آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صادقہ خان

انسان نے گزشتہ سو سال میں ٹیکنالوجی کے کئی اہم سنگ ِ میل عبور کیے ہیں۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت نے ہماری زندگیوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے تو دوسری جانب بایو ٹیکنالوجی ، جینیٹک انجینئرنگ اور بایو انفارمیٹکس میں پیش رفت کی بدولت آئے روز ایسی حیران کن ایجادات سامنے آ رہی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ آپ نے سائنس فکشن ناولز اور فلموں میں ایسے سپر ہیروز کو بارہا دیکھا ہوگا جن کے پاس ایسی غیر معمولی صلاحیت یا باڈی ہوتی ہے، جس پر گولی اثر نہیں کرتی۔ کچھ عرصے پہلے ایک شخص پیٹر پارکر کی کہانی سامنے آئی تھی جسے ایک تابکار (زہریلی) خصوصیات رکھنے والی مکڑی نے کاٹ لیا تھا، جس کے بعد وہ قدرتی طور پر بلٹ پروف ہو گیا تھا۔ جسے عموما ' ًاسپائڈر مین بھی کہا جاتا ہے،مگر سائنس فکشن کا یہ تصور بھی اب حقیقت بن چکا ہے اور سائنسدانوں نے اسپائڈر سلک پر انسانی جلد مصنوعی طریقے سے تیار کرکے تجربات کیئے ہیںجن کے نتائج سو فی صد درست آئے ہیں اور اب انسان بھی بلٹ پروف بنائے جا سکتے ہیں اور اس کے لیئےانہیں موٹی بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی قطعا ً ضرورت نہیں۔

اسپائڈر سلک بھی جینیات میں ایسی ہی ایک نئی پیش رفت ہے ۔ سائنسدانوں نے مکڑی کے ڈی این اے کو بکری میں انجیکٹ کر کے ایک خاص قسم کا سلک یا ریشم تیار کیا ہے جو بظاہر تو اسٹیل سے زیادہ مضبوط ہے، مگر ساتھ ہی یہ بے انتہا لچک دار بھی ہے۔جسے بڑے پیمانے پر انڈسٹریز اور طب کے شعبے میں استعمال کر نے کے لیے تحقیقات کافی عرصے سے جاری ہیں ۔ ماہرین نے جب اسپائڈر سلک پر تحقیق کاآغاز کیا تھا تو وہ صرف مکڑی کے ریشم میں موجود بیٹا شیٹ کی اصلیت معلوم کرنا چاہتے تھے ،کیوں کہ اسے ابھی تک صحیح طور سمجھا نہیں جا سکا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اب تک اس ریشم کو مصنوعی طریقے سے تیار کرنے کے لیئے حل شدہ پروٹین استعمال کی جارہی تھی جو کہ فورا ہی ٹھوس قلموں میں تبدیل ہو جاتی تھی ،جس کی وجہ سے اس کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں رہتا تھا۔واضح رہے کہ مکڑی کی ریشم میں اما ئنو ایسڈ یا پروٹین کی ایک لمبی چین ہوتی ہے، جس کی میکینزم کو ابھی تک سمجھا نہیں جاسکا ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ماہرین نے مکڑی کی ایک خاص قسم میں جینیاتی تجدید شدہ بیکٹیریا کو داخل کر کے حل شدہ پروٹین کا انتہائی باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا ، جس سے انہیں معلوم ہوا کہ مکڑی کے ریشم میں دو طرح کے پیٹرن یا نمونے ہوتے ہیں جن میں سے پولی پرولا ئن ٹائپ ٹو اسے زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پولی پرولائن کو ریشم میں موجود بیٹا شیٹ میں بآسانی ٹرانسفر بھی کیا جاسکتا ہے، جس سے ریشم تیزی سے تیار ہوتا ہے اور یہ کافی مضبوط بھی ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرنے والے سائنسدان کیجی نوماتا کے مطابق ا سپائڈر سلک بلاشبہ ایک انقلابی ایجاد ہے جو نا صرف انتہائی پائیدار اور مضبوط ہے بلکہ اس کے ابھی تک کوئی مضر اثرات بھی سامنے نہیں آئے اور نا ہی اس کی تیاری میں کوئی مضر ِصحت مواد استعمال کیا گیا ہے، جس سے اس امر کے امکا نات تقریبا ً معدوم ہوگئے ہیں کہ مستقبل میں اس ریشم کے انسانی زندگی یا ماحول پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ چوں کہ مکڑی کے ریشم میں بنیادی شے پروٹین ہے۔ لہٰذا اس سے متعلق مسائل کے حل کے بعد سائنس دان کافی عرصے سےا سٹیل سے زیادہ طاقتور سلک تیار کرنے میں مصروف تھے اوربڑی تعداد میں مکڑی کے جینیاتی خلیات حاصل کر کے انہیںبکری کے ڈی این اے میں داخل کیا گیا اور اس کے بعد اس جنین (embryo)کو بکری میں انجیکٹ کر کے اس کی خصوصی دیکھ بھال کی گئی۔ بکری کے اس بچے کا اون عام بکری سے مختلف تھا جسے اسپائڈرسلک کا نام دیا گیا ۔ جو کیولر سے 3 گنا اورا سٹیل سے 10 گنا زیادہ مضبوط ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ غیر معمولی حد تک لچکدار بھی ہے۔

اس ریشم پر مزید تحقیق کرتے ہوئے ڈچ سائنس دان جیولیا ایسادی نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایک نئے آئیڈیے پر کام شروع کیا کہ اس سلک سے انسان کو بلٹ پروف بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسپائڈر سلک کے مخصوص نمونے حاصل کر کے انھیں لیبارٹر ی میں تیار کردہ انسانی ٹشوز کے ساتھ مکس کیا گیا ۔ اور اس طرح ا سپائڈر سلک کے اوپر انسانی جلد کی ایک تہہ مصنوعی طریقے سے لیبارٹری میں پیدا کی گئی۔ لیکن اس فیبرک کی تیاری کے بعد ایک اور بڑا مسئلہ اس کو جانچنا تھا ۔ اور ماہرین کے پاس اس کو ٹیسٹ کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اس تیار کردہ فیبرک پر مخصوص فاصلے سے فائرنگ کی جائے۔ اس کے لیے نئی تیار کردہ ا سپائڈر سلک فیبرک کو ایک بلسٹک جیل پر لگایا گیا ۔ اور پھر اس پر فائرنگ کی گئی تو ماہرین حیران رہ گئے کہ اس فیبرک نے اسٹیل سے بننے بلٹ کو راستہ دینے کے بجائے مزاحمت کرتے ہوئے روک لیا۔

جیولیا ایسادی کی ٹیم کی اس انقلابی تحقیق کی نا صرف طب بلکہ انڈسٹریز میں بھی مانگ بہت بڑھ گئی ہے، کیوں کہ اسے بڑے پیما نے پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور ا ب یقینا ً موٹی بلٹ پروف جیکٹس کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ حال ہی میں اس پروجیکٹ پر مزید کامیاب تجربات کے بعد امریکی آرمی نے 1 ملین ڈالر کا آرڈر سائن کیا ہے، تاکہ آرمی کو بڑے پیمانے پر یہ بلٹ پروف اسکن فراہم کی جاسکے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید