آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران احمد سلفی

 جس طرح دنیا کے دیگر تہواروں کے پس منظر ہوتے ہیں، عید الفطر کا تہوار بھی اپنے جلو میں عظیم الشان پس منظر رکھتا ہے۔ یہ اہلِ اسلام رمضان المبارک کے مقدس و پاکیزہ مہینے کے اختتام اور شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو رب تعالیٰ کے حضور ماہ رمضان المبارک میں رکھے گئے روزوں، راتوں کے قیام، تلاوت و سماعت قرآن مجید، زکوٰۃ ، صدقات خیرات اور نیکی و بھلائی کے کاموں کی انجام دہی پر سجدۂ شُکر بجا لانے پر خوشی و مسّرت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن مسلمانانِ عالم کے لیے جشن آزادی کی حیثیت رکھتا ہے چوںکہ یہ وہ دن ہے کہ جب ہمارا خالقِ حقیقی ہماری رمضان المبارک میں کی گئی عبادتوں و ریاضتوں پر خوش ہوکر اپنے مومن بندوں کی گردنوں کو جہنم سے آزادی اور جنّت میں داخلے کی سند فضیلت عطا فرماتا ہے۔ آج کا دن بڑا ہی بابرکت اور خوشیوں سے بھرا ہے، چوںکہ آج مزدوروں کو ان کی اجرت ملنے والی ہے، جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: شبِ عید (یعنی چاند رات) کا نام لیلۃ الجائزہ یعنی انعام والی رات ہے۔ عید کی صبح کو اللہ تعالیٰ بہت سارے فرشتوں کو شہروں میں بھیجتا ہے، وہ گلی کوچوں اور راہ گزر میں کھڑے ہو کر پکارتے ہیں، جن کی پکار کو جن و انس کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں اے محمد ﷺ کے امتیو! تم اپنے رب کریم کی طرف نکل چلو جو انعام دیتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جب روزے دار عید گاہ کے اندر پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان (اپنے ان بندوں پر فخر کرتا اور) فرماتا ہے اے میرے فرشتو، ذرا یہ تو بتائو کہ ان مزدوروں کا بدلہ کیا ہونا چاہیے، جنہوں نے اپنی مزدوریاں ٹھیک ٹھیک طور پر پوری کردی ہوں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اے ہمارے معبود و آقا ایسے مزدوروں کا بدلہ تو یہی ہونا چاہیے کہ ان کی پوری پوری اجرت دے دی جائے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے میرے فرشتو! تم گواہ رہو کہ ان (یعنی اہلِ ایمان) کے رمضان کے روزوں اور نماز کی وجہ سے میں ان سے خوش ہوگیا اور ان کو بخش دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت کرتے ہوئے اپنے بندوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے بندو تم مجھ سے مانگو، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم اس اجتماع میں دنیا و آخرت کی جو بھی بھلائی مجھ سے مانگوگے میں عطا کروں گا، اور تمہارا خاص خیال رکھوں گا، جب تک تم میری خشیت اختیار کیے رکھو گے، میں تمہاری خطائوں اور لغزشوں سے درگزر کرتا رہوں گا اور مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ نہ تمہیں ذلیل و رسوا کروں گا اور نہ قیامت والے دن مجرموں کے درمیان تمہاری سرزنش کروں گا، تم سب کو میں نے معاف کردیا، تم نے مجھے راضی کرنے کی کوشش کی تو میں تم سے راضی ہوگیا۔ امت مسلمہ پر رب تعالیٰ کی یہ انعامات و بخشش کی بارش دیکھ کر فرشتے خوشیاں مناتے ہیں۔ (الترغیب و الرتیب)

معلوم ہوا کہ عیدالفطر جہنم سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کا دن ہے اور یقیناً جسے اتنی عظیم نعمت غیر مترقبہ حاصل ہوجائے تو اس کی خوشیوں کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی ،کے مصداق اہل اسلام اس جشن مسرت و آزادی کے موقع پر دیگر اقوام کی طرح غیر شائشتہ، غیراخلاقی حرکات کا ارتکاب نہیں کرتے، جیسا کہ غیر مسلم اقوام کا وتیرہ ہے۔ جیسا کہ وہ اپنے تہواروں کے جشن شراب نوشی، قمار بازی اور دیگر لہو و لعب کے کاموں میں مصروف رہ کر مناتے ہیں، اس کے برعکس اسلام کے ماننے والے اتنی عظیم خوش خبری کے حصول پر بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے بلکہ اپنے اس جشن، حصولِ جنت پر دن کی ابتدا اور انتہا رب تعالیٰ کی عبادت اور خوشنودی کے حصول میں صرف کرتے ہیں۔ یقیناً عیدالفطر خوشی اور کھانے پینے کا دن ہے۔

آج کے دن روزہ رکھنا اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ اہلِ ایمان سارا ماہ رمضان بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرتے رہے اوردن رات مشقت اٹھا کر رب کی رضا جوئی تلاش کرتے رہے تو اب مزدوری کی تقسیم کا دن ہے، لہٰذا اب بھوکا پیاسا نہیں رہنا، بلکہ حسبِ توفیق خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں پلائیں، آج کے دن ایک دوسرے سے عید ملنا اور خوشیاں بانٹنا سنتِ رسولﷺ ہے۔ سارا مہینہ آپ نے اپنے نفس کی اصلاح و تربیت میں گزارا، لہٰذا آج آپ کا رب آپ کو اپنی رضامندی کی سند عطا فرما رہا ہے۔ اس لیے آج کا دن مسّرت و شادمانی اور سجدۂ شُکر بجا لانے کا ہے کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان اس عظیم دن کو بھی رب کی یاد میں گزارتے ہیں اور ہر طرح کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں، چوںکہ مومن کا وصف تو یہ ہے کہ جب اسے کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اس پر اپنے رب کا شُکر ادا کرتا ہے اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے۔ دونوں مواقع پر حدِاعتدال سے نہیں گزرتا، بلکہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس لیے عید کے موقع پر بھی اہلِ ایمان رب تعالیٰ کے حضور اظہار عبودیت کرتے ہوئے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں، اس انداز بندگی کو سراہتے ہوئے ان کا رب انہیں عید گاہ سے اس حال میں رخصت کرتا ہے کہ سب کو مغفرت و رحمت کے پروانے جاری ہوجاتے ہیں اور ان کی گردنیں جہنم سے آزاد کردی جاتی ہیں۔کسی صاحبِ دل نے کیا خوب کہا ہے۔ترجمہ: عید ان کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، عید تو ان کی ہے جو اللہ کی وعید اور پکڑ سے بچ گئے، عید ان کی نہیں جنہوں نے آج بہت سی خوشیوں کا اہتمام کیا، عید تو ان کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے، عید ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھائیں اور بہت سے کھانے پکائے، عید تو ان کی ہے جنہوں نے حتی الامکان سعادت حاصل کی اور نیک بننے کا عہدکیا۔عید ان کی نہیں ہے جو دنیاوی زینت کے ساتھ نکلے، عید تو ان کی ہے جنہوں نے تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنالیا، عیدان کی نہیں جنہوں نے عمدہ سواریوں پر سواری کی، عید تو ان کی ہے جنہوں نے گناہوں کو ترک کردیا، عید ان کی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجے کے فرش سے اپنے مکانوں کو آراستہ کیا، عید تو ان کی ہے جو دوزخ کے پل سے گزرگئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں