آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نظام ِ ہاضمہ کا مرکزی کردار ’جگر‘ ہمارے بدن کا ایک اہم ترین عضو ہے ،لیکن ہم اسے خاص اہمیت نہ دیتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں ، جس کا ہمیں بعدمیں خمیازہ بھگتناپڑتاہے۔ چونکہ جگر ہر وقت جسم کی صفائی ستھرائی پر مامور رہتاہے، اس لئےاسے بھی صاف ستھرا اور صحت مند رکھنا ضروری ہے۔ اس کیلئے آپ کو کوئی مشکل کام نہیں کرنا پڑے گا، بس جگر کو صحت مند رکھنے والی غذائیں کھانا ہوں گی، پھر کبھی بھی آپ اپنے ’جگر‘ کو مشکل میں نہیں پائیں گے۔

چقندر

قدرت کا یہ تحفہ غذائیت اورڈی ٹوکس اجزا ء سے مالامال ہے۔ وٹامن سی کی وجہ سے بہترین اینٹی آکسیڈنٹ کا حامل چقندر خون کو صاف اور خالص بناتاہے۔ ا س میں موجود آئرن، فائبر ، فولیٹ ، بیٹیائن اور بیٹا سینن جگر کے لئے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ چقندر میں ایک فائبر پیکٹن بھی ہوتاہے، جوجسم کی صفائی میں مدد کرتاہے۔ یہ بائل ڈکٹ کی حفاظت میں مدد کرتاہے، جس سے ہاضمہ کا عمل آسان ہوتا ہے۔

بیریز

بیریز کی ہر شکل جیسے کہ اسٹرابیری، بلو بیری اور رس بیری جگرکو نقصان سے محفوظ رکھتی ہیں۔ بلڈ اسٹریم میں ریلیز ہونے والے انزائمز کی وجہ سے یہ اس کے خلیوں کو محفوظ اور میٹا بولزم کو تقویت پہنچاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جگر پر چربی چڑھنے سے محفوظ رکھتے ہوئے پورے نظام انہضام سے زہریلے مواد کوباہر پھینکنے میں مدد دیتی ہیں۔

لہسن

یہ غذا جگر کو ڈی ٹوکس کرنے والی غذائوں میں سب سے اہم ہے۔ایک دن میں تازہ لہسن کا صرف ایک جوّا جگر کیلئے معجزے کا کام کرتاہے ، کیونکہ اس میں وافر مقدار میں سیلینیم ہوتا ہے، جو انزائمز کو اس قابل بناتاہے کہ وہ زہریلے مواد کو باہر نکال دیں۔ اس میں ایلیسین(Allicin)مادہ کینسر سے بچنے اور تکسیدی تنائو سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھتاہے۔

لیموں

لیموں میں موجود وٹامن سی سے جگر کو قدرتی طور پر صاف رہنے میں مدد ملتی ہے۔ وٹامن سی جگر کو درکا ر انزائمز پیدا کرنے میں معاونت کرتاہے ،جس سے جسم کو توانائی ملتی اورنظام ہاضمہ بہتر ہوتاہے ۔

ڈینڈی لائن چائے

اس چائے میں ڈینڈی لائن کے پتے، جڑیں اور تنا شامل ہوتاہے جس میں اینٹی انفلیمیٹری یعنی جلن سے بچانے والی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ڈینڈی لائن چائے براہ راست بائل ڈکٹ کو ٹھیک کرتی ہے ،جس سے جگر صحت مند زندگی گزارتاہے اور پورے جسم کا نظام ہاضمہ خاص طور پر مثانہ بہتر طریقے سے کام کرتاہے۔

گوبھی اور ہری سبزیاں

گوبھی اور ہرے پتوں والی سبزیاں جیسے بروکلی میں وافر مقدار میں جگر کیلئے فائدہ مند آئرن ، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان میں ایک جزو گلوکو سینولیٹ (Glucosinolate) بھی ہوتا ہے، جوجگر کو ڈی ٹوکس کرنے والے انزائمز پیدا کرنے میں مدد کرتاہے اور جگر کی اند ر ہی اند ر مرمت کرتا ہے۔ ہرے پتوں والی سبزیوں میں موجود کلورفل بھی جگر کو ڈی ٹوکس کرنےمیں بہت مد د کرتاہے۔

شکر قندی

شکر قندی میں بیٹاکروٹین کی موجودگی جسم میں اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات کاباعث بنتی ہے۔ دراصل بیٹا کروٹین جسم میں پہنچ کر وٹامن اے میں ڈھل جاتاہے، جو جگر کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ سپلیمنٹ لینے سے بہتر ہے کہ بیٹا کروٹین والی غذائوں بشمول گوبھی اور کدو وغیرہ سے وٹامن اے کی ضرورت پوری کی جائے اور اپنے جگر کو درست رکھا جائے۔

سبز چائے

سبز چائے کے جہاں دیگر فوائد ہیں، وہیں اس میں موجود پولی فینولز، جگر کیلے بہت مفید ہیں اور اسے کینسر، ہیپاٹائٹس جیسے امراض سے محفوظ رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق سبز چائے کے ایکسٹریکٹ سے جگر پر چڑھنے والی نقصان دہ چربی کا باعث بننے والے انزائمز کو دور رکھنے میں مدد ملتی ہے ۔تاہم سبز چائے کے بہت زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہئے اور ایک دن میں د و یا تین کپ سے زیادہ نوش نہیں کرنا چاہئے۔

گاجر

گاجر بھی وٹامنز ، منرلز ، غذائی فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے لبریز ہوتی ہے۔ اس کا جوس پینے سے جگر میں ٹرائی گلیسرائڈز اور مونو ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ کی سطح کم ہوتی ہے۔ گاجر کا استعمال جگر پر زہریلے مواد اور چربی چڑھنے سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے۔

صحت سے مزید