آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سوشل اِسکلز‘‘ بچے کی تعلیمی اور عملی زندگی میں کامیابی کی بنیاد

والدین کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگا کہ بچوں کو سوشل اِسکلز سکھانا آسان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بچہ دوسروں کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں روابط رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے، تاہم ان (والدین) کے ذہن کے کسی کونے میں کچھ خوف اور خواہشات بھی پنپ رہی ہوتی ہیں، جو انھیں دُہری سوچ میں مبتلا کیے رکھتی ہیں۔

والدین کیا سوچتے ہیں؟ کیا کوئی دوسرا بچہ ان کے بچے سے کھلونا تو نہیں چھین لے گا؟ اس سے پہلے کہ کوئی اور بچہ پسندیدہ ٹرک اُٹھالے، کیا ان کا بچہ سب سے پہلے اُسے حاصل کرلے گا؟ ان کا بچہ کسی دوسرے بچے کو تین پہیوں والی سائیکل سے دھکا دے کر خود بیٹھ جائے گا تو سامنے والے والدین کا کیا ردِ عمل ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔

اس سلسلے میں، والدین کو پریشان ہونے کے بجائے، اپنے بچوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کو کس طرح کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔ کسی بھی باہمی تعلق میں جذبات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری اہم ترین بات اپنے بچوں میں ہم احساسی (Empathy)کے جذبات پیدا کرنا ہے۔ تیسری بات یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور جذبات کا اظہار جسمانی طور پر جارح ہوئے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔ یہ چیزیں تعلیمی اور عملی میدان یا کسی بھی دیگر روایتی کامیابی کے مقابلے میں، آپ کے بچے کو زندگی سے زیادہ مطمئن اور خوش رہنے میں زیادہ اہم کردار ادا کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی سائنسدان، ایموشنل انٹیلی جنس کو روایتی IQکے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ اپنے جذبات کو اپنی ذہانت کے تابع رکھنے اور خوشگوار باہمی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بچے بالآخر اپنی تعلیمی اور عملی زندگی میں زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو سوشل اِسکلز سکھانے کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟

کھیل کے وقت بچوں کے قریب رہیں

کھیل کود کے وقت کئی بچے دیگر بچوں کے ساتھ باہمی بات چیت کے دوران جذباتی طور پر حاوی ہوجاتے ہیں اور وہ جسمانی جارحیت پر اُتر آتے ہیں۔ اگر ایسے مواقع پر آپ اپنے بچوں کے قریب رہیں گے تو ان کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ جب آپ کے بچے کو احساس ہوگا کہ آپ موقع پر موجود ہیں تو ایسے بچے میں جسمانی طور پر جارحیت اختیار کرنے کی عادت پروان نہیں چڑھے گی۔

ہم احساسی کا یقین دِلانا

وہ بچے جو اپنے جذبات کے لیے اپنے والدین، سرپرست اور ساتھ رہنے والے خاندان کے دیگر افراد سے زائد توجہ حاصل کرتے ہیں، ان بچوں میں دوسروں کے لیے سب سے پہلے ہم احساسی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

خود اعتمادی سکھائیں

اگر آپ کا بچہ ہر بار اپنا کھلونا کسی اور بچے کو دے دیتا ہے اور اس کے بعد ناخوش رہتا ہے، تو پھر اس میں سامنے والے بچے کو ’ناں‘ کہنے کی خود اعتمادی پیدا کریں اور مداخلت کرتے ہوئے کہیں، ’’کیا تم فی الحال یہ کھلونا نہیں دینا چاہتے؟ ٹھیک ہے؟‘‘ پھر اپنے بچے سے کہیں کہ اگلی بار کوئی بچہ اس سے یہ کھلونا لینا چاہے تو وہ اسے بتائے، ’’میں ابھی اس کھلونے سے کھیل رہا ہوں‘‘۔ جب تک آپ کا بچہ مکمل طور پر بولنا نہ سیکھ لے، گروپ کھیل کے وقت آپ کو اس کی آواز بننا ہے۔

باری کا دورانیہ بچوں کو منتخب کرنے دیں

عموماً یہ ہوتا ہے کہ بچوںکی باری کا دورانیہ بڑے متعین کرتے ہیں، جس کے باعث بچے کو ڈر لگا رہتا ہے کہ اب اس سے بلّا چھین لیا جائے گا اور اگلے بچے کو دے دیا جائے گا۔ دراصل، اس سے بچوں میں دوسرے بچوں سے چیزیں چھیننے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور وہ کھلونوں یا کسی بھی چیز پر زیادہ حقِ ملکیت جتلانے لگتے ہیں۔ اگر بچے میں آپ نے ہم احساسی کی عادت ڈالی ہوگی تو آپ کا بچہ اپنی مرضی اور تسکین کے مطابق کچھ دیر تک وہ کھلونا استعمال کرے گا اور پھر خوشی خوشی اگلے بچے کے حوالے کردے گا۔ اگر کوئی کھلونا آپ کے بچے کو بہت ہی زیادہ پسند ہے تو پھر اس کے لیے ویسا ہی ایک اور کھلونا لے آئیں۔

شیئر کرنے کادباؤ نہ ڈالیں

دراصل دباؤ ڈالنے سے بچوں میں شیئرنگ کی عادت پروان چڑھنے کے بجائے ان میں ضد کی خصلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے بجائے، بچوں میں اپنی اپنی باری لینے کا تصور پروان چڑھائیں۔ ’’ابھی (بچے کا نام لے کر بتائیں) کی باری ہے، اس کے بعد آپ کا نمبر آئے گا‘‘وغیرہ وغیرہ۔

تعریف کریں اور وجہ بھی بتائیں

تحقیق بتاتی ہے کہ جب والدین شیئرنگ پر اپنے بچوں کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ زیادہ شیئر کرنے لگتے ہیں، لیکن صرف اس وقت جب وہ والدین کے سامنے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس تعریف کا مطلب والدین کی توجہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ انھیں بتائیں گےکہ، ’’دیکھو بیٹا، وہ بچہ (نام لیں) ٹرین میں اپنی باری لے کر کتنا خوش ہورہا ہے‘‘۔ اس طرح انھیں احساس ہوگا کہ باری ملنے پر بچے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ خوشی کا یہ احساس بچوں میں شیئرنگ اور سخاوت کی خصوصیات پیدا کرے گا۔

خود بھی پُرسکون رہیں

بچے اپنے جذبا ت پر اسی وقت بہتر طور پر قابو پانا سیکھتے ہیں، جب کسی بھی صورتحال میں والدین خود پُرسکون رہتے ہیں۔ بچے جب مشکل صورتحال سے دوچار ہوں تو اس وقت والدین کو پریشان ہونے کے بجائے پُرسکون انداز میں انھیں تحفظ کا احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ پرسکون رہ کر اپنے بچے کو پرسکون بنائیں گے، تبھی بچے آپ سے جذبات پر قابو پانے کا ہنر سیکھیں گے۔

بچے آخر بچے ہوتے ہیں

جب کبھی آپ کا بچہ کسی بچے کو اپنے نوکیلے دانتوں سے کاٹ لے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا بچہ بُری عادات سیکھ رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کو اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ بُرا رویہ اپنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے لیکن ایسے وقت میں آپ کو بچے کے جذبات کو سمجھنے اور اسے اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت آپ کا بچہ آپ سے کچھ اس طرح کے الفاظ سُننے کا متمنی ہوسکتا ہے۔ ’’سبھی بچے کسی نہ کسی وقت اپنے دوستوں سے خفا ہوجاتے ہیں۔ جب آپ بڑے ہونے لگیں گے تو آپ اپنے جذبات کو بہتر کنٹرول کرناسیکھ جائیں گے‘‘۔ دراصل، بچے آپ سے سُننا چاہتے ہیں کہ وہ بُرے بچے نہیں ہیں۔

بچوں کو جذبات کی زبان سکھائیں

جذبات کو نام دینا بچوں کی دماغی کیفیات کو جسمانی کے بجائے زبانی طور پر فروغ دینے کے عمل میں اہمیت کا حامل ہے۔ جیسے کُتے کے بھونکنے پر آپ کا بچہ خوف کھا کر اُچھل جاتا ہے، وہ اپنے خوف کا اظہار جسمانی کیفیت کے ذریعے کرتا ہے۔ آپ بچے کی اس کیفیت کو الفاظ میں ڈھالنے کی کچھ اس طرح کوشش کر سکتے ہیں، ’’کُتے کا بھونکنا کافی خوفناک ہے لیکن آپ دیوار کی اس طرف میرے ساتھ بالکل محفوظ ہیں۔ آپ کو بالکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ تاہم اگر بچہ بالکل رونے لگے تو ایسے میں آپ اپنے الفاظ بعد کے لیے محفوظ کرلیں اور اسے صرف تسلی دےکر آرام دہ محسوس کروانے کی کوشش کریں۔

تعلیم سے مزید