آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممتاز ملک

کہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عورت نسلوں کا مزاج و عادات, سوچ اور اقدار بدل دیتی ہے ,ایک عورت کی گود ایک اچھی نسل کو پروان چڑھاتی ہے۔یہ بالکل سچ ہے اور آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کی شرح تعلیم میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ کل کی ان پڑھ ماوؤں نے بڑے بڑے علماء, اساتذہ, سائنسدان, سپہہ سالار ,شاعر, لکھاری, انجینئر پیدا کیے اور آج کی مائیں ان سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ,خود مختارہونے کے باوجود چور ,ڈاکو,رشوت خور, بدکردار, نالائق, بدزبان اور بدلحاظ نسل کو پیدا کر رہی ہے ؟ سوال یہ ہےکہ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟

آج عورت ہر میدان میں بازی مار رہی ہے ۔تعلیم میں اسے پہلے سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔لیکن وہ اپنے ہی بچوں کی تربیت صحیح خطوط پر کیوں نہیں کر رہی ۔بچے لوئیر کلاس, کے ہوں، مڈل کلاس, یااپر کلاس کے سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ،انہیں کسی سے بات کرنے کی تمیز نہیں, چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں, کسی کی عزت نہیں, ان میں وفاداری نہیں, حیا نہیں, وعدہ وفائی نہیں, فرض شناسی نہیں اور نہ ہی کوئی کام کرنے کا شوق ہے ۔

ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کہلائی جاتی ہے،اس لیے حالات کا جائزہ لیں تو قصور وار عورت ہی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے حقوق تو جان چکی ہے لیکن شاید اپنے فرائض بھول گئی ہے۔خود رو جھاڑیاں وقتا فوقتاً نہ کاٹی جائیں تو شاندار باغ کو جنگل بنتے دیر نہیں لگتی ہے لیکن اگر مالی اچھا ہو تو وہ جنگل میں سے بھی تراش خراش اور حفاظتی اقدامات سے حسین باغ بنا سکتا ہے۔ گھر کو بنانا، سنوارنا، اس کی ترتیب، زیبائش اور آرائش وغیرہ خالصتاً نسوانی ذوق ہے اور یہ کام عورت ہی بہتر طور پر کر سکتی ہے۔ اسی طرح بچوں کی پرورش ، ان کی دیکھ بھال ، تربیت، ذہن سازی اور شخصیت کی تعمیر بھی عورت ہی زیادہ بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ کسی بچے کی فکری، ذہنی اور اخلاقی تربیت و نشوونما کی اصل بنیاد اسی دور میں ہوتی ہے جو وہ ماں کی نگرانی اور تربیت میں گزارتا ہے۔

آج کی عورت کی اکثریت ہر وہ کام کر رہی ہے ،جس کے بنا شاید گزارہ ممکن ہولیکن ہر اس کام سے متنفر ہے جو کسی بھی خاندان یا اولاد کی پرورش کا لازمی حصہ ہے۔

ضرورت س امر کی ہے آج کی عورت اپنی ترجیحات کا ازسر نو جائزہ لے اور اپنی مصروفیات کے بارے میں غور کرے کہ اس کی اولاد کو کیا مل رہا ہے , اسے دنیا میں ان کاموں سے کیا حاصل ہو گا ,اور آخرت میں ان کاموں اور طرز زندگی کے کیا ثمرات حصے میں آئیں گے ۔یاد رکھئیےزندگی کتنی بھی لمبی ہو ,آخر کو ختم ہو ہی جانی ہے۔اپنے پیچھے اس دنیا میں ایک بہترین نسل چھوڑ کر جانے کی سعی کیجئیے, جو ہمارے لیے دونوں جہانوں میں عزت کا باعث اور صدقہ جاریہ بن سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں