آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرمیوں میں ہر کوئی درختوں کی چھاؤں میں بیٹھنا اور سبزہ زار میں وقت گزارنا پسند کرتا ہےکیونکہ ہرے بھرے پودے گرمی کی شدت کو کم کرتے ہیں۔ آپ کے گھر میں اگر درخت یا سبزہ زار ہے تو آپ کی شامیں ٹھنڈی گزر سکتی ہیں اور اگر آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو گرمیوں کے موسم میں آپ نہ صرف سبزیاں ، پھول اور پودے لگا سکتی ہیں بلکہ باغبانی سے حاصل ہونے والی سبزیاں بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ ان کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے اُگائی ہوئی سبزیوں کی خوشی سے مزہ دوبالا ہو جاتاہے۔

موسم گرما کی سبزیاں

موسم گرمامیں ٹماٹر، بینگن، کریلا، شملہ مرچ، ہری مرچ، توری، اروی، بھنڈی، ہلدی، کدو، آلو وغیرہ اُگائی جاتی ہیں۔ ان کی کاشت فروری مارچ سے شروع ہوتی ہے اور ستمبر اکتوبر تک جاری رہتی ہے۔

بیج سے کاشت

موسم گرما میں کھیرا، بھنڈی، خربوزہ اور تربوز براہ راست بیج سے کاشت کیے جاتے ہیں۔

پنیری سے اُگنے والی سبزیاں

اس موسم میں شملہ مرچ، ہری مرچ ، بینگن ، ٹماٹر اور بیلوں والی سبزیاں پنیری کے ذریعے ٹرے یا پلاسٹک کی تھیلیوں میں اُگائی جاسکتی ہیں۔

پودوں سے اُگنے والی سبزیاں

پودینہ ، اروی، شکر قندی، آلو، ادرک اور ہلدی ایسی سبزیاں ہیں ، جن کے کسی بھی حصے کو آپ کاشت کرسکتی ہیں۔

گھر میں باغبانی کیسے کی جائے ؟

گھر میں باغبانی کیلئے ذیل میں درج باتوں کا دھیان رکھیں۔

٭ ایسے مقام کا انتخاب کریں، جہاں کم سے کم 5گھنٹے دھوپ آتی ہو۔

٭ وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو۔

٭■زمین اچھی ہو ورنہ کھاد استعمال کرکے زمین کو زرخیز بنایا جاسکتاہے ۔

٭ موسم کی مناسبت سے بیج اور پنیری دستیاب ہو ۔

٭ پودوں کیلئے حفاظتی اقدامات ہو ں۔

باغبانی کیلئے درکار اوزار

کچن گارڈننگ کیلئے آپ کے پاس درانتی، کدال، ریک، کھرپی اور پانی دینے کیلئے پائپ یا ڈول ہونا چاہئے۔

زمین کی تیاری

زمین کا بالائی حصہ اہم ہوتا ہے کیونکہ اسی حصے سے پودا پانی اورخوراک حاصل کرتاہے۔ اس لیے تقریباً ایک فٹ گہرائی تک زمین کو نرم اور بھربھرا کرلیں ۔ پتھر، پلاسٹک ،کنکر وغیرہ نکال کر اچھی طرح صفائی کرلیں اور اس میں اچھی طرح کھاد ملا دیں۔

اہم مشورے

٭سب سے پہلے خاکہ بنا کر نشاندہی کرلیں کہ کس جگہ کونسی سبزی لگانی ہے ۔

٭باغیچے کے گرد حفاظتی باڑ لگائیںتاکہ پرندے وغیرہ پودوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔

٭بیج یا پنیری ہمیشہ معیاری استعمال کریں۔

٭پودے لگانے سے پہلے ان کے فاصلے کا خیال رکھیں۔

٭سبزی چنتے وقت ہاتھ کے بجائے قینچی سے کاٹیں تاکہ پودا خراب نہ ہو ۔

٭چنی ہوئی سبزی فوراً پکالیں تاکہ تازہ سبزی کا ذائقہ برقرار رہے۔

٭کیڑوںسے بچانے کیلے اسپرے بوتل میں پانی لے کر اس میں ایک چمچ کوکنگ آئل اور ایک چمچ سرف ملالیں۔ پودوں پر چھڑکائو کرنے سے پودے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہیں گے۔

گرمیوں کے پھول

گرمیوں کے پھولوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے، لیکن ہم ان پھولوںکی بات کریں گے جوبآسانی اُگائے جاسکتےہیں۔

فوٹولاکا

گملوں اور کیاریوں کے کناروں کیلئے سب سے سستا پھول فوٹولاکاہے، جسے گلِ دوپہری بھی کہا جاتاہے ۔ اسے جتنی زیادہ دھوپ لگتی ہے، اتنا زیادہ یہ کھِلتا ہے۔ بہت سارے رنگوں میں کھلنے والے پھو ل پنیری سے لگائے جاتے ہیں لیکن انھیں بہت زیادہ پانی دینے سے گریز کریں ۔

عمودی باغبانی

کچن گارڈننگ کے علاوہ آپ پھول اور پودے چھت پر بھی لگا سکتےہیں، تاہم اگر چھت پر بھی جگہ نہ ہوتو اس کاحل عمودی باغبانی یعنی ورٹیکل گارڈننگ میں ہے۔ عمودی باغبانی میں زمین کے بجائے دیواروں پرمختلف فاصلوں پر سہاروں کے ذریعے پودے لگائے جاتے ہیں، جو نشوونما پاتے ہیں تو پوری دیوار کو ڈھک دیتے ہیں۔

کنیر

موریطانیہ یا پرتگال سے آیا گہرے سبز پتوںاور ٹہنیوں کے سروں پر گلابی سرخ یا سفید خوشنما یہ پھول کنیر کہلاتاہے۔ کم پانی اور تیز دھوپ میں کنیر کا پودا ساری گرمیاں پھول دیتا ہے۔

رات کی رانی

رات کی رانی مسحور کن خوشبو سے بھرپور پودا ہے، جو پورے گھر کو مہکا سکتا ہے۔ جھاڑی نما اسے پودے کو گملے میں بھی اُگایا جاسکتا ہے لیکن زمین پر اُگانےسے آپ کو زیادہ پھول ملیں گے۔ 

خواتین کا جنگ سے مزید