آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت جھٹلانا سوائے خودفریبی کے کچھ نہیں کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کئے بغیر حکومتی محکموں کی کارکردگی کو بہتر بناسکتے اور بدعنوانی کے راستے مسدود کر سکتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ زمین جائیداد کی خرید و فروخت یا مکان کی تعمیر کے معاملات کس قدر پیچیدہ ہیں؟ ہمارے ہاں چلن ہے کہ ٹھیکیدار کو سب کچھ سونپ دیا جاتا ہے جو تعمیرات کے حوالےسے قوانین کی پروا کئے بغیر کام شروع کردیتا ہے، یوں دوران تعمیر یا بعدازاں مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کسی بھی نوع کی تعمیر کے لئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2001 کے تحت ، اس کا نقشہ پاس کروانا لازم ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ کم لوگ ہی اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بیشتر شہر بےترتیب بلکہ کنکریٹ کے جنگل دکھائی دیتے ہیں۔ مکان کی تعمیر سے قبل اس کے تمام تر لوازمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قوانین کو فراموش کرنے کی ایک وجہ آگاہی کا نہ ہونا ہے تو دوسری جانب ٹی ایم اے اور دیگر مجاز اداروں میں جاکر نقشہ منظور کروانے کی خواری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خود ان محکموں سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جب کوئی عمارت قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بن جاتی ہے تو وہ کہاں ہوتے ہیں؟ بہرحال اچھی خبر یہ ہے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق عمارتی نقشوں کی آن لائن منظوری کا نظام

متعارف کروادیا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ اس سے نقشہ منظور کرانے کا دورانیہ، جو آٹھ دن تھا، کم ہوسکتا ہے اور کوئی بھی کسی ایسی تعمیر کی اجازت نہیں دے پائے گا جو قوانین کو پامال کرتے ہوئے کی جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ ایل ڈی اے کے قائم کردہ ون ونڈو سیل پر جمع کرائی جانے والی درخواستوں پر کارروائی کی تازہ ترین صورتحال سے درخواست گزار کو مطلع کرنے کے لئے ایس ایم ایس سروس بھی شروع کی جائے گی۔ حکومت اگر ایل ڈی اے کے محکمے کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کردے اور عوام کو پٹوارخانے اور دیگر محکموں میں دوڑ دھوپ سے نجات دلا دے تو اس کا یہ کارنامہ عوام احسان تسلیم کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں