• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھانے پینے کی اشیاء میں مضرِ صحت کیمیکلز کی ملاوٹ

سید سلیم احمد سلمی

مادّہ پرستانہ رویّوں کی بہ دولت آج ہمارا معاشرہ اتنا غیر انسانی ہو چکا ہے کہ ہمیں اپنے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتااور ہمارے یہی رویّے انسانوں کے لیے بہت بڑاخطرہ بن گئے ہیں۔ہم مال و زَر کی ہوَس میں مضرِ صحت کھانے پینے کی اشیاء تک فروخت کرنے سے باز نہیں آتےاوراسی وجہ سے انسانی زندگیاں ہر وقت انسانوں ہی کی پیدا کردہ مصیبتوں کی زد پر ہیں۔آج روز مّرہ استعمال کی عام سی اشیا جیسے پانی، اناج، دودھ، سبزی، دال، گوشت، دوا، پھل، تیل، مسالےوغیرہ کچھ بھی تو خالص نہیں رہا۔ مغربی ممالک میں انسانوں ہی کی نہیں، جانوروں کی صحت کا بھی خیال رکھا جاتاہے۔ کھانے پینےکی اشیاء ، بیوٹی پراڈکٹس یہاں تک کہ چرند پرند کی غذا تک کو مضر اجزا سے پاک رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہ لوگ تجارت بھی کرتے ہیں اورمنافع بھی کماتے ہیں، مگر ایمان داری کے ساتھ ، لیکن اسلام کے نام پر حاصل کی گئی اس مملکتِ خداد میں بے ایمانی، منافع خوری اور جھوٹ ہی کو کام یاب کاروبار کی ضمانت سمجھ لیاگیا ہے۔ اور یہ حال صرف بڑے تاجروں کا نہیں، ریڑھی بانوں سے لے کر دُکان داروں تک سب کا یہی مزاج ہے۔تازہ پھلوں، سبزیوں کی آڑ میں قوم کو بے وقوف بنانے کے ساتھ ان کی صحت سے بھی کھیلا جارہا ہے۔ سبزی یا پھل لینے کی غرض سے بازار جائیں، تو ہر طرف سے ’’تازہ پھل لے لو، تازہ سبزی لے لو، باجی آپ یہ سبزی پکائیں گی، تو دل خوش ہوجائے گا ، ابھی ہی منڈی سے لے کر آیا ہوں ‘‘وغیرہ وغیرہ کی آوازیں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں۔حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہوتی ہے، باربار پانی چھڑکنے سے سبزی یا پھل تازہ نہیں ہوجاتے۔ پھلوں اور سبزیوں کو کٹائی کے بعد منڈی پہنچتے پہنچتے کم از کم دو، تین دن لگ جاتے ہیں، پھرمنڈی میں ٹرک اَن لوڈ کرنے اور اسٹور تک پہنچنے میں مزید ایک آدھ دن لگتا ہے۔ تب کہیں جاکر (علی الصباح) بولی لگاکر آڑھتی کے ہاتھوں عام دُکان داروں کو فروخت کیاجاتا ہے۔یہ توقدرت کی مہربانی ہے کہ سبزی وپھل میں ایسے کئی مالیکیولزہوتے ہیں ، جوانہیں پندرہ ، بیس دنوں تک کھانے کے قابل رکھتے ہیں، پھرفریج میں اسٹور کرنے سے ان کی عُمر مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ تازہ سبزی کے نام پرگھر لائی جانے والی کچھ سبزیاں چند ہی دن بعد گلنا سڑناشروع ہوجاتی ہیں۔اس پہ ستم یہ کہ آج کل درختوں سے کچّے پھل توڑکر کیمیکلز کے ذریعے پکائے جاتے ہیں، جن سے وہ قابلِ فروخت تو ہو جاتے ہیں، لیکن اُن کی افادیت ختم ہوجاتی ہے، بلکہ وہ کیمیکلز مہلک اثرات کا سبب بنتے ہیں۔یہی حال برانڈڈ مسالاجات کا بھی ہے۔ فوڈ مینوفیکچررز کی اکثریت پیکٹ کے مسالوں میں مضرِ صحت اجزا استعمال کرکے عوام کی صحت سے کھیل رہی ہے۔اور خواتین اس بات سے اَن جان کہ وہ جن سستےمسالوں کا استعمال کر رہی ہیں، وہ ’’سلو پوائزن‘‘ کے سوا کچھ نہیں، محض اپنا وقت اور محنت بچا رہی ہیں۔ حالاں کہ بڑے بازاروں میںگیہوں پیسنے کے علاوہ مسالا پیسنے کی بھی مشینیں لگی ہوتی ہیں، جہاںپانچ، دس منٹ میں ثابت مسالا(لال مرچ،ثابت دھنیا،ہلدی،کالی مرچ وغیرہ) مناسب داموںپیس دیا جاتا ہے۔یاد رکھیے! صحت ایک اَن مول دولت ہے،تو خدارا! اس کی اہمیت کو پہچانیےتَن آسانی اور وقت بچانے کی خاطر اپنوں کو سلو پوائزن مت دیجیے۔دوسری جانب دُکان داروں سے بھی التما س ہےکہ چند پیسوں کے منافعے کی خاطر اپنا ایمان اور آخرت برباد مت کریں، کیوں کہ بہ حیثیت مسلمان ہماراایمان ہے کہ ہمیں اپنے ہر عمل کے لیے روزِ آخرت اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے اور وہ مالک اپنے حقوق تو معاف کر دے گا، مگر حقوق العباد نہیں۔

تازہ ترین