آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن اور ویلز میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019کے آغاز میں کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ 10بہترین ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کیلئے بھرپور تیاری کررہی ہیں۔ تمام ٹیموں نے اپنے اپنے اسکواڈز کابھی اعلان کردیا ہے۔ جس میں کئی پلیئرز پہلی بارعالمی کپ میں شرکت کرینگے جبکہ کئی ایسےسینئر اور تجربہ کار پلیئرز ہیں جو کئی بارمیگا ایونٹ میں حصہ لے چکے ہیں ۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے اپنی اپنی ٹیموں کو عالمی اعزاز بھی دلایا۔

کئی سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں نے اس ورلڈ کپ کو اپنے کیرئیر کا آخری میگا ایونٹ قرار دیا جبکہ یہ عالمی کپ کئی سینئر پلیئرز کیلئے بھی الوادعی ورلڈکپ ثابت ہوسکتا ہے۔

آئیں ان سینئرپلیئرز کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔

شعیب ملک

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک نے قومی ٹیم کیلئے کئی کردار ادا کئے، اوپننگ،فیلڈر،لوور آڈرر بیٹسمین سے لیکر آف اسپنر تک عمدہ پرفارمنس کامظاہرہ کرچکے ہیں۔

شعیب ملک کا شمار بھی کچھ لیجنڈ پلیئرز میں ہوتا ہے جنہوں نے سال 4اکتوبر 1999 میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا اور تاحال ایکٹیو ہیں۔ شعیب ملک اور محمد حفیظ قومی ٹیم کے سنیئر اور تجربہ کار پلیئرز ہیں۔ 37سالہ سابق کپتان پہلے ہی کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکےہیں۔ وہ دوسری اور آخری بارعالمی کپ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز پاکستان کیلئے ایک ڈرؤانا خواب ثابت ہوا ان کی قیادت میں پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-5سے وائٹ واش ہونا پڑا۔

انہوں نے 2007 میں پہلی بار ورلڈ کپ سابق کپتان اور موجود چیف سلیکٹر انضمام الحق کی قیادت میں ٹیم کی نمائندگی کی۔ انہوں نے 282میچز میں 7481رنز بنائے جبکہ 156وکٹیں حاصل کیں۔

انہوں نے اپنے کیرئیر میں 9سنچریاں اور 44ففٹیز بنائی اور بہترین فیلڈنگ کرتے ہوئے 96کیچز تھامے۔

محمد حفیظ

قومی کرکٹ ٹیم نے چند سنیئرز کھلاڑی کے علاوہ 10نئے کھلاڑیوں کا اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔ ’’پروفیسر‘‘ محمد حفیظ ان چند سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ 38سالہ کرکٹر نے 3اپریل 2003 میں زمبابوے کیخلاف ون کرکٹ کا آغاز کیا۔ وہ ممکنہ طور پر تیسرا اور آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے۔

محمد حفیظ اگر چہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کپتان رہے لیکن ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ ورلڈ کپ میں ان کی پرفارمنس خاطر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے 2007 اور 2011ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے 208میچز میں33.0 کی اوسط سے 6302رنز بنائے۔ وہ 11سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں داغ چکے ہیں۔

انہیں گزشتہ عالمی کپ بھی قومی ٹیم کا حصہ بنایاگیا تھا لیکن وہ ایونٹ کے 6روز قبل پنڈلی کی انجری میں مبتلا ہونے کے باعث شرکت نہ کرسکے ۔ بعدازاں ان کی جگہ ناصر جمشید کوٹیم میں شامل کیا گیا ۔

خیال رہے کہ اوپننگ بیٹسمین پاکستان سپر لیگ سیزن فورمیں اپنا انگوٹھا تڑوانے بیٹھے تھے، اس کے بعد سے انہوں نے اب تک کرکٹ شروع نہیں۔ انہوں نے یویو ٹیسٹ تو پاس کرکے قومی ٹیم میں جگہ بنائی لیکن میگا ایونٹ سے قبل انہیں خود کو فٹ ثابت کرنا ہوگا۔

روزٹیلر

8مارچ 1984کو ویلنگٹن میں پیدا ہونے والےروزٹیلر چوتھی بار میگا ایونٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔انہوں نے 2006 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ سے ون ڈے کرکٹ میں انٹری دی۔

کیوی بیٹسمین روز ٹیلر2011ورلڈ کپ میں پاکستان کیخلاف میچ میں 131رنز کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے ناقابل شکست رہے۔ ان کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف 302رنز اسکور کیا۔

روزٹیلر ون ڈے کرکٹ کے چوتھے بیٹسمین ہیں جنہوں نے اپنی سالگرہ کے دن کے موقع پر تھری فیگرز میںاننگز کھیلی۔اس سے قبل ونود کامبلی، سچن ٹنڈولکر اور سانتھ جے سوریا اپنی سالگرہ کے دن سنچریزبناچکے ہیں۔گزشتہ عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی بار فیصلہ کن مرحلے میں پہنچی اوروہ اس وقت بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔

35سالہ راس ٹیلر مارچ 2010میں آسٹریلیا کیخلاف ایک میچ میں قومی ٹیم کی قیادت بھی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے 81گیندوں پر سنچری بنائی اور تیز ترین سنچری بنانے والے پہلے کیوی کھلاڑی بن گئے۔ روز ٹیلر کو قومی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 20 سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

شان مارش

آسٹریلین کرکٹ ٹیم عالمی کپ میں ٹائٹل کا دفاع کریگی۔ آسٹریلیا نے پہلی بار 35سالہ شان مارش کو 15رکنی اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ وہ 2008سے ون ڈے کرکٹ میچز کھیل رہے ہیں لیکن وہ کبھی عالمی کپ کیلئے آسٹریلوی ٹیم میں جگہ نہ بناسکے۔ البتہ ان کے بھائی مچل مارش فاتح ٹیم آسٹریلیا کا حصہ تھے۔

30مئی سے شروع ہونے والے میگا ایونٹ میںوہ غالباً پہلی اور آخری بار ایکشن میں نظر آئیں گے۔اوپننگ آسٹریلیوی بیٹسمین شان مارش نے 2008میں ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے سیریز سے ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ سے آغاز کیا۔ انہوں نے حال ہی میںپاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز میں دو نصف سنچریاںبنائی۔

انہوں نےاپنے 11سالہ کیرئیر میں 71میچز کھیلے جس میں انہوں نے 7سنچریوں اور 15نصف سنچریوں کی بدولت 2747رنز بنائے۔

ہاشم آملہ

جنوبی افریقی مسلم بیٹسمین ہاشم آملہ کی آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے ان کی شرکت میگا ایونٹ میں مشکوک تھی لیکن اس کے باوجود جنوبی ا فریقا نے تجربہ کار اوپنر ہاشم آملہ کو اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے گزشتہ برس بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ون ڈے کرکٹ میںتیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔انہوں نے یہ سنگ میل 167اننگز میں عبور کیا۔

31مارچ 1983کو ڈربن، جنوبی افریقا میں پیدا ہونے والے بیٹسمین نے 2008 میں بنگلہ دیش کیخلاف ون کرکٹ کا آغاز کیا۔

وہ 174 ایک روزہ عالمی مقابلے کھیل کر 8000 کے لگ بھگ رنز اسکور کر چکے ہیں۔ اسی شعبے میں ہاشم کی اوسط 49.74فیصد ہے۔انہوں نے 27سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں بنائی۔ 36سالہ ہاشم آملہ مسلسل تیسری بار میگا ایونٹ میں کھیلیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے 2011 اور2015ورلڈ کپ میں شرکت کی۔

ڈیل اسٹین

جنوبی افریقی ٹیم کے تباہ کن فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کا شمار ورلڈ کلاس بولروں میںہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نےانڈین پریمیئر لیگ 2019کے دومیچز میں رائلز چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کی اور کاندھے کی انجری میں مبتلا ہوگئے۔

35سالہ بولر غالباً ہاشم آملہ کی طرح تیسری بار ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کی بہترین بولنگ ناگپور میں ہونے والے2011 ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں بھارتی ٹیم کیخلاف کی تھی جس میں انہوں نے 50رنز کے عوض5بھارتی بیٹسمینوں کو ڈریسنگ روم بھیجے۔

27جون 1983میں پیدا ہونےو الے کھلاڑی نے 2005 میں پہلا ون ڈے کرکٹ میچ کھیلا اور125میچز میں 196کھلاڑیوںکو میدان بدر کیا۔

خیال رہے کہ انہوں نے2018 میں پاکستان کیخلاف باکسنگ ٹیسٹ میچ میںدو وکٹیں لے کر سابق فاسٹ بولر شان پولک کا ریکارڈ توڑ ااور جنوبی افریقا کی جانب سےٹیسٹ کرکٹ سب سے زیادہ 422وکٹیں لینے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ انہوں نے یہ کارنامہ 89میچز کھیل کر انجام دیا جبکہ شان پولک نے 108میچز کھیل کر 421وکٹیں حاصل کیں تھی۔

جے پی ڈومینی

جنوبی افریقی آل راؤنڈرجے پی ڈومینی نے بھی ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے فارمیٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن وہ ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہیں گے۔ وہ 2011 سےعالمی کپ میں شرکت کررہے ہیں۔

35سالہ لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین اور رآف اسپنر کئی ماہ سے انجری کے باعث کرکٹ کے میدان سے دور تھے جس کے بعد وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور پرہوئے۔ انہوں نے2004میں سری لنکا کیخلاف ون ڈے سیریز میں ڈیبیو کیا تھا۔ ان کا پورا کیرئیر انجری کی نذر ہوگیالیکن اس کے باوجود وہ جنوبی افریقا کے ٹاپ 10پلیئرز میں سے ایک ہیں جنہوں نے 194میچز کھیل کر 5047رنز بنائے۔

خیال رہے کہ انہوں نے 2015ورلڈ کپ کواسٹر فائنل میں سری لنکا کےخلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے پہلے جنوبی افریقی کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے اینجلیو میتھیوز،نووان کلاسیکرااور تھرندو کوشل کو پویلین کی راہ دکھا ئی۔

ایم ایس دھونی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ایم ایس دھونی اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ341 ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچز کھیلنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین نے اپنے 15سالہ کیرئیر میں سب کچھ حاصل کرلیا۔ دھونی کی قیادت میں بھارت نے 2011 میں دوسری بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا۔

مہندر سنگھ دھونی واحد کپتان ہیں جن کی کپتانی میں بھارت نے 2007 آئی سی سی کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ، 2011 ورلڈ کپ (2011 میں) اور 2013آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کئے۔ انہوں نے 2004 میں انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کرتے ہوئے 2007 -2016 تک بھارتی ٹیم کی قیادت کی۔

37سالہ وکٹ کیپر ون ڈے کرکٹ میں 10ہزار رنز مکمل کرچکے ہیں۔ ان کو پہلے بھارتی وکٹ کیپر بننے کا اعزاز حاصل ہے جس نے وکٹوں کے پیچھے 300شکار کئے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کامیاب کپتان مہندر سنگھ دھونی کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ الوادعی ورلڈ کپ ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ چوتھی بار عالمی کپ میں کپتان ویرات کوہلی کی قیادت میں ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

مشرفی مرتضیٰ

رواں عالمی کپ میں ہی مشرفی مرتضیٰ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گے۔ فاسٹ بولر 2019 میں اپنا آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے، انہوں نے حال ہی میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تاہم وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں وہ ملک کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ 35سالہ فاسٹ بولر مشرفی مرتضیٰ کو گزشتہ سال ٹیم کی کمان سونپی گئی تھی اور ان کی قیادت میں بنگلہ دیش تاریخ میں پہلی بار کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے بھارت کیخلاف 2007 ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج کے پہلے ہی میچ میں ٹیم کو 5وکٹوں سے کامیابی دلائی اور 4وکٹیں لیکر میچ کے بہترین پلیئر قرار پائے۔

انہوں نے ویسٹ انڈیز میں ہونے والے میگا ایونٹ میں ٹیم کو پہلی بارسپر ایٹ کا پروانہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بنگلہ دیش کرکٹ کے فاسٹ بولر مشرفی مرتضیٰ 5اکتوبر 1983کو پیدا ہوئے۔ وہ انہوں نے 2003، 2007،اور2015 آئی سی سی ورلڈکپ کھیل چکے ہیں۔ وہ گھٹنے کی انجری کے باعث 2011ورلڈ کپ میں شرکت کرنے سے محروم رہے۔ بنگال ٹائیگرز کے کپتان اپنے 17سالہ کیرئیر میں 205میچز میں 259 کھلاڑیوں کا شکار کرچکے ہیں۔

کرس گیل

جب کرکٹ کے میدان میں چھکوں چوکوں کی بات آئی تو ’’کالی آندھی‘‘ ویسٹ انڈین ٹیم کے عظیم بیٹسمین کرس گیل کا نام فوراً ذہن میں آجاتا ہے۔ستمبر1999 میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھنے والے کرس گیل مسلسل پانچویں بار عالمی کپ میں حصہ لے رہے ہیں۔

انگلینڈ اور ویلز میں ہونے والے میگا ایونٹ میں جمیکن آل راؤنڈر کرس گیل اپنے کیرئیر کا آخری آئی سی سی ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ ان کی ٹیم دو بار1975اور1979ورلڈ کپ کی چیمپئن بھی رہ چکی ہے لیکن اس کے بعد سے ویسٹ انڈیز ٹیم کوئی بھی ٹائٹل نہیں جیت سکی۔ کرس گیل کو اپنے الوداعی ورلڈ کپ میں روایتی پرفارمنس دکھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نےتینوں فارمیٹ (ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ) میں متعدد ریکارڈز اپنے نام کئے۔ چھکے اور چوکوں کی برسات کرنے والے والے کرس گیل ،چھکے لگانے والوں کی فہرست میں314چھکوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پہلےنمبر پر پاکستان کےسابق آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی 351چھکوں کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔

39سالہ جارحانہ بیٹسمین نے اپنے 19کیرئیر میں 289میچز میں ویسٹ انڈین ٹیم کی نمائندگی کی۔ جس میں 38.16کی اوسط سے10ہزار 151رنز بنائے۔

وہ ، برائن لارا کے بعدویسٹ انڈیز کے بعد دوسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 10ہزار رنز مکمل کئے اور ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں سنچری کرنے والے پہلے بیٹسمین کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

لیستھ ملنگا

’’ڈیتھ بولر‘‘ لیستھ ملنگاچوتھی بار میگا ایونٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ اگرچہ وہ کئی برس سے فارم میں نہیں ہیں لیکن ماضی میں انہوں نے ٹیم کو کئی اہم میچز جیتوائے۔ سری لنکن پیسر لیستھ ملنگا کی تباہ کن بولنگ کی بدولت ٹیم 2007 اور2011ورلڈ کپ کے فائنلز تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ۔

35سالہ فاسٹ بولر نے رواں برس مارچ میں جنوبی افریقا کیخلاف میچ میں ٹیم کی کپتانی کی جس سری لنکا کو ون ڈے سیریز میں 0-5 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس پر ان کی کارگردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس سیریز کے دوران ہی اعلان کیا تھا کہ 2019آئی سی سی ورلڈ کپ ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔

لیستھ ملنگا کو اپنے عروج کے دور میں ’’ون ڈے اسپشلسٹ‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔ وہ واحد بولر ہیں جن کو کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں دو بار ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے یہ اعزاز 2007 میں جنوبی افریقا اور2011 میں کینیا کیخلاف میچز میں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ محدود اوررز کے فارمیٹ میں تین بار ہیٹ ٹرک کرچکے ہیں اور ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں مسلسل چار گیندوں میں چاروکٹیں اڑانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

لیستھ ملنگا، مرلی دھرن اور چمنداواس کے بعدسری لنکا کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے 218میچز میں 322وکٹیں اپنے نام کی۔

جیون مینڈس

سری لنکا کے آل راؤنڈر جیون مینڈس دوسری بار عالمی کپ میںایکشن میں نظر آئیں گے۔ 15جنوری 1983 میں پیدا ہونے والے کرکٹر نے2010سےون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

36سالہ کرکٹر کیلئے 2019ورلڈ کپ الوداعی ورلڈ کپ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوںنے اپنے 8سالہ کیرئیر میں 54میچز میں سری لنکن ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 604رنز بنائےجبکہ 28کھلاڑیوں کو میدان بدر کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں