آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
حضرت داؤد علیہ السلام
بیت المقدِس کے قریب دریافت ہونے والے محل کے آثار، ماہرین کے مطابق اسے حضرت داؤد علیہ السّلام نے تعمیر کروایا تھا

کم سِن دائودؑ کی پہلی فتح

قومِ عمالقہ کے ظالم و جابر بادشاہ، جالوت کی فوج کے مقابلے میں صف آرا بنی اسرائیل کے بادشاہ، حضرت طالوت کے لشکر میں ایک کم عُمر نوجوان بھی اپنی غلیل کے ساتھ شامل تھا، کیوں کہ نو عُمر ہونے کی وجہ سے اُسے اسلحہ نہیں دیا گیا تھا۔ جالوت جسم کو سامانِ حرب سے سجائے، نہایت رعونت اور تکبّر سے شاہی سواری پر بیٹھا اہلِ ایمان کو دعوتِ مبارزت دے رہا تھا۔ ابھی بنی اسرائیل کا یہ چھوٹا سا لشکر کوئی فیصلہ بھی نہ کر پایا تھا کہ اچانک اُن کی صفوں میں موجود یہ کم عُمر نوجوان عقاب جیسی برق رفتاری سے باہر نکلا اور جالوت کے سامنے پہنچ کر اُسے للکارنے لگا۔ گوشت کے پہاڑ، لحیم شحیم اور طویل القامت جالوت نے حیرت کے ساتھ نوجوان کو دیکھا، تو حقارت سے بولا’’جا! میری آنکھوں کے سامنے سے دُور ہو جا، مَیں تجھے قتل کرنا پسند نہیں کرتا۔‘‘ بے خوف نوجوان نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گرج دار آواز میں جواب دیا ’’لیکن تجھے قتل کرنا مجھے پسند ہے۔‘‘ پھر فلک پر چمکتے سورج کی تیز روشنی میں ارض و سما نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔ نوجوان کی غلیل سے گولی کی طرح نکلے پتھر سے جالوت کا متکبّر سَر پاش پاش ہو چُکا تھا اور اُس کا طاقت وَر جسم زمین پر اوندھے منہ پڑا تھا۔ یہ سب اِتنا اچانک ہوا کہ جالوت کی اسلحے سے لیس فوج کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا اور وہ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ یہ نوجوان ایک چرواہا تھا، جو سارا دن جنگل میں بکریاں چَرایا کرتا اور غلیل سے بکریوں کے قریب آنے والے درندوں کو مار بھگاتا، لیکن قدرت نے تو اس کے لیے بڑے فیصلے کر رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اُسے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور پھر اُسے نبوّت اور رسالت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’ دائودؑ نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور اللہ نے اُن کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جن جن چیزوں کا چاہا، اُنھیں علم دیا۔‘‘ (سورۃ البقرہ، 251)

حسب نسب، نبوّت و بادشاہی

حضرت دائودؑ 965قبلِ مسیح فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آپؑ ،حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی نسل میں سے تھے۔ محمّد بن اسحاقؓ، حضرت وہب بن منبہؒ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ حضرت دائودؑ پَستہ قد تھے۔ آنکھیں نیلی تھیں، جسم پر بال بہت کم تھے، چہرے سے پاکیزگی جھلکتی تھی، نہایت ہم درد، قوی، بہادر اور نڈر ہونے کے ساتھ، حکم رانی اور فیصلہ کرنے کی قوّت تحفۂ خداوندی تھی۔ حضرت دائودؑ سے قبل بنی اسرائیل میں نبوّت’’ آلِ لاوی بن یعقوبؑ ‘‘ میں چلی آرہی تھی، جب کہ بادشاہت دوسرے خاندان’’ یہودا بن یعقوبؑ ‘‘ میں تھی، لیکن اللہ ربّ العزّت نے پہلی مرتبہ دونوں اعزازات ایک ہی شخصیت میں جمع فرما دئیے۔ حضرت دائودؑ، اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول تھے اور بادشاہ بھی۔ انبیائے کرامؑ میں حضرت آدم علیہ السّلام کے بعد حضرت دائودؑ ہی وہ پیغمبر ہیں، جنہیں قرآنِ کریم نے’’ خلیفہ‘‘ کے لقب سے نوازا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے’’اے دائودؑ! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنا دیا، تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔‘‘ (سورۂ ص26 :)

زبور عطا فرمائی گئی

قرآنِ کریم کی سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے’’اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور دائودؑ کو زبور عنایت کی۔‘‘ سورۃ النساء میں ارشادِ باری ہے’’اور ہم نے دائودؑ کو زبور بھی عنایت کی تھی۔‘‘ (آیت163) امام بغویؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہےکہ زبور اللہ کی کتاب ہے، جو حضرت دائود علیہ السّلام پر نازل ہوئی۔ اس میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں، جو دعائوں اور حمد و ثناء پر مشتمل ہیں۔ تاہم اُن میں حلال و حرام اور فرائض و حدود کا بیان نہیں ہے۔ زبور کے لغوی معنی’’ پارے‘‘ یا’’ ٹکڑے‘‘ کے ہیں۔ دراصل، زبور کے نزول کا مقصد تورات کی تکمیل تھا، اس لیے گویا یہ تورات ہی کا ایک حصّہ یا ٹکڑا ہے۔ زبور، اللہ تبارک تعالیٰ کی حمد و ثناء سے مزیّن ہے اور حضرت دائود علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے دِل نشین آواز اور سحر انگیز لحن عطا فرمایا تھا۔ آپؑ جب زبور کی تلاوت فرماتے، تو وجد آفرین تلاوت سے مسحور ہو کر چرند، پرند، درخت، پہاڑ، جن و انس، دریا و سمندر یعنی سب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں محو ہو جاتے۔ اسی لیے آج تک’’لحنِ دائودی‘‘ ضرب المثل ہے۔ مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’ دائود علیہ السّلام پر قرأت کو آسان اور ہلکا کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنے گھوڑے پر زین کسنے کا حکم فرماتے اور اس سے پہلے کہ زین کَسی جاتی، آپؑ پوری زبور تلاوت کر چُکے ہوتے۔‘‘ حضور نبی کریمﷺ جب حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی تلاوتِ قرآن سُنتے، تو فرماتے’’ ابو موسیٰ کو اللہ نے’’لحنِ دائودی‘‘ عطا فرمایا ہے۔‘‘

قرآنِ پاک میں ذکر

قرآنِ کریم کی 9سورۂ مبارکہ، سورۃ البقرہ، سورۃ النساء، سورۂ المائدہ، سورۂ الانعام، سورۂ الاسراء، سورۃ الانبیاء، سورۃ النمل، سورۂ سبا اور سورۂ ص میں 16مقامات پر حضرت دائودؑ کا ذکر ہے۔ بعض سورتوں میں تفصیل سے اور بعض میں مختصر طور پر اُن کے حالات و واقعات بیان کیے گئے ہیں، جب کہ اُن پر نازل کردہ کتاب، زبور کا تین سورتوں میں ذکر ہے۔

پہاڑوں، جانوروں کی تسبیح

اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء میں فرماتے ہیں کہ’’ہم نے پہاڑوں کو دائودؑ کے لیے مسخّر کر دیا کہ اُن کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی مسخّر کر دیا تھا۔‘‘ (آیت79:)نیز، سورۂ ص میں ارشاد ہے’’ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا کہ صبح و شام اُن کے ساتھ اللہ کی تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے اور سب اُن کے فرماں بردار تھے۔‘‘ (آیت19:)مفسّرین کے مطابق، اللہ تبارک تعالیٰ نے پہاڑوں، پرندوں اور جانوروں کو حکم دیا تھا کہ جب حضرت دائودؑ اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، تو وہ سب بھی ان کلمات کو دُہرائیں۔ جب وہ زبور کی تلاوت کرتے، تو پرندے بھی ہوا میں ٹھہر کر اُن کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں شامل ہوجاتے۔ اسی طرح پہاڑ، شجر اور دیگر جانور بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے۔ اللہ ربّ العزّت نے پتھروں اور درختوں میں بھی ایک طرح کی زندگی رکھی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اُس کا شعور نہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے’’ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی اُن میں ہے، وہ سب اُسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں، جو اُسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں! یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔‘‘ (آیت44:)

لوہا، موم بن جاتا

اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت دائودؑ کو دوسرا معجزہ یہ عطا فرمایا کہ لوہے کو اُن کے لیے موم کی طرح نرم فرما دیا ۔ ارشادِ باری ہے’’اور اُن کے لیے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا کہ کشادہ زِرہیں بنائو اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔‘‘ (سورۂ سبا10,11:)حضرت حسن بصریؒ، قتادہؒ اور اعمشؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اُن کے لیے لوہے کو نرم کر دیا، حتیٰ کہ بغیر آگ و بھٹّی کے اپنے ہاتھ کے ساتھ اُسے ہر طرح سے موڑ لیا کرتے تھے۔ اُنھیں لوہا موڑنے کے لیے ہتھوڑے کی ضرورت پڑتی اور نہ کسی دوسرے اوزار کی، وہ موم کی طرح ہاتھ سے اُس کی کڑیاں بنا لیا کرتے تھے۔ حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے شخص، جنہوں نے کڑیوں کی انتہائی محفوظ زِرہ بنائی، وہ حضرت دائودؑ ہیں۔اس سے پہلے صاف چادر کی زِرہیں بنتی تھیں۔ ابنِ شوزبؒ فرماتے ہیں کہ آپؑ دن میں ایک زِرہ بنا لیا کرتے، جو چھے سو درہم میں فروخت ہوتی۔

زِرہ سازی کی حکمت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’اور ہم نے اُسے (دائودؑ کو) تمہارے لیے لباس بنانے کا ہنر سِکھایا تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچائو ہو۔‘‘(سورۃ الانبیاء80:)تفسیر ابنِ کثیر میں حافظ ابنِ عساکرؒ کی روایت ہے کہ حضرت دائود علیہ السّلام اپنی خلافت کے زمانے میں بھیس بدل کر بازاروں میں جاتے اور لوگوں سے پوچھا کرتے کہ’’ دائود کیسے آدمی ہیں؟‘‘ چوں کہ سلطنت میں عدل و انصاف عام تھا اور لوگ آرام و عیش سے رہتے تھے، کسی کو حکومت سے شکایت نہ تھی، اس لیے آپؑ جس سے بھی سوال کرتے، وہ حضرت دائود علیہ السّلام کی تعریف ہی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی تعلیم کے لیے ایک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا، تو آپؑ نے حسبِ عادت اُس سے بھی وہی سوال کیا۔ فرشتے نے جواب دیا’’دائود بہت اچھے آدمی ہیں۔ وہ اپنے نفس اور اپنی رعیّت کے لیے بھی بہتر ہیں، مگر اُن میں ایک عادت ایسی ہے کہ وہ نہ ہوتی، تو کامل انسان ہوتے۔‘‘ دائود علیہ السّلام نے پوچھا’’ وہ کیا عادت ہے؟‘‘ فرشتے نے کہا’’ وہ اپنے اور اہل و عیال کے خرچ کے لیے بیت المال میں سے لیتے ہیں۔‘‘ یہ بات سُن کر حضرت دائود علیہ السّلام نے دُعا فرمائی’’ اے اللہ! مجھے کوئی ایسا کام سِکھا دے، جو مَیں اپنے ہاتھ سے کروں اور اُس کی اُجرت سے اہل و عیال کے اخراجات پورے کرسکوں۔ عوام کی خدمت اور سلطنت کے تمام کام بلا معاوضہ کروں۔‘‘ اُن کی دُعا قبول ہوئی اور اُنھیں زِرہ بنانے کا ہنر سِکھا دیا گیا۔ (معارف القرآن، ج 7، ص262)

عبادت و اطاعت

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے ’’ہمارے بندے دائودؑ کو یاد کرو، جو صاحب قوّت تھے اور بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ (سورۂ ص17:) مفسّرین فرماتے ہیں کہ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑ کے بہت زیادہ عبادت میں مصروف رہنے کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔ حدیثِ مبارکہؐ میں آتا ہے کہ’’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، دائود علیہ السّلام کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، دائود علیہ السّلام کے روزے ہیں۔ وہ نصف رات تک سوتے، پھر اُٹھ کر رات کا تہائی حصّہ عبادت میں کھڑے رہتے اور رات کے آخری حصّے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے۔ جنگ میں فرار نہ ہوتے۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم)حضرت دائودؑ اپنے زمانے میں لوگوں کے مقتدا و پیشوا تھے، آپؑ عدل و انصاف اور زہد و تقویٰ میں مشہور تھے۔آپؑ بے مثال خطیب بھی تھے اور خطبات میں حمد وثنا کے بعد ’’اَمّابعد‘‘ سب سے پہلے اُنہوں نے ہی کہنا شروع کیا۔ (معارف القرآن)

سلطنت و بادشاہت

اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑ کو نبوّت اور رسالت کے ساتھ، حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔آپؑ فنِ خطابت کے ماہر تھے، جب کہ آواز بھی خُوب صورت پائی تھی، لہٰذا، درس و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کے ذریعے بنی اسرائیل میں جذبۂ جہاد اُبھارا اور اُنہیں کفار و مشرکین کے ساتھ جنگ پر آمادہ کیا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے’’اور ہم نے اُس (دائودؑ) کی حکومت کو مضبوط کیا اور اُنھیں حکمت، نبوّت اور فیصلے کی قوّت عطا فرمائی۔‘‘ (سورۂ ص20:) بہت تھوڑے عرصے میں فلسطین، عراق، شام، دمشق، شرقِ اردن اور خلیجِ عقبہ سے فرات تک جزیرۃ العرب کے بیش تر علاقے اُن کے زیرِ نگیں آ چُکے تھے۔

نافرمان بندر اور خنزیر بن گئے

اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’اور تم اُن لوگوں کو خُوب جانتے ہو، جو تم میں سے ہفتے کے دن(مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ تو ہم نے اُن سے کہا’’ ذلیل و خوار بندر ہو جائو۔‘‘ (سورۃ البقرہ65:) مفسّرین کے مطابق، صُورتیں مسخ ہونے کا یہ واقعہ حضرت دائودؑ کے زمانے میں پیش آیا۔ بنی اسرائیل کے لیے ہفتے کا دن صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا اور اُس دن مچھلی کے شکار سمیت ہر دنیاوی کام ممنوع تھا، لیکن سمندر کے کنارے آباد مچھلی کے شوقین اُن لوگوں نے حکم کی نافرمانی کی، جس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کی شکلوں کو مسخ کر دیا اور پھر تین دن بعد وہ سب لوگ مر گئے۔ تفسیرِ قرطبی میں ہے کہ یہود نے شروع میں تو حیلے بہانے کر کے مچھلیاں پکڑیں، پھر عام طور پر شکار کھیلنے لگے، تو اُن میں دو جماعتیں ہو گئیں۔ ایک جماعت میں علماء و صلحا تھے،جو اُنہیں اس کام سے روکتے، جب کہ دوسری جماعت نافرمان افراد پر مشتمل تھی۔ پھر بستی کے بھی دو حصّے کر لیے گئے اور اُن کے باہمی تعلقات منقطع ہو گئے۔ ایک روز محسوس ہوا کہ جس حصّے میں نافرمان رہتے ہیں، وہاں بالکل سنّاٹا ہے۔ جب وہاں جا کر دیکھا گیا، تو وہاں رہنے والوں کی صُورتیں مسخ ہو چُکی تھیں۔ حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں کہ اُن کے جوان، بندر اور بوڑھے، خنزیر بنا دیے گئے تھے، مگر وہ اپنے رشتے دار انسانوں کو پہچانتے تھے اور اُن کے قریب آ کر روتے تھے۔

ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلتی

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے صحیح مسلم میں منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے زمانے کے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں آنحضرتؐ سے دریافت کیا کہ’’ کیا یہ وہی مسخ شدہ شکلوں والے یہودی ہیں؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں مسخ صورت کا عذاب نازل کرتے ہیں، تو اُن کی نسل نہیں چلتی(بلکہ چند روز میں ہلاک ہو کر ختم ہو جاتے ہیں)۔ بندر اور خنزیر دنیا میں پہلے ہی سے موجود تھے۔‘‘ (معارف القرآن، ج اوّل، ص 243)

حضرت دائودؑ کا وصال

حضرت دائودؑ نے ایک سو سال کی عُمر میں وفات پائی۔ آپؑ نے وسیع و عریض سلطنت پر چالیس سال حکومت کی۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ حضرت دائودؑ ہفتے کے دن اچانک وفات پا گئے اور پرندوں کی ٹکڑیاں اَبر کی طرح اُن پر سایہ فگن تھیں۔ آپؑ کے جنازے میں شریک صرف علمائے بنی اسرائیل کی تعداد چالیس ہزار تھی، جب کہ عوام النّاس کی کثیر تعداد اس کے علاوہ تھی۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ؑاور حضرت ہارونؑ کی وفات کے بعد اس قدر رنج و غم کسی اور کی وفات پر نہ ہوا تھا۔ (ابنِ کثیر)

سنڈے میگزین سے مزید