل ہیں ۔فی الحا ل تو یہی منصوبہ ہے ۔مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ ہم کسی ادارے کے ساتھ مل کرتین سال کا مکمل پروگرام شروع کریں ۔

س: سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کاInclusion in Vocational Education کو بنانے میں کیا کردار ہے ؟

ج1998-99:میں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے آئی ٹی کا ایک سافٹ وئیر تیار کیا تھا۔ اس وقت ٹیکنالوجی نئی نئی آئی تھی تو بورڈ نے آئی ٹی ڈپلومے کا ایک سافٹ وئیر تیار کیا جوبہت کام یاب ثابت ہوا تھا ۔ اس میں داخلہ لینے کے لیے انٹر پاس ہونا لازمی تھا ۔اس کے علاوہ سندھ بورڈ کا ڈی اے ای (DAE)پروگرام ہے۔ اس کے علاوہ سرٹیفیکیٹ شارٹ کورسز یا اسپیشلائزڈ ڈپلوما کورسز ہیں ان میںآئی سی ٹی کی جو بھی ٹیکنالوجی یا سافٹ وئیر آتے ہیں ،ان میںبورڈ وقت کے ساتھ تبدیلی لاتا رہتا ہے ۔علاوہ ازیںبورڈ سیپ (SAP) system application and products in data processing نامی سافٹ وئیرکا ڈپلوما پروگرام شروع کررہاہے۔یہ سافٹ وئیر بیک اینڈ پر چلتا ہے اور یہ جرمن بیسڈ ہے ۔گورنمنٹ کے بڑے بڑے ادارے یہ ہی سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں ۔

س:آپ لوگ نجی شعبےکے ساتھ مل کر موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے چین کی یونیوررسٹی کی مددسے یہاں کے طلبا کوتربیت دےرہے ہیں ؟اس بارے میں کچھ بتائیں ؟

ج: سی پیک میں جونو اکنامک زون بن رہے ہیںان میں کئی آئی ٹی انڈسٹریز لگیں گی ۔ہمارے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ پہلا اکنامک زون دھابیجی ، سندھ، میں بن رہا ہے ۔چوتھے صنعتی انقلاب میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مشینری آٹو میشن کی طرف جا رہی ہے۔ اس طرح مشینیں چلانے والوں کی تعداد بھی کم سے کم ہو جائے گی ۔آٹو انڈسٹری میںپہلے ہی زیادہ تر روبوٹس کا م کرتے ہیں ۔دیگرصنعتوں میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہو گا کہ بڑے بڑے پلانٹس کو روبوٹس چلا رہے ہوںگے اور اگر کوئی روبوٹ جسمانی طور پر موجود نہیں ہوگا تو ان پلانٹس میںایک سسٹم پروگرام لوجیکل کنٹرول (پی ایل سی ) نصب ہوگا ۔ اس سسٹم کی پروگرامنگ کو آٹو سیٹ کردیا جائے گا ۔اس صنعتی انقلاب میں انڈسٹری کے پلانٹس کو دوچیزیں آپریٹ کریں گی، ایک روبوٹ اور دوسرا، پی ایل سی ۔ اس کے باوجود انسان کا عمل دخل ختم نہیںہوگا، بلکہ ہائی ٹیک ہو جائے گا ۔ہائی ٹیک اس طرح کہ روبوٹس اور پی ایل سی کی پروگرامنگ تو انسان ہی کریں گے اور یہ سب تیکنیکی تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ہم روبوٹک انڈسٹری میںدیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔پی ایل سی کی پروگرامنگ اور روبوٹس وغیرہ کا سسٹم بنانےکا سا ر ا کام نجی شعبہ ہی کررہا ہے، وہ ہی بیرونی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی لے کر آئے گااورانہیںچلانے کا طریقہ بھی وہ ہی سکھائےگا۔

س:حکومتِ سندھ کے تیار کردہ منصوبے اس صنعتی انقلاب میں کس طر ح اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟

ج:اس انقلاب میں حکومت کا کافی اہم کردار ہے ۔ دھابیجی میں جو منصوبہ شروع ہورہا ہے وہ حکومت ہی کاہے ۔علاوہ ازیں حکومت مختلف صنعتوں کو ترغیب بھی دے رہی ہے ۔اس طرح سے ہمارے نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقعے بڑ ھیںگے ۔سب سے اہم بات یہ ہےکہ تیکنیکی تعلیم کے جو نئے تصورات ہیں وہ یورپی یونین اورجرمن بیسڈہے۔ہم آہستہ آہستہconversion based training کو competency based trainingمیں تبدیل کررہے ہیں ۔اگر ہم اسی طر ح تیکنیکی تعلیم و تربیت کو بہتر کرتے رہے تو ایک نہ ایک دن ہم اپنے انڈسٹریل زون میں انقلاب ضرور لے آئیں گے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں