آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوم کو اس حقیقت سے باخبرہوناچاہیئےکہ پاکستان کو تیزی سے عالمی دیوالیہ پن کی جانب دھکیلاجارہاہےاور ایف اے ٹی ایف کوہمارے خلاف ایک ہتھیارکےطورپراستعمال کیاجارہاہےتاکہ بیرونِ ملک سے ہماری سرمایہ کاری اور عالمی بزنس ڈیلنگزکوروکاجائے۔ کسی بھی ملک کی معیشت کیلئےقرضے خودہی ایک کینسرکی طرح ہوتےہیں کیونکہ یہ ملک کےمعاشی نظام کو تباہ کردیتے ہیں۔ ان سےبوجھ میں اضافہ ہوتاہےاور یہ ایک معیشت مخالف جان لیواپیراسائٹ ہےجومثبت معاشی فوائد کواس حد تک مفلوج کردیتا ہے کہ قومی معیشت کی ترقی خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ بیرونی قرضوں سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی ہے جس سے اس کی کرنسی کی قدرپر اثرپڑتاہے۔ پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی کے باعث پاکستان کی معیشت پہلے ہی متاثر ہوئی ہےجو بہت نقصان دہ ہے، اس سے ملکی معیشت ایک چنگل میں پھنس چکی ہے۔ یہ ہی ایک پہلو ہے جس کے باعث ملکی معیشت زوال کاشکارہےلیکن اسی دوران یہ افراطِ زرمیں اضافے کی بھی وجہ ہے جوگزشتہ 11ماہ میں 7فیصد سے 11.2فیصدتک بڑھ چکاہے۔ اسی طرح گزشتہ 11ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپےکی قدرمیں 115سے 160روپے تک کمی ہوئی۔ گردشی قرضوں نے براہِ راست ملک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کونشانہ بنایا ہےاور روپے کی قدرمیں کمی کے باعث براہِ راست برآمدات پر برا اثرپڑاہے۔ کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کےباعث معیشت کااندرونی انتظام اور حکومت کا روزمرہ کا کام مزید مشکل ہوگیاہے۔ ڈالر کی قلت اور اندرونی ترقی کی شرح میں کمی کے باعث حکومت داخلی قرضے لینے پر مجبور ہوئی۔ گزشتہ 11ماہ کے دوران موجودہ حکومت نے کرنسی نوٹس پرنٹ کرنے کےعلاوہ9.7ارب ڈالر قرضہ لیاہےاور اس خطرے کو نظراندازکردیاہےکہ کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ سے افراطِ زرمیں اضافہ ہوگا کیونکہ افراطِ زرمہنگائی میں اضافی کی ایک اہم وجہ ہے۔ پی پی پی حکومت کی جانب سے اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں لیاگیاکل قرضہ 16ارب ڈالر تھا اور پی ایم ایل(ن) کی حکومت نے پانچ سال میں 20ارب ڈالر قرضہ لیا جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے صرف گیارہ ماہ میں ہی 9.7ارب ڈالر قرضہ لےلیاہے اور پی پی پی حکومت میں ڈالر کی قدر 100تھی اور پی ایم ایل(ن)کےدور میں 115ہوئی اور اب پی ٹی آئی حکومت میں ایک ڈالر160روپےکاہوگیاہے۔ قرضوں کا یہ خطرناک جال صرف مہنگائی تک ہی نہیں رکتا بلکہ دیگرشعبوں پر بھی اس کا گہرا اثرپڑتاہے ان میں درآمدات اوربرآمدات بھی شامل ہیں۔ خراب ہوتی ہوئی معیشت اور حکومت کی جانب سےمہنگی درآمدات کےباعث ہمارے دفاعی آلات کی درآمدات،اہلکاروں کی ٹریننگ اور اسی طرح نجی شعبے کی جانب سےخام مال کی درآمدات اور صنعتی شعبے میں اس کا استعمال متاثرہوں گی اور اس سے قیمتوں پر برا اثرپڑےگا۔ اس سے پیداوارکی قیمتوں پر برا اثرپڑےگا جس کا دارومدار خام مال کی درآمدات پر ہے۔ موازنے کےطورپر، پی پی پی دورمیں کُل درآمدات 33.15ارب ڈالر تھیں، پی ایم ایل(ن) دور میں 45.2ارب ڈالر ہوئیں اور اب پی ٹی آئی کی حکومت میں 50.474ارب سے55.72ارب ڈالر کےدرمیان ہیں۔ بیرونی قرضوں کی موجودہ صورتحال مندرجہ ذیل ہے:- آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے6ارب ڈالر اور ورلڈ بینک اورایشین ڈویلپمنٹ بینک سے لیاگیاقرضہ 2سے3ارب ڈالر ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان سےلیےگئےقرضے 5.4کھرب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔ کمرشل اورانٹرنیشنل سےلوکل قرضوں سے سرکاری داخلی قرضے 18.17کھرب روپے ہوچکے ہیں، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک جیسےاداروں سے لیاگیاقرضہ 57لاکھ 80کروڑ ڈالرہے۔ اس معاشی بحران جو بڑھتاہی جارہاہے اور بے قابوجِن کی شکل اختیار کررہاہے، یہ ملک کو مقامی سطح سے عالمی سطح پر جزوی دیوالیہ بناسکتاہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ حتٰی کہ آئی ایم ایف نے 6.3ارب ڈالر کا وعدہ کرکے صرف ایک ارب ڈالر ہی جاری کیےجبکہ سودکی مدمیں ہم نے آئی ایم ایف کو 4.2ارب ڈالر اداکرنےہیں۔

حکومت اور دیگر ذرائع کےپراپیگنڈےسےیہ تاثرملک رہاہے کہ آئی ایم ایف کا پیکج پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نجات دلائے گا۔ ایسا لگتاہے کہ ہم بحران سے باہر نہیں نکل رہے بلکہ ان عالمی قرضوں اور اندرونی قرضوں کے جال کے ذریعے ہمیں عالمی دیوالیہ پن کی جانب دھکیلا جارہاہے۔ دوسری جانب ایف اے ٹی ایف بھی ایک اورجھٹکاہوگا جس سےعالمی دبائوکےباعث معیشت بری طرح متاثرہوگی۔ اس سے قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہاہے اوربالآخر لوئر مڈل کلاس اورعام آدمی خاص طورپر متاثر ہوگا۔ میں نہیں جانتا کہ کیا حکومت نےمعاشرےکی مختلف سطح پراس معاشی بحران سےپڑنےوالےبرےاثرات سےنمٹنے کیلئے کوئی کام کیاہے۔ یہ امرپریشان کن ہے کہ عام آدمی کو معمولاتِ زندگی جاری رکھنےکیلئےاوربچوں کیلئےروزی روٹی کیلئےکافی دبائوکاسامناکرناپڑرہاہے۔ اس معاشی بحران سے بچوں کی تعلیم پربھی اثرپڑاہے کیونکہ مہنگائی کےباعث والدین کیلئے بچوں کی فیسیں پوری کرنامشکل ہورہاہے۔ اور بہت سے والدین پہلےہی بچوں کو معیاری سکولوں سے عام نجی یا سرکاری سکولوں میں داخل کراچکے ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکرہےکہ تمام سابقہ حکومتوں نے یہ یقینی بنایاتھاکہ بجٹ کے باعث معاشرے کےنچلےطبقےپرکوئی اثرنہ پڑے۔ ملک کے موجودہ منظرنامے سے واضح طورپر پتہ لگتاہے کہ یہ معاشی بحران اور قرضوں کاجال پورے معاشرے کو متاثرکررہاہے۔ جو کچھ اوپربیان کیاگیاہے،یہ سب حکومت کو جاننےکی ضرورت ہے اورعام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کیلئے کوئی حل تلاش کرناچاہیئے۔ دوسری صورت میں اگر حکومت عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے میں ناکام ہوگئی توعام آدمی حکمران کی زندگی مشکل بنادےگا۔ میں یہ کہنا چاہوں گاکہ بغیرمزید تاخیرکےاندرونی اور بیرونی قرضوں کےموجودہ بحران سے نمٹنے کیلئےمنصوبہ بندی کی جائے۔ فوری طورپر مجھےحکومت کے پاس کوئی قابلِ عمل اورمناسب حل نظرنہیں آرہا۔ یہ واضح ہے کہ قیمتوں میں بلاروک ٹوک اضافہ ہورہاہے اور یہ اضافہ عام آدمی اورلوئرمڈل کلاس پرمنتقل ہورہاہے۔ ایسالگتاہے کہ ہر گزرتےدن کیساتھ عوام کیلئے دبائو میں مزید اضافہ ہوتاہے۔ ایسال لگتاہے کہ اگرایسا جاری رہا تو مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس ختم ہوجائے گی اور غریب طبقے میں بدل جائے گی۔ جو کچھ سیاسی محاذ پر ہورہاہے لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ عام آدمی کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ عام آدمی کو کیا ریلیف دیاجارہے۔ میں نےیہ سب معیشت کے طالبِ علم کےطورپرتجزیہ کیاہے لیکن میراخیال ہے کہ معاشی ٹیم صورتحال سے نمٹنے کیلئےکسی تجویزکےساتھ سامنےآئےگی اورعام آدمی کے مفادات کا تحفظ کرےگی اور اس سب پرپارلیمنٹ ہائوس میں بھی گفتگوہوگی اور بہتر معاشی اقدامات پر رضامندی ہوگی بجائے اس کے کہ ایڈہاک بنیادوں پر حکومت چلائی جائے گی اور پارلیمنٹ کو استعمال کرنے سے گریز کیاجائےگا۔

اس کا استعمال لوگوں کی بہتری کیلئے کرناچاہیئےاور انھیں مایوس نہیں کرناچاہیئے۔ میری عاجز رائے کےمطابق مجھے لگتاہے کہ عالمی ادارے پاکستان کو ان قرضوں کے جال سے نکالنے کیلئے مدد کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ کچھ عالمی طاقتیں پاکستانی کو عالمی طورپر دیوالیہ ہوتا دیکھناچاہتی ہیں۔ موجودہ حالات میں میں حکومت کو ایک اہم تجویز دیناچاہتاہوں:-ہماری حکومت کو چین سے مذاکرات کرنے چاہیئےکہ وہ ہمارے قرضے لے اور ہمیں چین کے ساتھ درآمدات اور برآمدات میں چینی کرنسی یوآن میں ڈیل کرناچاہیئے۔ یہ تجویز پی پی پی حکومت نےدی تھی۔ میں اسے آگے لیجاناچاہتاہوں اور حکومت کویہ تجویزدیناچاہتاہوں کہ حکومت چین سے ہمارے 105ارب ڈالر کےقرضےلینےکی درخواست کرے اور اس کی ادائیگی 5سال بعدکی جائے۔ ہم سی پیک پراجیکٹ سے اپنےحصےکےمنافع کاشیئرایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔ مجھے یہ راستہ ہی روشنی کی ایک کرن لگتاہے ، اس سے ہم مختصروقت میں اپنی معیشت کو مستحکم کرسکتے ہیں ۔ حکومت کو میری تجویز یہ ہے کہ معیشت کی بحالی پرتوجہ دی جائے اور ملک کو عالمی طورپردیوالیہ ہونے سے بچایاجائے۔ دوست مسلم ممالک نے زیادہ کیش نہیں دیا لیکن وہ ادھار تیل فراہم کررہے ہیں اور یہ ادائیگی بھی کرنی ہی پڑےگی۔ یہ امرقابلِ ذکرہےکہ تیل پیداکرنےوالے تمام ممالک اپنے کلائنٹس کو ادھار یا سٹینڈبائےایل سی پرچھ ماہ سے ایک سال کیلئےمعمول کے مطابق تیل فراہم کرتےہیں۔ لہذا یہ مشورہ ہے کہ اس رقم پرغیرملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کیلئےحکومت کی کامیابی کےطورپرانحصار نہ کیاجائے۔ درحقیقت یہ آسان مالی شرائط پر پاکستان کو ان کے تیل کی فروخت ہے۔ امید کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہماری حکومت قرضوں کے جال سے کس طرح ہمارے وطن کاتحفظ کرےگی۔ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں اوران سے میری پارٹی کے نظریات یاپالیسی کی عکاسی ضروری نہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید