آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف بی آر نے 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگادیئے، 300 ارب کی چھوٹ ختم

اسلام آباد (این این آئی)ایف بی آر نے بتایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں ،300 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے ،تاخیر سے گوشوارے جمع کرانیوالوں پر جرمانہ اور سرچارج لگایا جائیگا،نان فائلرز پر گاڑی اور جائیداد خریدنے کی پابندی ختم کردی گئی ہے،گریجویٹس کو ملازمت دینے والوں کو ٹیکس ری فنڈز دیئے جائیں گے،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 2500 روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ایف بی آر کے ممبر ڈاکٹر حامد نے دیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں ،بجٹ میں 70 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹیز ، 30 ارب کی کسٹمز ڈیوٹیز لگادی گئی ہی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 200 ارب روپے کا سیلز ٹیکس ،200 ارب روپے کا انکم ٹیکس 200 لگایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس بانڈز جاری کررہے ہیں،تاخیر سے گوشوارے جمع کرانیوالوں پر جرمانہ اور سرچارج لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ایک ہزار، بغیر تنخواہ دار پر تین ہزار سرچارج

لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنیوں پر 20 ہزار روپے سرچارج لگایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ بغیر رشتہ دار سے گفٹ کو انکم تصور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 257 ارب روپے کے گفٹس دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس 1.2 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد کردیا گیا ہے،براون فیلڈ کمپنیوں کو ٹیکس رعایت 2020 تک فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کیلئے دسواں شیڈول متعارف کرایا گیا ہے،نان فائلرز کو خود بخود ٹیکس کٹوتی کیلئے آمدن بنا کر جرمانہ وصول کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی انکم ٹیکس کا ریٹ 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے، خد ما ت پر ٹیکس کی 2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کردی گئی ہے ،مقامی برانڈز اور فرنچائز پر 15 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کی چھوٹ 5لاکھ روپے کردی گئی ہے ،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 2500 روپے ٹیکس ہوگااور انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ حد 35 فیصد کردی گئی ۔انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹیڈ ٹیکس کی سہولت ختم کردی گئی ہے،پانچ برآمدی شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی مقامی فروخت پر 17 فیصد ٹیکس عائد ہوگا،ان شعبوں سے اگلے سال کے دوران 90 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 300 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کولڈ ڈرنکس پر ایکسائز ڈیوٹی 11 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کردی گئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں