آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ میری طرح ہوشیار ہیں، تو پھر آپ نے تبدیلی کی تازہ ہوا کے جھونکے محسوس کر لئے ہونگے اور میری طرح تبدیلی کے ثمر سے مستفیض ہو چکے ہوں گے۔ اگر آپ نے ابھی تک ببول سے جھولی بھر بیر نہیں اینٹھے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ میری طرح ہوشیار نہیں ہیں۔ مجھے کسی سے کچھ چھپانے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں ہوتی کہ چھپانے کیلئے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ وعدہ کی گئی ایک کروڑ ملازمتوں میں سے دوچار ملازمتیں میں نے اپنے نام کر لی ہیں۔ مجھے ان دوچار ملازمتوں کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میں ہمیشہ غریب عوام کی بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار رہتا ہوں۔ ہمارا غریب آدمی ہمیشہ سے غریب نہیں تھا۔ پاکستان کا غریب آدمی ہمیشہ سے امیر تھا۔ غریب آدمی کے پاس بے تحاشا دولت ہوتی تھی۔ تب بیچارہ غریب آدمی ہمیشہ فکرمند رہتا تھا کہ وہ چھپڑ پھاڑ دولت سے اپنی کٹیا کی ٹوٹی پھوٹی چھت کی مرمت کیسے کروائے۔ دولت کے انبار دیکھ کر وہ فیصلہ نہیں کر پاتا تھا کہ اپنی کٹیا کی ٹوٹی پھوٹی چھت کی مرمت کیلئے سول انجینئروں کی ٹیم امریکہ سے منگوائے یا برطانیہ سے۔ یا پھر پاکستان کے ماہرِ تعمیرات کو اپنی کٹیا کی مرمت کا ٹھیکہ دے۔

کہتے ہیں کہ آدمی پر اتنا بوجھ ڈالنا چاہئے جتنا وہ سہار سکے۔ اس پر اتنا بوجھ پڑنا نہیں چاہئے جو کہ وہ سہار نہ سکے اور بوجھ تلے دب کر دم توڑ دے۔ پاکستان کے غریب عوام پر دولت کا اس قدر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑا تھا کہ بیچارے غریب آدمی کے لئے سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ وہ کبھی اپنی بے انتہا دولت کو دیکھتا تھا اور کبھی اپنے ننگ دھڑنگ بچوں کو، جو گلی کوچوں میں مارے مارے پھرتے تھے اور جب بھوک لگے تو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے غذائی چیزیں چن چن کر کھاتے تھے۔ غریب آدمی اکثر سوچتا رہتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھنے کیلئے فائیو اسٹار ہوٹلوں جیسے اسکول بھیجے یا پھر اعلیٰ تعلیم کیلئے ان کو بیرونِ ملک بھیج دے۔ یہ باتیں میں خاص طور پر نوجوان نسل کو بتانا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے پاکستان کے عوام کو مفلس، کنگال اور بے انتہا غریب دیکھا ہے۔ میرے بچو، پاکستان کےغریب عوام ہمیشہ سے غریب نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ سے امیر تھے، ان کے پاس بے انتہا دولت ہوتی تھی۔ تب پاکستان کے سیاستدان بہت غریب اور مفلس ہوتے تھے۔ وہ مٹی کے برتن بنا کر بیچتے تھے۔ ٹھیلوں پر گنڈیریاں بیچتے تھے۔ گاڑیاں دھوتے تھے اور سائیکلوں کے پنکچر لگاتے تھے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ سیاستدان بڑی کائیاں قسم کی قوم ہوتی ہے۔ شروع سے ان کی للچائی ہوئی نظر عوام کی دولت پر ہوتی تھی۔ چالاک سیاستدانوں نے سامری جادوگر کی خدمات حاصل کر لیں۔ سامری جادوگر نے جنتر منتر سے خوشحال عوام کی بے تحاشا دولت غریب اور مفلس سیاستدانوں کے حوالے کر دی۔ نتیجتاً دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کے دولت مند عوام غریب ہو گئے اور کنگال سیاستدان امیر ہو گئے۔

عظیم تبدیلی کے نتیجے میں دوچار ملازمتیں جو میں نے ہتھیالی ہیں، انکی ذمہ داریاں مختلف نوعیت کی ہیں۔ ایک ملازمت کے حوالے سے مجھے غریب عوام کو یقین دلوانا ہے کہ ان کی چھینی ہوئی دولت سیاستدانوں سے لیکر ان کو واپس کرنا ہے۔ یہ موجودہ حکومت کا غریب عوام سے وعدہ ہے۔ یہ جو ہم ننگے بھوکے، گلی کوچوں میں مارے مارے پھرنے والے آپ کے بچوں کے لئے فی الحال کچھ نہیں کر رہے، سردست اس کا ایک سبب ہے۔ ہم فی الحال ایک ہاتھ سے کام کر رہے ہیں۔ دوسرا ہاتھ ہم نے کرپٹ سیاستدانوں کے حلق میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ کرپٹ سیاستدانوں سے آپ کی لوٹی ہوئی دولت اگلوا کر آپ کو دلوائیں اور آپ کو پھر سے امیر بنادیں۔ میری یہ ملازمت بظاہر آسان لگتی ہے مگر حقیقت میں آسان نہیں ہے۔ جب پیٹ خالی ہوتا ہے، تب دماغ تیزی سے کام کرتا ہے۔ غریب عوام اچانک سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں، پوچھتے ہیں ’’سرکاری خزانہ لوٹنے کے بہانے سیاستدانوں نے ہمیں کیوں لوٹا؟ ہم سے ہماری دولت چھین کر ہمیں امیر عوام سے غریب عوام کیوں بنا دیا؟‘‘

ان کو مطمئن کرنے کیلئے میں کہتا ہوں ’’مملکت خداداد پاکستان کے خزانے کی حفاظت پر مامور چوکیدار بڑے چوکنے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے سرکاری خزانے پر ہاتھ مارنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے وہ امیر عوام کو لوٹتے ہیں اور ان کو غریب عوام بنا دیتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔ ہم نے زبردست بندوبست کر لیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم کرپٹ سیاستدانوں سے غریب عوام کی لوٹی ہوئی دولت اگلوا کر غریب عوام تک پہنچا کر غریب عوام کو پھر سے امیر عوام بنا دیں، ہم نے غریب عوام کی حفاظت کیلئے چاق و چوبند چوکیدار مامور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘‘۔ہتھیائی ہوئی دوسری دو ملازمتوں کی ذمہ داریاں ٹیڑھی ہیں۔ مجھے پٹواریوں، ریڑھی چلانے والوں، ٹھیلا لگانے والوں، دہی بڑے، چناچاٹ بیچنے والوں، رکشہ چلانے والوں، پنکچر لگانے والوں، غبارے بیچنے والوں اور ڈھابہ چلانے والوں کو انکم ٹیکس دینے پر آمادہ کرنا ہے۔ جب تک ان سے میرا واسطہ نہیں پڑا تھا تب تک مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح کے لوگ بڑے منہ پھٹ ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’وصول کرنے والے روزانہ ہم سے انکم ٹیکس وصول کرتے ہیں‘‘۔

میں کہتا ہوں ’’بھائی، انکم ٹیکس سال میں ایک مرتبہ لیا جاتا ہے، روزانہ نہیں‘‘۔کہتے ہیں ’’روزانہ لئے جانے والے انکم ٹیکس کو دیہاڑی کہتے ہیں، دیہاڑی لینے والوں کو آپ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ملازم رکھ لیں وہ آپ کو روزانہ کروڑوں روپے کما کر دیں گے‘‘۔

ادارتی صفحہ سے مزید