آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد آج سے پاکستان کے ساتھ 7 سے 8 ارب ڈالر کے پروگرام کے لیے مذاکرات شروع کرے گا۔

یہ مذاکرات بائیسویں پروگرام کے لیے ہوں گے، اس سے پہلے پاکستان نے 21 پروگراموں کے ذریعے 14 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرضوں پر مشتمل پروگرام لیے۔

آئی ایم ایف کے رکن ممالک مختصر مدتی اور درمیانی مدت کے لیے قرض لیتے ہیں، یہ قرض 12 سے 18ماہ میں دیا جاتا ہے ، جو بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیےلیا جاتا ہے۔

پاکستان نے سب سے پہلے 1958ء میں آئی ایم ایف سے تین لاکھ ڈالر کا قرض لیا، 1958ء سے لے کر 1977ء تک 7 پروگرام لیے گئے جو ایک سال کی مدت کے لیے تھے۔

1980ء سے لے کر 1995ء تک بھی 7 پروگرام لیے گئے، ان پروگراموں کا دورانیہ بھی ایک سال کا ہی تھا۔

1997ء سے لے کر 2013ء تک 6 پروگرام لیے گئے جن کا دورانیہ 3 سال پر محیط تھا جبکہ آخری پروگرام 2013ء میں شروع ہوا جس کا دورانیہ 3 سال اور ادھار لی گئی رقم 6 ارب 40 کروڑ ڈالر تھی، یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا قرض تھا۔

اب موجودہ حکومت ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے 7 سے 8ارب ڈالر کا قرض 3 سال کی مدت کے لیے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آئی ایم ایف سے قرض لینے پر بہت سی شرائط لاگو ہوتی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار آئی ایم کی طرف سے عائد کی جانے والی شرائط کچھ زیادہ ہی سخت ہوں گی۔

معاشی ماہرین کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ آئی ایم ایف کے قرض سے شاید ہی کسی ملک کی معیشت میں بہتری آئی ہو۔

تجارتی خبریں سے مزید