آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلکیات کے ماہرین فلک میں چھپے رازوں کو منظر ِعام پرلانےکے لیےطویل عرصےسےکوشاں ہیں۔ اسی ضمن میں امریکی ادارے ناسا نے چندسال قبل ہبل ٹیلی اسکوپ نامی ایک خلائی دوربین خلا میں روانہ کی تھی۔اسے ایڈون ہبل نامی سائنس دان نے تیار کیا تھا ۔چناں چہ اسی کے نام پر اس کا نام رکھاگیا ۔ایڈون ہبل کاکہنا تھا کہ اس کی تیار کردہ ٹیلی اسکوپ کائنات میں نت نئی دریافتیں اور توسیع کرنے میں اہم کر دار ادا کرے گی ۔یہ دور بین اب تک 1.3 مشاہدے مکمل کر چکی ہے اور جب سے اس کا مشن شروع ہوا ہےتب سے اب تک یہ تقر یباً 15000 تحقیقی مقالوں کی اشاعت میں مددبھی فراہم کرچکی ہے ۔اس کی زمینی مدارمیں حرکت کی رفتار تقر یباً 17000 میگا ہرٹز ہے اور اونچائی میں اس کی رفتار 340 میلزہے ۔ہبل ٹیلی اسکوپ کی پوائنٹگ درستی .007 آرک فی سیکنڈ ہے ۔فرینکلن ڈی روزویلٹ نامی خلائی جہاز جب 200 میل کے فاصلے سے گزرے گا تو ماہرین کو اُمید ہے کہ ہبل ٹیلی اسکوپ لیزر بیم کی طرح چمکے گی۔ماہرین کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کے پرائمری مرر (primary mirror ) کی چوڑائی2.4میٹرزیعنی7فیٹ ، 10.5 انچز ہے اور اس کی لمبائی 13.3 میٹرز یعنی 43.5 فیٹ ہے ۔اس کی لمبائی ایک بس کے برابر ہے ۔

حال ہی میں ہبل ٹیلی اسکوپ نے نیپچون میں پیدا ہونےوالے جن چھوٹے زندہ طوفانوںکی تصویر لی ہے وہ دیکھنے میں کافی پُر اسرار معلوم ہوتے ہیں۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ طوفان ختم ہونے سے قبل سیارہ زمین کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہو جائے گا ۔اس طوفان نے گریڈڈارک اسپاٹ(Great dark spot) اور ڈارک اسپاٹ 2کا ریکارڈپہلی مرتبہ 1989ء میں اس وقت قائم کیا تھا ،جب ووئیجرز 2 سیارہ نیپچون (neptune)کے قریب سے گزرا تھا ۔ لیکن جب5سال بعد1994ءمیں ہبل ٹیلی اسکوپ نے ان ہی خصوصیات کو مزید جانچنے کی کوشش کی تو اُس وقت تک یہ طوفان ختم ہوچکے تھے ۔ماہرین کو بالکل اسی طرح کے طوفان دوسرے سیاروں پر بھی رونما ہونے کی اُمیدہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ طوفان سیارے کے اوپر کی جانب تقریباً100سال تک رہے گا۔جیسا کہ مشتری (jupiter) کے مشہور ریڈاسپاٹ کے حال ہی میں کیے گئے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طوفان نیپچون کو تراشنے کے لیے تقریباً ہر5سال بعد آئے گا اور کافی لمبے عر صے تک زندہ رہے گا ۔

سائنس دانوں نے1990ء میں ہبل ٹیلی اسکوپ نیپچون کی جانب بھیجی تھی توبہت سے ماہرین کو بالکل اُمید نہیں تھی کہ ہبل وہاں زیادہ عرصے تک رک سکے گی ۔ ناسا کے گوڈراڈ اسپیس فلائٹ سینٹر، میری لینڈ ،کے سائنس دان ایمی سیمون کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے بھی حیرانی کی بات تھی ۔ ماہرین کے مطابق وہ مشتری پر موجود ریڈ اسپاٹ کو سوسال سے زاید عر صے تک دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں ۔اس پر مزید تحقیقا ت کرنے کےلیے outer planet atmosphere legacy کا ایک پروجیکٹ ڈیزائن کیا گیا تھا۔تاہم 2015 ء سے ماہرین اس پر وجیکٹ کے تحت ہر سال ہبل ٹیلی اسکوپ کی مدد سے نیپچون کی تصاویر حاصل کرکے جنوبی نصف کرہ ٔ ارض (southern hemisphere) پر وقوع پذیر ہونے والے چھوٹے طوفانوں کی جانچ پڑتال کررہے ہیں ۔لیکن گزشتہ سال ماہرین نے خطِ استوا (equator)پرنئےڈارک اسپاٹ کو دیکھا تھا ۔ ماہرین کی ٹیم کے مطابق اس کا سائز تقریباًگریڈ ڈارک اسپاٹ کے برابر ہی ہے ۔گریڈ ڈارک اسپاٹ کا سائز6600سے 13000 کلومیٹرز ہے، یعنی 8000 میل سے 4100 میل ہے ۔سا ئنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2015ء میں یہ طوفان دیکھنے کےلیےوہ کا فی سر گرداں رہے تھے ۔سیمون کے مطابق اُس وقت انہیں یہ اُمید نہیں تھی کہ اتنی جلد ہم دوسرا طوفان دیکھ سکیں گے ۔یہ ان کےلیے بہت تعجب کی بات تھی ۔ہبل ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ہم ہر دفعہ ایسی حیران کن تصاویر حاصل کرتے ہیں جوہماری اُمیدوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔

جب سائنس دانوں کی ٹیم نے2015ءاور 2017ء میں حاصل ہونے والی تصاویر کادوبارہ سے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ جس مقام پر ڈارک اسپاٹ پایا گیا تھا،عین اسی مقام پر چھوٹے سفید بادل بھی دریافت کیے گئے تھے ۔خلائی ادارے، ناسا کے ماہرین کے مطابق یہ بادل میتھین آئس کرسٹل سے بنے ہیں اور یہ تاریک مواد کے اوپر ماحول میں موجود ہوتے ہیں ۔تحقیق کے مطابق یہ نئے طوفان ہر پانچ سے چھ سال بعدرونما ہوںگےاوریہ طوفان چھ سال سے زیادہ تاخیرنہیں کرے گا ۔اگر چہ اس طوفان کا امکان آخرکے 2 سال تک رہنے کا تھا ۔ یہ ہبل اور Voyager 2 کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے نقل پر مبنی تصویر ہے ،جس میں سالانہ 8ہزار ڈارک اسپاٹ کا مشاہدہ کیا گیا تھا ۔ماہرین کے مطابق 85 سے 95 فی صد طوفان کی عمر کا دورانیہ دو سال پر مشتمل تھا ۔محققین کو اُمید ہے کہ وہ جانچ پڑتال کرکے یہ جان سکیں گے کہ طوفان کا بھنور اور ہوا کی رفتار کیسے تبدیل ہو جاتی ہے ۔سائنس دان نیپچون کے ڈارک بھنورکی مدد سےکبھی بھی بہ راہ راست ہواکی پیمائش نہیں کرسکے تھے، لیکن یہ اندازہ ضرور لگالیا تھا کہ ہوا کی رفتار 328 فیٹ یعنی 100 میٹر فی سیکنڈ رہی ہوگی ۔یونیورسٹی آف کیلی فور نیا کے پلانیٹری سائنس داں، مائیکل ونگ کا کہنا ہے کہ اس کی ہوا کی رفتار کافی حد تک مشتری کے گریڈڈارک اسپاٹ کی ہوا کی رفتار کے برابر ہی ہے ۔نیپچون کے حالات کے بارے میں اب بھی پر اسرایت باقی ہے ۔ ماہرین کو اُمید ہے کہ اس راز پر سے پردہ اُٹھانے میں نظام شمسی سے مدد مل سکتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں