آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قلم اٹھاتا ہوں تو قد آدم سے کچھ زیادہ قامت رکھنے والے وہ مہربان چہرے آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں جو اب نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ اس سے رات کا اندھیارا دور نہیں ہوتا اور دن کی بے آبرو فحاشی کی خجالت کم نہیں ہوتی مگر یہ حوصلہ ضرور ملتا ہے کہ آنے والے کل کی جستجو میں آج کی تاریکی سے کشمکش ہمارے پرکھوں کی امانت ہے۔ اب دیکھئے، کہنا تو یہ تھا کہ دار و رسن کا موسم لوٹ آیا ہے۔ دریدہ دامن درد مندوں کی سرخروئی کے دن آن پہنچے۔ کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست۔ جو آج سرکشیدہ نہ ہوا، جس نے آج پکار کے کتاب احتساب میں اپنا نام اور پتا نہ لکھوایا، اس کی زیست رائیگاں اور دعوے باطل قرار پائیں گے مگر یہ کہ حرف گفتہ پر تعزیر لگی ہے۔ یہ گل خان نصیر، شیخ ایاز، قلندر مومند اور حبیب جالب کو یاد کرنے کی گھڑی تھی مگر قلم پر کسے اختیار ہے۔ بے ساختہ سجاد باقر رضوی یاد آ گئے۔ پوچھتے کیا ہو باقر کے شام و سحر، وہ بہت دل گرفتہ تھے پہلے مگر بس کسی طور مر مر کے جیتے رہے، بس کسی طور گر گر سنبھلتے رہے۔

جب یہ سطریں آپ کی نظر سے گزریں گی تو وزیراعظم عمران خان امریکہ کے لئے عازم سفر ہو چکے ہوں گے۔ 22جولائی کو انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک مختصر ملاقات کرنی ہے۔ پاکستان امریکہ تعلقات کی طویل تاریخ میں جولائی کے مہینے کو ایک دلچسپ اہمیت حاصل رہی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جولائی 1961میں امریکہ کا پہلا دورہ کیا تھا جب جان ایف کینیڈی کے ساتھ معاملت کی خبروں کو ایوب خان اور جیکولین کینیڈی کی گھڑ سواری کی خوشگوار جھلکیوں میں چھپا دیا گیا تھا۔ 1971کے تیرہ و تاریک برس میں جب یحییٰ خان کی پیشہ ورانہ قیادت میں قائداعظم کا پاکستان دو لخت ہو رہا تھا، ہنری کسنجر نے جولائی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ دراصل کسنجر کے خفیہ دورہ پیکنگ کی ڈرامائی تلبیس تھا۔ اس خفیہ دورے سے امریکہ اور چین میں پچیس برس پر محیط برف پگھل گئی اور پاکستان کو یہ خوش فہمی لاحق ہو گئی کہ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ اس احسان عظیم کا صلہ ضرور دے گا۔ یہ خود فریبی تھی۔ امریکہ کا ساتواں بحری بیڑا مشرقی پاکستان نہیں پہنچا اور ڈھاکہ ڈوب گیا۔ محمد خان جونیجو نے جولائی 1986میں امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ سویلین وزیراعظم کا یہ دورہ جنرل ضیاء الحق کے دل میں شکوک و شبہات کے وہ بیج بو گیا جو مئی 1988میں بار آور ہوئے۔ 1999میں نواز شریف جولائی ہی میں بل کلنٹن سے ملنے امریکہ گئے تھے۔ وہ کارگل کی جان گسل برفانی چوٹیوں سے پاکستان کے ہزاروں بہادر بیٹے بچا لائے لیکن تین ماہ بعد اپنی حکومت نہیں بچا سکے کیونکہ ایک دبنگ اہل کار کے لفظوں میں انہیں یہ سمجھانا مقصود تھا کہ آئین کیا ہوتا ہے اور قانون کسے کہتے ہیں۔ نواز شریف یہ سبق نہیں سیکھ سکے، نتیجہ یہ کہ کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں اور خوش خصال حریف امریکہ کی ہواؤں میں اڑانیں بھرتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی بھی جولائی 2008میں امریکہ گئے تھے۔ اس پر ہم نے پھبتیاں کسی تھیں کہ یوسف رضا کی انگریزی چست نہیں ہے۔ وزیراعظم گیلانی کا انگریزی خرام کوتاہ ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے اپنے کسی سیاسی حریف کو جیل میں نہیں ڈالا۔ 2008میں بھی ہماری معیشت لڑکھڑا رہی تھی اور آئی ایم ایف کے ساتھ گفت و شنید جاری تھی۔ یوسف رضا نے پیچیدہ حالات میں سیاسی مفاہمت کے اصولوں پر چلتے ہوئے وفاق پاکستان کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی نعمت عطا کی۔ یہ ترمیم وفاقی کی اکائیوں میں اعتماد کا وہ پل ہے جو 60برس تک لاٹھی، گولی اور قید وبند کے حربوں سے باندھا نہیں جا سکا تھا۔

جولائی کا مہینہ اس برس بھی افراتفری اور انتشار کی کیفیت لئے ہوئے ہے۔ معیشت بری طرح ڈگمگا رہی ہے اور اقتصادی بحران کے گہرے بادلوں میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ دورۂ امریکہ سے اقتصادی امداد کی بحالی کی امید قرین قیاس نہیں۔ حکومت نے اپنی سیاسی اور انتظامی کمزوریوں کو اختلافی آوازوں کے خلاف لاحاصل احتساب کی بے معنی مہم میں بدل دیا ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں ایک موہوم سا اندیشہ تھا کہ طاقت کے بل پر رونما ہونے والا بندوبست ابتدائی مراحل میں مثبت معاشی نتائج بھی دے سکتا ہے۔ یہ نتائج قلیل مدتی ضرور ہوتے ہیں لیکن ان سے آزمائش کا عرصہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک برس کے تجربے سے معلوم ہو گیا کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہونے جا رہا۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ معیشت کے ڈھانچے میں ایسی بنیادی کمزوریاں موجود ہیں کہ کسی صدری نسخے سے فوری افاقے کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سیاسی بساط پر مسلسل شکست کے باوجود پاکستان میں سیاسی روایت کا تسلسل موجود رہا ہے اور اس ملک کے باشندے اپنے حق حکمرانی سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ کہ استبداد کا ہر تجربہ پاکستان میں ناکام ہوتا ہے۔ عوام عملی طور پر ہار جاتے ہیں لیکن قوم کے سیاسی اثاثے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لمحہ موجود میں ایک سخت گیر سیاسی بندوبست، آمرانہ رجحانات اور ریاستی طاقت کا بے محابا استعمال نوشتہ دیوار ہے لیکن تاریخ نے اس دیوار پر انمٹ روشنائی سے لکھ رکھا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انفرادی توسیع پسندی کی تسکین ممکن ہے لیکن قومی امکان کے پرِ پرواز پر گرہ نہیں لگائی جا سکتی۔

آئین 280شقوں پر پھیلی ہوئی ایک مبسوط دستاویز ہے۔ جس میں بندوبست ریاست، شہریوں کے حقوق، اقتدار کی ترتیب اور اختیارات کی تقسیم صراحت سے بیان کی گئی ہے۔ چالیس برس پہلے ہماری تاریخ کے ایک مرد جری نے اس مقدس دستاویز کو بارہ صفحات کا ایک کتابچہ قرار دیا تھا۔ دستور اس خود ساختہ مسیحا کے استبداد سے زیادہ سخت جان نکلا۔ آج کچھ عالی دماغ اس دستوری نقشے کو ایک صفحے پر سمیٹنے کی کاوش کر رہے ہیں۔ اس کوشش کا انجام خوشگوار نہیں ہو سکتا۔ جب ریاست اور حکومت کا فرق مٹ جائے تو ریاست اور جمہور کے مفاد میں تصادم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مناقشے کا حتمی فیصلہ تاریخ کرتی ہے اور تاریخ وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید