آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے موجود وزیراعظم عمران خان نے 1992ءکو پاکستانی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ورلڈکلاس پرفارمنس دے کر دنیائے کرکٹ کا تاج اپنے سر سجایا تھا۔ وہ ایک تاریخ کا حصہ ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے جس طرح پاکستانی عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت سے بے پناہ توقعات وابستہ کررکھی ہیں ایسے ہی کرکٹ کے دیوانوں نے حالیہ کرکٹ ورلڈکپ جو برطانیہ میں جاری ہے، پاکستانی کرکٹ ٹیم سے ورلڈکپ جیتے کیلئے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ الیکشن مہم ہو یا عام حالات قوم سے خطاب ہوکہ اسمبلی کا سیشن، وزیراعظم پاکستان ہر موقع پر اپنے شاندار ماضی کی سمیٹی ہوئی کامیابیوں کرکٹ ورلڈ کپ، شوکت خانم میموریل ہسپتال کی مثالیں دیتے ہیں۔ ظاہر ہے دینی بھی چاہئے۔ دونوںکام ورلڈ کلاس ہیں اور پاکستان کیلئے پہچان ہیں، قوم بھی عمران خان کے ان الفاظ پر جان نچھاور کرنے کیلئے تیار ہوجاتی ہے۔ اسی ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے قوم نے عمران خان کو کامیاب کیا حکومت بن گئی اب دس ماہ گزرنے کے قریب ہیں۔ اب بھی عمران خان کرکٹ ورلڈکپ 1992ء اور شوکت خانم ہسپتال کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی KPKمیں گزشتہ پانچ برس کی حکومتی کارکردگی کی کوئی ایک مثال نہیں دیتے حالانکہ ایک سیاسی وژن کے حامل شخص کو اپنی سیاسی

کامیابیوں کا ذکر کرنا چاہئے۔جس طرح جب بھی پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا ذکر آئے گا لوگ ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر قدیر، میاں نواز شریف کا ذکر ضرور کریں گے۔ میزائل ٹیکنالوجی کی بات آئے گی تو بینظیر بھٹو کا ذکر بحالی جمہوریت تک جائیگا میٹرو، موٹروے، جے ایف تھنڈر، سی پیک مفاہمتی سیاست، دہشت گردی کا خاتمہ کے حوالے سے شریف برادران، آصف علی زرداری، جنرل راحیل شریف سمیت دیگر کو قوم ضرور یاد کرے گی وزیراعظم پاکستان عمران خان چاہتے تو حالیہ کرکٹ ورلڈکپ کو مثالی اور تاریخ ساز بناسکتے تھے کہ خود وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں بلاشرکت غیرے تمام اختیارات کے مالک و مختار ہیں، چاہتے تو اقتدار میں آتے ہی بہترین سلیکشن کمیٹی بناتے۔ میرٹ کی بالادستی قائم کرکے بہترین کھلاڑیوں کا چنائو کرتے اور ایک مضبوط و مستحکم ٹیم میدان میں اتارتے خود وہ کرکٹ کے چیمپئن ہیں۔ ایک نئی مثال قائم کرتے، پوری قوم پھر سے 1992ء والے عمران خان کو اپنا ہیرو مانتی لیکن ایسا نہ ہوسکا جس طرح گزشتہ بائیس برس میں اسد عمر کو اپنی حکومت کا اصلی پروڈکٹ پیش کیا اور وقت آنے پر یا PTIکی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرنے سے قبل انہیں ہٹا دیا گیا وہ ملکی معاشی صورتحال پر قابو نہ پاسکے۔ اسی طرح کرکٹ کے چیمپئن عمران خان کے ہاتھوں ملک کی قیادت ہے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ ملکی سیاست میں اخلاقیات کا نام و نشان ہی نہیں ہر طرف سے چور چور کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اب لوگوں نے کہنا شروع کردیا چور چور کے بجائے ہمیں  کھانا، پینا، علاج معالجہ، رہنے سہنے کی فکر لاحق ہے۔ پلیز عمران خان ماضٰی کی مثالیں دینے کے بجائے اپنے اس دور اقتدار کو شاندار بنائیں تاکہ مستقبل میں لوگ جمہوری پاکستان کی ریاست مدینہ کی مثالیں دیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں