آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید فیصل صالح حیات کا ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کا بلامقابلہ نائب صدر منتخب ہونا ملک و فٹ بال شائقین کیلئے انتہائی خوش کن ہے۔ پاکستانی فٹ بال کو عالمی طور پر منوائیں گے۔ سندھ فٹ بال کے صدر سید خادم علی شاہ فٹ بال کی عالمی دنیا میں کسی پاکستانی کو ایشین فٹ بال کنفیڈریشن میں بڑا عہدہ ملنے پر اسے ملک کیلئے بڑا اعزاز قرار دے رہے ہیں۔ جنگ سے گفتگو میںانہوں نے کہا کہ پاکستانی فٹ بال کا مستقبل اگرچہ اچھا نہیں ہے۔ ہم پاکستانی فٹ بال کو مسلسل بہتری کی جانب لے جارہے تھے کہ ایک بار پھر کھیل کے دشمنوں نے اسے نقصان پہنچایا اور پاکستان کو عالمی فٹ بال سے دور کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فٹ بال کو فیصل صالح حیات کے دور صدارت میں نہ صرف عالمی فٹ بال میں پذیرائی ملی بلکہ پاکستان میں بھی یہ کھیل عروج کی طرف گامزن رہا۔ گراس روٹ لیول اور اوپر کی سطح تک تمام امور کی انجام دہی ممکن بنائی گئی اور نئے ٹیلٹ کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا جس کیلئے تمام اضلاع میں ٹورنامنٹ کروائے گئے۔ فیفا قوانین کی خلاف ورزی کئے جانے پر ملکی فٹ بال ایک بار پھر بحران کا شکار ہے، تین سال میں پاکستان فٹبال کو بڑا نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی اور بحالی کیلئے سخت محنت اور انقلابی اقدامات کئے گئے جن میں سب سے بڑا قدم غیر ملکی کوچ کی تعیناتی تھا۔

پاکستانی فٹ بال کو عالمی طور پر منوائیں گے، خادم علی شاہ
پروفیسر اعجاز فاروقی سابق صدر کے سی سی اے حمزہ گھانچی کو بہترین بیٹسمین کا ایوارڈ دے رہے ہیں

برازیلین جوز انتونیو ناگورا کے ساتھ 3سال کا معاہدہ کیا گیا۔ فیصل صالح حیات کی درخواست پر اے ایف سی کی جانب سے فیفا فٹ بال ہائوس کی تزئین و آرائش کیلئے 3لاکھ ڈالرز کی خصوصی گرانٹ جاری کرائی گئی۔ماضی میں پاکستانی کھیلوں کی تاریخ ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے جس میں ہم ہاکی، کرکٹ، اسکواش اور اسنوکر میں ورلڈ چمپئین جبکہ پہلوانی اور باکسنگ جیسے کھیلوں میں بھی دنیا میں نمایاں پوزیشن و حیثیت میں نظر آتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب حکومتیں بھی کھیل اور کھلاڑی کو بھر پور سپورٹ کرتی تھیں۔ قومی کھلاڑیوں کے علاوہ مقامی سطح کے کھلاڑیوں کو بھی معاشرے میں ہیرو کا درجہ دیا جاتا تھا۔ پاکستان میں کھیلوں کی تنزلی 90ء کی دھائی سے شروع ہوئی ، جس کی بنیادی وجہ کھیلوں میں حکومتوں کی سیاسی مداخلت کو بھی قرار دیا جاسکتاہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید