آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس کی سیر کے دوران آپ مغربی تہذیب اور تاریخ سے روشناس ہوں گے۔ یہاں آپ کو تعمیراتی عجائب کے حیران کن مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ وسط ادوار کی رومی وگو تھک عمارات، نشاہ ثانیہ دور کے باذوق اسٹائل، 1840ء میں نوکلاسیکی ادوار سے متاثرہ طرز تعمیر،1880ء میں آرٹ نوویئو اور1885ء میں آرٹ بیوکس کے طرزِ تعمیرات نے فرانس کو مغربی آرکیٹیکچرکا ڈزنی ورلڈ بنادیا، جہاں شاہی محلات، کیتھڈرلز اور میوزیمز موجود ہیں۔ پیرس کے ایکول نیشنل ڈیس بیوکس کو دنیاکا سب سے بہترین آرکیٹیکچر اسکول مانا جاتا ہے۔ فرانس کا آرکیٹیکچر قبل از تاریخ کے ادوار میں غاروں میں مصوری سے شروع ہوتاہے ۔ ان ادوار کے 20سے زائد مصورانہ غاروں پر مشتمل علاقے ویزری ویلی کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ آج جہاں فرانس ہے، چوتھی صدی میں وہاں مغربی رومی سلطنت تھی، جس کی قدیم رومی تعمیرات نیمائوسس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ فرانس کی چند شاہی تعمیرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ورسائے محل

فرانس کے شاہی آرکیٹیکچر کی منفرد مثال ورسائے محل (Palace of Versailles) میں فرانس کے فن تعمیر کے تمام تجربات ایک ہی چھت تلے یکجا ہیں۔ یہاں باروق فن تعمیر، نشاۃ ثانیہ کی تجدید اور نوکلاسیکی اسٹائل کی مرکزی عمارات فرانس کی شاہی عظمت کی قابل فخر علامات کے طور پر آپ کا استقبال کریں گی۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی کا یہ شاہکار محل آج میوزیم کی صورت میں دیکھنے والوں کے لئے ماضی کے سنہری دور کو حال میں متعارف کرانے کے جملہ سامان رکھے ہوئے ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے جنوب مغربی سمت 20کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس محل کو RERسب اربن ریل سے جوڑ کر فرانس کے سب سے ہر دلعزیز سیاحتی مقام کا درجہ دیا گیا ہے۔ 

لوئرے محل

لوئرے محل (Louvre Palace) پیرس میں دریائے سین کے دائیں کنارے واقع ہے۔ وسطی دور میں یہ قلعہ تھا، جسے شاہ فرانس چارلس نے 14ویں صدی میں شاہی محل کی صورت دی۔ وقتاً فوقتاً یہ شاہانِ فرانس کی پیرس میں مرکزی رہائش گاہ رہا۔ اس کا موجودہ آرکیٹیکچر 16ویں صدی سے تعلق رکھتاہے، جس میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔1793ء میں اسے عوامی عجائب گھر بنا دیا گیا، جو آج میوزے ڈیو لوئرے کہلاتا ہے۔ موجودہ لوئرے کمپلیکس وسیع شاہی عمارات پر مشتمل ہے۔ اس کا آرکیٹیکچر وسطی و نشاۃ ثانیہ کے ادوار کی یاد تازہ کرتاہے، جسے عرف عام میں ’پرانا لوئرے‘ کہا جاتاہے جبکہ ’نیا لوئرے‘ 19ویں صدی کے تعمیراتی شاہکاروں سے سجایا گیا ہے۔

شیٹیو ڈی بلوائس

شیٹیو ڈی بلوائس(Château de Blois)محل فرانس کی وادی لوائر میں بلوائس شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ یہ کئی عمارتوں پر مشتمل محل ہے، جن کی تعمیرات 13ویں اور 17ویں صدی کے آخر تک ہوتی رہیں۔ یہاں آپ کو چار آرکیٹیکچرل اسٹائل ملیں گے، جن میں قلعہ لوئس XII گوتھک ونگ، فرانکوئس I رینائسنس ونگ اور گیسٹن آف اورلینز کلاسیکل ونگ شامل ہیں۔ اس محل میں 564کمرے اور 75سیڑھیاں اور100بیڈ رومز ہیں۔ گوتھک، اطالوی اور رومی طرز ہائے تعمیرات پر مبنی یہ دیدہ زیب عمارات فرانس کے فنی ذوق کی منفرد مثال ہیں۔1840ء میں اسے تاریخی ورثہ قرار دیا گیا۔

لگزمبرگ محل

1615ء میں لگزمبرگ محل(Luxembourg Palace)فرنیچر آرکیٹیکٹ سلومن ڈی بروس نے شاہ فرانس لوئس XIII کی والدہ ریجنٹ میری ڈی میڈسی کی شاہی رہائش گاہ کےطور پر بنایا۔ انقلاب فرانس کے بعد اس کی توسیع اور تزئین و آرائش کا کام جاری رہا۔اس میں فرانس کی عظیم شخصیات کے آویزاںسات مجسمے، دیکھنے والوں کو فرانس کی دانشورانہ تاریخ کا پتہ دیتے ہیں جبکہ چھتوں پر مصوری کے شاہکار رومی نشاۃ ثانیہ کی یاد دلاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس محل کو معمولی سانقصان پہنچا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں