آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دبئی میں رہائش پذیر ایک بھارتی مسلمان شخص نے اپنے بیٹے کا نام ’نریندر دامودرداس مودی‘ رکھ دیا کیونکہ اُن کی خواہش ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اُن کے ملنے اُس کے گھر آئیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں رہنے والے ایک مشتاق احمد نامی بھارتی مسلمان شخص کا خواب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اُن سے ملنے اُن کے گھر آئیں، اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنے 3 دن کے بیٹے کا نام ’نریندر دامودرداس مودی‘ رکھ دیا۔

مشتاق احمد نے خلیج ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی بہت خواہش تھی کہ وہ نریندر مودی سے ملاقات کریں اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام نریندر دامودرداس مودی رکھا۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی اُن کے گاؤں اُتر پردیش آئیں، ننھے مودی سے ملاقات کریں اور اس کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کریں۔

مشتاق کا آبائی گاؤں اُتر پردیش میں ہے جبکہ وہ خود دبئی سے 150 کلو میٹر دور ہتہ (hatta) کی ایک کمپنی میں جاب کرتے ہیں۔ احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام مودی بالکل اُس دن رکھا جس دن بھارت میں نریندر مودی کو انتخابات میں جیت ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 23 مئی کو اُن کی اہلیہ نے انہیں فون پر مبارک باد دی کہ اُن کے یہاں لڑکے کی پیدائش ہوئی ہے، جس کے بعد انہوں نے فوراً اگلا سوال کیا کہ ’مودی الیکشن جیت گئے؟‘ اُن کی بیوی نے بتایا ’ہاں‘ تو احمد نے کہا ’’دیش میں مودی آگیا، ہمارے گھر میں بھی مودی آگیا۔‘‘

انٹرویو کے اختتام پر مشتاق احمد نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ وہ جانتے ہیں بھارت میں سب اُن کے بیٹے کا ’مودی، مودی‘ کہہ کر مذاق اُڑائیں گے لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جب اُن کا مودی بڑا ہوجائے گا تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی اُس کو تنگ کرنے کی کیوںکہ وہ ’نریندر مودی‘ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں