آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیا خان بلوچ

اصغر چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ اپنے والدین کا اکلوتا لاڈلا بیٹا تھا ،اس کے والدین اس کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔ وہ بہت شرارتی تھا، اس کی شرارتیں پورے محلے میں مشہور تھیں۔ وہ کافی ذہین اور پڑھائی میںبھی اچھا تھا لیکن اس کی ایک بری عادت تھی کہ وہ ہر بات اپنی منواتا تھا ،کوئی نہ مانےتو ان کے ساتھ لڑائی کرتا اور ان کو مارتا تھا۔ اسکول میںہر روز وہ کسی نا کسی سے لڑتا تھا۔ ٹیچر کی ڈانٹ وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال دیتا۔ کلاس میں پہلے سب اس کے دوست تھے لیکن اب سب نے آہستہ آہستہ اس کے ساتھ دوستی ختم کر دی تھی۔احمد جو کے اس کا بہترین دوست تھا وہ بھی اب اس سے دور رہنے لگا تھاکیوں کہ اصغر نے اسے بھی کھیل کے دوران بہت مارا تھا۔اسکول کے بعدوہ ٹیوشن پڑھنے جاتا وہاں سے آنے کے بعد وہ گھر کے ساتھ موجود میدان میں کھیلنے چلاجاتا تھا۔لیکن یہاں بھی اس کے لڑنے کی عادت نے اسے سب سے الگ کر دیا تھا،اب تو اصغر کو سب پر غصہ آنے لگا تھا۔جب کوئی

بھی اسے اپنے ساتھ کھیل میں شامل نہیں کرتا تھا تو وہ کسی نہ کسی کو مار کو بھاگ جاتا۔ بچوں نے اس کی امی سے بھی شکایت کرنا شروع کر دی تھی۔اس کی امی نے اسےبہت سمجھایا لیکن وہ اگلے دن ہی ان سے کیا گیا وعدہ بھول جاتا ۔

ایک دن ا سکول کے سارے بچے بریک میںاپنا اپنا لنچ کھا رہے تھے۔اصغر نے بھی اپنا بیگ کھولا تو دیکھا کہ اس کا لنچ باکس نہیں تھا۔وہ بہت پریشان ہوا،پھر اسے یاد آیا کہ آج تو امی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، انہوں نے کہا تھا کہ آج بابا جان سے پیسے لے کر جانا اور اسکول کی کینٹین سے کچھ کھانے کے لیے لے لینا،لیکن وہ تو باباجان سے پیسے لینا بھول گیا اورآج تو اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا،اسے بہت بھوک لگ رہی تھی،اس نے سب بچوں کو دیکھا ،سب ہنس رہے تھے ایک ساتھ بیٹھےکھا رہے تھے۔صرف وہ ہی اکیلا بیٹھا تھا۔کسی نے بھی اس سے نہیں پوچھا تھا اور پوچھتے بھی کیوں اور کیسے؟ وہ تو سب سے لڑتا تھا۔ اب خود کو یوں سب سے دور دیکھ کر وہ اور بھی دکھی ہو گیا۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اسی وقت احمد کی نظر اس پر پڑی، اس نے اصغر کو روتے دیکھا تو اس کے پاس چلا آیا۔وجہ پتا چلی تو اس نے اصغر کاہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ لے گیا۔اصغر نے سب کے ساتھ مل کرلنچ کیا۔وہ دل ہی دل میں بہت شرمندہ تھا، اس نے سوچا کہ یہ سب کتنے اچھے ہیں ،لیکن ،میں ان سب سے لڑتا اور مارتابھی تھا۔احمد نے کہا،’’اصغر ہم سب تم سے دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری ایک شرط ہے،اگر تم وعدہ کرو کہ آج کے بعد سے تم ہم میں سے کسی کو مارو گے نہیں اور لڑائی بھی نہیں کرو گے۔

اصغر نے کہا،’’ میں آپ سب سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اب کسی کو بھی نہیں ماروں گا۔میں اپنے رویے پر بہت نادم ہوں اور آپ سب سے معافی مانگتا ہوں‘‘۔سب نے اصغر کو معاف کر دیااور اس سے ہاتھ ملایا،اس طرح سب اس کے دوست بن گئے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں