آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملکی معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے بحث جاری تھی کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے فرمایا کہ ابھی تو مہنگائی اور بڑھے گی اور عوام کی چیخیں مزید بلند ہوں گی تو کمیٹی کے شرکاء ان کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگے۔ اسد عمر نے کہا کہ چونکہ حکومت معیشت کی بہتری کیلئے جامع اصلاحات پہ کام کر رہی ہے اور جب معیشت بہتری کی طرف گامزن ہوتی ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ اسد عمر کے اس بیان پہ جب میڈیا میں شور و غوغا ہوا تو انہوں نے پینترا بدلا اور اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے جو کہا وہ چند دن میں کر بھی دکھایا اور ایک ہی جھٹکے سے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل اور مٹی کا تیل مہنگا کر دیا، جس سے گزشتہ پانچ سال کی بدترین مہنگائی میں پہلے سے پستے عوام کی حقیقی معنوں میں چیخیں بلند ہونے لگیں لیکن آفرین ہے اسد عمر پہ جنہوں نے یہ کہہ کر بلبلاتے عوام کے زخموں پہ نمک چھڑکنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی کہ مہنگائی ہے ضرور لیکن 2008اور 2013کے مقابلے میں کم ہے۔ نہلے پہ دہلا کے مصداق وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے تو عوام کو کلمہ شکر ادا کرنے کی نصیحت کی ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھائیں کیونکہ عوام زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ اسد عمر صاحب نے

چونکہ یہ خوشخبری بھی سنا دی ہے کہ معیشت میں بہتری میں دو سال لگیں گے اس لئے عوام تسلی رکھیں، انہیں گاہے گاہے شکرانہ ادا کرنے کے مواقع میسر آتے رہیں گے۔ ابھی تو صرف آٹھ ماہ گزرے ہیں اور چونکہ ہم جمہوریت کے کٹر حمایتی ہیں اس لئے موجودہ حکومت کی مدت کے باقی 52ماہ کے لئے چشم ما روشن دل ما شاد کئے ہوئے ہیں، رہی بات عوام کی تو ان کے لئے تبدیلی کے ہر نئے جھٹکے پہ کپتان کا یہ جملہ کافی ہوگا، پاکستانیو! گھبرانا نہیں۔ خان صاحب اور ان کی ٹیم کو شاید ادراک نہیں کہ پاکستانی تو اتنے سخت جان ہیں اور ان کی قوتِ برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ نومبر میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے قومی اسمبلی میں اقتصادی بحران پہ قابو پا لینے کے بیان کے بعد قوتِ خرید میں نمایاں کمی اور مہنگائی میں ہو شربا اضافے کو بھی خوشدلی سے قبول کئے جا رہے ہیں، اُنہوں نے تو حکومت کے ابتدائی دو سو دنوں میں ہی بجلی کی قیمتوں میں 15اور گیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافے پہ بھی چون و چراں تک نہ کی، وہ تو ادویہ کی قیمتوں میں 30سے 100فیصد اضافے کو بھی مشیتِ حکومت سمجھ کر خون کے گھونٹ پی چکے، وہ تو گزشتہ ایک سال کے دوران بیٹھے بٹھائے اپنے روپے کی قدر میں 30فیصد تک بے قدری پہ بھی شکوہ کناں نہیں ہوئے، انہوں نے تو اس گنجلک دھندے میں سر کھپانے کی کوشش بھی نہ کی، صرف آٹھ ماہ میں 66ارب ڈالر کی اسٹاک مارکیٹ، کیسے 48ارب ڈالر تک سکڑ گئی، عوام بیچارے تو اس پہ بھی چپ سادھے ہوئے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو ملکی قرضوں کو 30ہزار ارب روپے تک پہنچانے کے طعنے دینے والی موجودہ حکومت نے صرف آٹھ ماہ میں 3300 ارب روپے قرضے لے کر نیا ریکارڈ کیوں بنا دیا، وہ تو سوال پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کرتے کہ قرضوں پہ سود کی ادائیگی کے لئے نئے قرضے لینے والی حکومت نے سات سے آٹھ سو ارب روپے سود ادا کیا، قرض کی مد میں لئے گئے باقی 2500ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، وہ تو یہ استفسار بھی نہیں کرتے کہ محصولات میں 300ارب روپے کی کمی کیونکر واقع ہوئی، نہ ہی انہیں اس سے کوئی سروکار ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے چھ ماہ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 77فیصد تک کمی کیوں واقع ہوئی، انہیں تو اس سے بھی کوئی لینا دینا نہیں کہ جولائی سے فروری تک بجٹ تخمینے کے برعکس غیر ملکی امداد میں تقریباً 3ارب ڈالر کی کمی کیسے وقوع پذیر ہو گئی، دوست ممالک سے اربوں ڈالرز ادھار لینے کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر روزانہ ایک ارب ڈالر کی شرح سے کیوں سکڑتے جا رہے ہیں، گردشی قرضوں میں کیسے ڈیڑھ ارب روپے روزانہ کے حساب سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوام تو خان صاحب کی کہی ہوئی باتوں سے لے کر ان کے یوٹرنز تک سب پہ ایمان لاتے ہوئے بغیر گھبرائے مجموعی ترقی کی شرح کو 5.8فیصد سے 3.5فیصد تک گرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، انہوں نے تو اسٹیٹ بینک کی اس رپورٹ کو بھی خاطر میں لانا مناسب نہیں سمجھا جس میں انہیں جھنجھوڑا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح مارچ میں گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین سطح 9.4 فیصد تک جا پہنچی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.5فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ دور کے اسی عرصے میں 3.8فیصد تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پہ میرے جیسے چند عقل و فہم سے عاری لوگوں نے سوشل میڈیا پہ جناب وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر کو ان کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دے کر شرمندہ کرنے کی توہین کی ہے لیکن صد شکر عوام کی اکثریت ایسے شر پسندوں کی باتوں پہ کان دھرنے کے لئے تیار نہیں اور انہیں صرف اپنے ہینڈسم وزیراعظم عمران خان کا یہ جملہ ہی کانوں میں رس گھولنے کے لئے کافی ہے کہ پاکستانیو! گھبرانا نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں