آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

داکٹر شکیل احمد

دینِ اسلام میں ہر بالغ فرد پر روزہ فرض ہے، لیکن ایسے افراد، جن کی صحت کو کسی عارضے کے سبب خطرہ لاحق ہو، انہیں استثنیٰ دیا گیا ہے۔ تاہم، بعض عوارض میں مبتلا مریض بعد ازاں روزے رکھ سکتے ہیں، تو چند عوارض ایسے بھی ہیں، جن میں اپنے معالج کے مشورے سے احتیاطی تدابیر اختیار کر کے روزے رکھے جاسکتے ہیں۔ ان ہی عوارض میں ذیابطیس بھی شامل ہے۔ دُنیا بَھر میں اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق415 ملین افراد ذیابطیس کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان میں مسلمانوں کی تعداد 148ملین ہے، جن کی اکثریت روزے رکھتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرینِ ذیابطیس نے مریضوں کو ان کی کیفیات کے لحاظ سے تین گروپس میں منقسم کیا ہے۔پہلے گروپ میں وہ تمام مریض شامل ہیں، جنہیں گزشتہ تین ماہ یا رمضان سے چند ہفتے قبل شدید ہائپو کی شکایت(خون میں شکر کی مقدار کا گر جانا) ہوئی ہو اور اس مسئلے کی وجہ سے اسپتال جانے کی نوبت پیش آئی ہو۔ یا پھر ڈائی بیٹک کوما(diabetic coma)کا شکار ہوئے ہوں، جوکہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جانے کے سبب ہوتا ہے۔ جنہیں ذیابطیس ٹائپ وَن پر کنٹرول نہ ہو۔ جنہیں خون میں شکر کی مقدار کم ہونے کا احساس نہ ہو یا ایسی حاملہ خواتین، جو دورانِ حمل جی ڈی ایم (Gestational diabetes Mellitus) کا شکار ہوئی ہوں۔ انسولین استعمال کرنے والے وہ افراد ،جن کا ڈائی لیسز ہورہا ہو یا جن کا ای جی ایف آر (Estimated Glomerular Filtration Rate) 15تا 59ملی لیٹر فی منٹ کے درمیان ہو۔کرونک کڈنی ڈیزیز کے گریڈ 3اور 4کے مریض، جنہیں ذیابطیس کی پیچیدگیاں لاحق ہوں مثلاً پیروں میں زخم وغیرہ اور ذیابطیس کےشکار ایسے ضعیف العُمر افراد، جن کی صحت اچھی نہ ہو،ان تمام افراد کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے ۔

دوسرے گروپ کے مریض بھی مرض کے اعتبار سے خطرے کے حامل ہیں، مگر انہیں پہلے کی نسبت خطرہ کم ہوتا ہے۔ مثلاً ایسے مریض جو ذیا بطیس ٹائپ ٹو کا شکار ہوں، مگر شوگر کنٹرول خراب ہو۔ ٹائپ وَن سے متاثرہ ہوں، مگر شوگر کنٹرول اچھا ہو۔ ٹائپ ٹو کے ایسے مریض، جو دِن میں ایک یا زائد بار انسولین استعمال کرتے ہوں۔ ٹائپ ٹو سے متاثرہ حاملہ۔ وہ افراد، جنہیں ذیابطیس کے ساتھ دِل کا عارضہ بھی لاحق ہو، ذیا بطیس سے متاثرہ ایسے مریض، جو مشقّت طلب کام کرتے ہوں مثلاً مزدوری وغیرہ یا ایسی ادویہ استعمال کرتے ہوں، جو کام کرنے کی صلاحیت متاثر کریں۔ ایسے تمام افراد اگر روزہ رکھنے کا ارادہ کرلیں، تو ضروری ہے کہ نہ صرف مستند معالج کی ہدایت پر عمل کریں، بلکہ اُس سے رابطے میں بھی رہیں۔ نیز، دورانِ روزہ خون میں شکر کی مقدار کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں روزہ کھول لیں۔

تیسرے گروپ کے مریضوں کو دوسرے گروپ کے مقابلے میں خطرہ مزید کم ہوتا ہے۔ یعنی ان کےخطرے کا لیول درمیانے درجے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ ایسے افراد میں وہ مریض شامل ہیں، جو ذیابطیس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہوں اور مرض پر کنٹرول بھی اچھا ہو۔ چند مخصوص ادویہ یا انسولین استعمال کررہے ہوں۔ یہ افراد روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنے معالج سے غذائی چارٹ اور ادویہ کی خوراک تجویز کروالیں، تاکہ کسی ایمرجینسی کی صورت پیش نہ آئے۔ واضح رہے کہ بعض علماء کے مطابق دورانِ روزہ ضرورت پڑنے پر انسولین کا انجیکشن لگایا جاسکتا ہے، جب کہ عام طور پر استعمال کی جانے والی انسولین بھی افطار سے 20منٹ قبل لگائی جاسکتی ہے۔اسی طرح اگر خون میں شکر کی مقدار کم ہو جائے، تو فوری طبّی امداد کے لیے گلوکوز ڈرپ لگوانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ نیز، دورانِ روزہ کسی بھی وقت خون میں شکر کی مقدار بھی جانچ سکتے ہیں، اس سے روزہ قائم رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، اگر دورانِ روزہ کسی بھی وقت شکر کی مقدار 70ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم یا 300ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے بڑھ جائے، تو فی الفور روزہ کھول دینا چاہیے، بصورتِ دیگر جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

عام طور پر مریض روزے کے دوران تین قسم کے طبّی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جانا یا بڑھی ہوئی شکر کا کوما ، شکر کی مقدار کم ہو جانا یاکم شکر کا کوما اور تیسرا پانی کی کمی یا خون کا لوتھڑا بن جانا ۔طبّی اصطلاح میں جب ذیابطیس سے متاثرہ مریض کے خون میں شکر کی مقدار کم ہونے لگتی ہے، تو یہ کیفیت ’’ہائپو ‘‘کہلاتی ہے، جس کی عام علامات میں شدّت سے بھوک لگنا، ہاتھوں، پیروں میں لرزہ، دِل کی دھڑکن میں تیزی، ذہنی کیفیت میں تبدیلی، کنفیوژن اور سَردرد وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے برعکس اگر خون میں شکر کی مقدار بڑھ جائے، تو شدید پیاس و بھوک لگتی ہے۔نیز، بار بار پیشاب کی حاجت، تھکاوٹ، کنفیوژن، قے یا متلی کی شکایت، دھندلا نظر آنے اور پیٹ میں درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ دونوںصورتوں میں صرف علامات ہی پر انحصار نہ کیا جائے، بلکہ جس قدر جلد ہوسکے، خون میں شکر کی مقدار جانچ لیں، جو ایک مخصوص آلے’’ گلوکومیٹر ‘‘کے ذریعے ممکن ہے۔ یاد رہے، ذیابطیس کےتمام مریضوں کوماہِ صیام میں اپنے ساتھ گلوکومیٹر ضرور رکھنا چاہیے۔ بعض اوقات ذیابطیس کے مریضوں میں پانی کی کمی بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ پانی کی کمی کے باعث خون میں گاڑھا پَن پیدا ہوجائے، تو فالج اور بلڈ کلوٹنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ذیابطیس سے متاثرہ افراد کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس گروپ میں شامل ہیں، دورانِ روزہ کن اوقات میں خون میں شکر کی مقدار جانچی جائے،نارمل مقدار کیا ہو، کتنے ملی گرام کم ہونے یا بڑھنے پر تاخیر کیے بغیر روزہ کھول دیا جائے، افطار وسحر میں کس طرح کی غذائیں استعمال کی جائیں، ادویہ کی خوراک کتنی ہو، ورزش کے لیے مناسب وقت کون سا ہے ؟وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام تر سوالوں سے آگاہی کے لیے معالج سے رابطہ ازحد ضروری ہے،کیوں کہ ایک ماہرمعالج ہی مریض کی کیفیات مدِّنظر رکھتے ہوئے غذا، ادویہ اور دیگر معمولات میں مناسب تبدیلیاںکرسکتا ہے، تاکہ روزے کے دوران کسی ہنگامی صورتِ حال سے محفوظ رہا جاسکے۔عمومی طور پر ماہِ رمضان میں دِن کےمختلف اوقات میں خون میں شکر کی مقدار کا تناسب کچھ یوں ہونا چاہیے۔سحری سے قبل 80تا 120ملی گرام فی ڈیسی لیٹر،سحری کے دو گھنٹے بعد 140تا ملی گرام فی ڈیسی لیٹر، ظہر کے وقت 120تا140ملی گرام فی ڈیسی لیٹر، افطار سے قبل (عصر اور مغرب کے درمیان) 100تا 120ملی گرام فی ڈیسی لیٹر، جب کہ افطار کے دو گھنٹے بعد 140تا 200ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ۔ اگر خون میں شکر کی مقدار مقررہ حدود سے کم یا زیادہ ہو جائے، تو فوراً ماہرِ امراضِ ذیابطیس سے رجوع کریںاور اس کی ہدایت پر سختی سے عمل کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے اور دوسرے گروپ کے مریض دِن میں چار بار، جب کہ تیسرے گروپ کے مریض دو بار خون میں شکر کی مقدار لازماً جانچیں۔ چوں کہ دورانِ رمضان کھانے پینے کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے، تو زیادہ بہتر تو یہی ہے کہ اپنے معالج کے مشورے سےکسی ماہرِ اغذیہ سےایک غذائی چارٹ مرتّب کروالیا جائے۔ تاہم، عمومی طور پر ذیابطیس کے مریض سحری میں دو چمچ تیل سے بنا پراٹھا، ایک کپ سالن یا ایک انڈا یا پھر آدھا کپ دال، ایک کپ چائے یا ایک گلاس لسّی استعمال کرسکتےہیں۔ افطار ایک درمیانے سائز کی کھجور سے کی جائے۔ ایک کپ فروٹ چاٹ (بغیر نمک اور چینی)، دو یا تین چھوٹے پکوڑے یا ایک سموسہ یا پھر ایک سبزی کا رول بھی کھایا جاسکتا ہے۔ اگر بہت زیادہ دِل چاہے، تو تھوڑے سے چنوں کی چاٹ کھانے میں کوئی حرج نہیں ، جب کہ مشروب میں لیموں پانی، چینی کے متبادل سے تیار کیاجائے، جس میں نمک شامل نہ ہو۔ رات کا کھانا ضرور کھائیں، اس کے لیے آدھی پلیٹ سلاد، ڈیڑھ چپاتی یا ڈیڑھ کپ چاول (اُبلےہوئے)، آدھا کپ دال (ایک چمچ تیل میں بنی ہوئی) یا آدھا کپ بُھجیا(ایک چمچ تیل میں بنی ہوئی) یا پھر شوربے والا سالن(جس میں دو بوٹیاں ہوں) استعمال کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ذیابطیس کے مریض افطار میں ایک دِن پکوڑے، اگلے روز رول اور کسی دِن سموسمے استعمال کریں، جب کہ چینی کے مشروبات، میٹھی اشیاء اور کولڈ ڈرنکس سے اجتناب برتیں۔ افطار تا سحر پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ خاص طور پروہ مریض ،جو ذیابطیس کی مخصوص ادویہ استعمال کر رہے ہیں، وہ پانی کی مقدار میں ایک سے ڈیڑھ گلاس کا اضافہ ضرورکرلیں۔ جہاں تک ورزش کا معاملہ ہے، تو اگر آپ تراویح پڑھ رہے ہیں، پھر آپ کو کسی قسم کی ورزش کی ہرگز ضرورت نہیں۔ لیکن اگر تراویح نہیں پڑھ رہے، تو رات کھانے کے دو گھنٹے بعد یا سحری سے قبل واک ضرورکریں۔ البتہ عصر سے مغرب کے درمیان، خصوصاً افطار سے کچھ قبل کسی قسم کا مشقّت والا کام، ورزش یا واک نہ کریں۔ اس دورانیے میںزیادہ سے زیادہ آرام کریں۔ جہاں تک ادویہ کی خوراک اور اوقات میں ردّوبدل کا معاملہ ہے، تو اس حوالے سے اپنے معالج سے مشورہ کرلیں، تاکہ آپ کے مرض کی نوعیت کے مطابق چارٹ ترتیب دیا جاسکے۔

(مضمون نگار، کنسلٹنٹ ڈائیبٹالوجسٹ ہیں اور ماڈرن کنسلٹنٹ کلینک، ڈیفینس، کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں