آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان فلم انڈسٹری کام یابی کی پٹڑی پر چڑھ گئی ہے، لیکن ابھی اسے فلم کے کچھ شعبوں میں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی فلموں میں کہانی اور دل چُھو لینے والی موسیقی کا فقدان نظر آتا ہے ۔ماضی میں پاکستانی فلموں کی موسیقی کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ 1971ء میں ریلیز ہونے والی میگا ہٹ فلم ’’دوستی‘‘ کے گیت فلم کی ریلیز سے قبل ہی مقبول ہو گئے تھے۔ ممتاز اداکارہ شبنم پر فلمائے گئے گیت ’’چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے، یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں، بس گیا جو تو ندیوں کے پار سجناں‘‘ … وغیرہ آج بھی سُنے جاتے ہیں، جو ماضی کی شان دار موسیقی کے مظہر ہیں۔ 70اور 80کی دہائی میں شان دار موسیقی ترتیب دی گئی۔ خواجہ خورشید انور، ماسٹر عنایت حسین، ایم اشرف، نثار بزمی، فیروز نظامی، ناشاد، لعل محمد اقبال، نذیر علی، وجاہت عطرے، وزیر افضل، طافو برادران، ذوالفقار عطرے اور امجد بوبی نےناقابل فراموش دُھنیں ترتیب دیں۔ پچھلے آٹھ دس برسوں میں پاکستان فلم انڈسٹری کا نیا جنم ہوا تو ٹیلی ویژن انڈسٹری سے وابستہ ہنرمندوں، فن کاروں اور ہدایت کاروں نے فلم انڈسٹری کا رُخ کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلمیں تو کام یاب ہو رہی ہیں، لیکن ان فلموں کے موسیقی اور گیت، فلم بینوں کے دلوں کے تاروں کو نہیں چھیڑ رہے ہیں۔ نئی فلموں کے گانے صرف ان ہی دِنوں سُنے اور دیکھے جاتے ہیں، جب ان کی ریلیز کے موقع پر پروموشن کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ہم نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے چند نامور گلوکاروں سے اس مسئلے پر گفتگو کی۔

استاد راحت فتح علی خان

حال ہی میں آکسفورڈ یونی ورسٹی سے موسیقی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے موجودہ فلمی موسیقی کے بارے میں بتایا کہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری ترقی کر رہی ہے اور مختلف ممالک میں کام یابیاں سمیٹ رہی ہیں، جہاں تک ان کی موسیقی کی مقبولیت کا سوال ہے، تو صرف اتنا عرض کروں گا کہ جب تک فلموں کے گانے اچھے اور منجھے ہوئے گلوکاروں سے نہیں گوائے جائیں گے، ان فلموں کے گانے سپرہٹ نہیں ہوں گے اور پھر پاکستان میں فلمی گیتوں کی پروموشن زیادہ نہیں کی جاتی، جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستانی فلم ’’ورثہ‘‘ کے لیے میں نے ایک گیت ’’میں تینوں سمجھاواں کی‘‘ گایا تو اس گانے نے میوزک چارٹ پر طویل عرصے تک پوزیشن سنبھالے رکھی۔ بعدازاں اسے بالی وڈ مووی میں بھی شامل کیا گیا۔ میں نے پاکستانی فلموں کے لیے بہت زیادہ نہیں گایا، لیکن جب بھی کوئی پروڈیوسر میرے پاس اس حوالے سے آتا ہے، تو میری کوشش ہوتی ہے،بھرپور سپورٹ کروں۔ ’’ہلہ گلہ، زندہ بھاگ، بالو ماہی، ایکٹر ان لاء‘‘ اور نئی آنے والی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کے لیے چند گانے گائے ہیں، انہیں پسند بھی کیا گیا۔ پاکستانی ڈراموں کے OSTبھی تو مقبول ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا پروموشن عمدہ انداز میں کیا جاتا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی کہ ہماری فلم انڈسٹری مزید ترقی کرے۔

استاد شفقت امانت علی خان

موسیقی کی دنیا کے چمکتے ستارے، عالمی شہرت یافتہ گائیک استاد شفقت امانت علی خان نے ایک ملاقات میں بتایا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستانی فلمی موسیقی مقبول نہیں ہو رہی۔ جب بھی اچھا گانا گایا جاتا ہے، اسے ضرور پسند کیا جاتا ہے۔ البتہ اچھا میوزک ترتیب دینے کی مزید ضرورت ہے۔ دو تین برس قبل جب سپرہٹ فلم ’’پنجاب نہیں جائوں گی‘‘ نے باکس آفس پر کئی ریکارڈ بریک کیے، اس کے گانے بہت مقبول ہوئے تھے۔ میری آواز میں یہ گیت ’’تیرے نال نال‘‘ کو بے حد پسند کیا گیا۔ یہ گیت میوزک چارٹ پر زیادہ عرصے تک نمبر ون رہا۔ میں نے پڑوسی ملک کی فلموں کے لیے بھی کئی گیت گائے، جو بے حد مقبول ہوئے۔ شاہ رُخ پر فلمایا ہوا گیت ’’متوا‘‘ کو فلم بینوں نے سراہا تھا۔ مائے نیم از خان کا گیت ’’تیرے نیناں تیرے نیناں‘‘ نے بھی دُھوم مچائی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمام پاکستانی گائیک اپنی انڈسٹری کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔ فلمیں کامیاب ہوں گی تو آج نہیں تو کل موسیقی اور گانے بھی ماضی کی طرح چپے چپے میں سنے اور پسند کیے جائیں گے۔

حمیرا چنا

پاکستان کی ان گنت فلموں میں پلے بیک سنگنگ کرنے والی سُریلی گلوکارہ حمیرا چنا نے موجودہ فلمی موسیقی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میری ساری زندگی فلموں کے لیے گاتے ہوئے گزری ہے۔ 1996ء سے پاکستانی فلموں سے منسلک ہوں، جہاں تک آج کی فلموں کے میوزک کا سوال ہے تو اس سلسلے میں یہ کہوں گی کہ فلمی موسیقی کا علیحدہ انداز ہوتا ہے، اس کا علم ان موسیقاروں اور گیت نگاروں کو ہے، جو پاکستان فلم انڈسٹری سے طویل عرصے تک وابستہ رہے ہیں۔ ان ہنرمندوں کو موسیقی کی باریکیاں زیادہ معلوم ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فلم اور فلم کی موسیقی کیا ہوتی ہے۔ میں معذرت کے ساتھ ایک بات کہنا چاہوں گی کہ آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں وہ فلم کم اور ڈرامہ زیادہ لگتی ہیں، اس کے باوجود بھی کچھ فلمیں بہت اچھی بن رہی ہیں۔ میں انہیں اس لیے بھی سراہتی ہوں کہ فلموں کا کیمرہ ورک بہت اچھا ہوتا ہے۔ نئی سوچ رکھنے والے فن کار اور ڈائریکٹرز عمدہ کام کر رہے ہیں، لیکن ان فلموں میں وہ میوزک سُننے کو نہیں مل رہا ہے جو ماضی کی سپرہٹ فلموں کا خاصہ رہا ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ آج کل کی فلمیں موسیقی سے خالی ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں سُنا کہ نئی فلموں کا کوئی گانا سپرہٹ ثابت ہوا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ فلم کے لیے گانا ترتیب دینا اور بات ہے اور ڈراموں کے لیےOSTبنانا بالکل مختلف کام ہے۔ فلم کا میوزک کچھ اور ہوتا ہے اور ڈراموں کے لیے بنائے گئےOSTکچھ اور انداز کے ہوتے ہیں۔ فلم کا گانا بناتے وقت موسیقار اور سنگر کے ذہن میں کئی باتیں ہوتی ہیں کہ گانا کس ہیرو یا ہیروئن پر فلمایا جائے گا۔ سچوئشن کیا ہو گی۔ فلمی دُھنیں زیادہ بہتر انداز میں وہی لوگ بنائیں گے، جو ماضی میں فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ہوں۔ فلمی موسیقی کو مقبول بنانے کے لیے سینئر موسیقاروں کو آگے لانا ہو گا، جو شان دار میوزک اور دُھنیں ترتیب دے چکے ہیں۔ یہ موسیقار اسی ملک میں رہتے ہیں، ان کے پاس کام بھی زیادہ نہیں ہے، انہیں بہتر آئیڈیا دے کر عمدہ کام لیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک پلے بیک سنگر موجود ہیں، ان سے کام لیا جائے تو فلمی گیت مقبول ہو سکتے ہیں۔

غلام عباس

صدارتی ایوارڈ یافتہ سُریلے پلے بیک گائیک غلام عباس نے فلمی موسیقی سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ اس بارے میں آج کے موسیقار زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں۔ حیرت ہے مجھ تک نئی فلموں کا کوئی ایک گانا بھی نہیں پہنچا۔ پُرانی فلموں میں جان دار میوزک ترتیب دیا جاتا تھا۔ فلمی موسیقی کا طریقہ کار بالکل مختلف ہوتا تھا، مینوئل ریکارڈنگ ہوتی تھی، ہر ساز الگ الگ بجایا جاتا تھا، مگر ریکارڈنگ ایک ساتھ کی جاتی تھی۔موسیقی میں ایک مٹھاس محسوس ہوتی تھی۔ اب مشینری دور ہے، آج کے موسیقاروں کو دُنیا بھر میں سہولتیں میسر ہیں۔ ڈیجیٹل مشینری کا زمانہ ہے، آج کا موسیقار سو ’’وائلن‘‘ بھی گانے میں شامل کرسکتا ہے، لیکن اب نثار بزمی، اے حمید اور خواجہ خورشید انور، جیسے قابل موسیقار نہیں رہے۔ میں آج کل کے موسیقاروں کو بالکل نہیں جانتا۔ وہ کیا کام کررہے ہیں اور کس کے شاگرد ہیں، نئی فلموں کی موسیقی کس طرح مقبول ہوسکتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ پہلے وہ فلم کے درجے پر فائز ہوجائیں۔ آج کی فلمیں، ٹی وی ڈراما لگتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اب ماضی جیسا عمدہ کام نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ اگر سچی لگن اور محنت سے کام کریں تو نتیجہ اچھا ہوسکتا ہے۔ قابل شعراء کی خدمات نہیں حاصل کی جارہی ہیں۔ آج کا موسیقار خود ہی گانا لکھتا ہے، خود ہی اسے بناتا ہے اور پھر اسے خود ہی سُنتا ہے۔ نئی فلموں کے لیے مقبول شعراء اور گانے کی سچویشن کے اعتبار سے گائیک کا انتخاب کریں۔ سب کام خود ہی کرلیں گے تو موسیقی کے ساتھ انصاف کیسے ہوگا اور دلوں میں اترنے والے گانے کیسے بنائے جائیں گے۔

عاصم رضا

پاکستانی فلموں کے معروف ہدایت کار عاصم رضا نے ہمارے سوال کے جواب میں بتایا کہ نئی فلم انڈسٹری کو تھوڑا سا وقت دیں، فلمیں بھی ہٹ ہوں گی اور ان کی موسیقی اور گانے بھی گلی گلی سُنے جائیں گے۔ بہت مشکلات کے بعد اب فلم انڈسٹری کے حالات بہتر ہورہے ہیں، جب فلموں کی تعداد بڑھے گی اور کام یابی کا تناسب صحیح ہوگا تو موسیقی بھی صحیح سمت میں ترتیب دی جائے گی۔ میری بیگم عائلہ رضا بھی موسیقی میں گہری دل چسپی رکھتی ہیں۔ ان کی وجہ سے میں اپنی فلموں میں بھی موسیقی پر خاص توجہ دیتا ہوں۔ میری فلم ’’ہو من جہاں‘‘ کا گانا ’’شکر پیڑا‘‘ بہت ہٹ ہوا تھا۔ بڑے بڑے سیاست دانوں نے بھی اسے مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیے۔ میری نئی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کا میوزک بھی بہت عمدہ ہے۔

انور رفیع

پاکستان میں برصغیر کے ممتاز گلوکار محمد رفیع کے شاگرد انور رفیع نے ہمارے سوال پاکستانی فلمی موسیقی کے بارے میں بتایا کہ جب اچھی فلمیں بن رہی تھیں تو موسیقی کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ نئی پاکستانی فلموں کی موسیقی اس لیے ماضی کی طرح مقبول نہیں ہورہی ہے ، کیوں کہ نئے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز ان سینئر ہنرمندوں، موسیقاروں اور گلوکاروں سے کام نہیں لے رہے ہیں، جو جس کام میں مہارت رکھتا ہے، وہی بہتر انداز میں کام کرسکتا ہے۔ آج بھی وہ موسیقار زندہ ہیں ، جنہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو سیکڑوں سپرہٹ گانوں سے مالا مال کیا، مگر انہیں فراموش کردیا گیا۔ فلمی موسیقی کا کام کچھ الگ ہے۔ یہ سیدھا سا گانا نہیں ہوتا ہے۔ موسیقار اور سنگر سے فلم کی صورت حال دیکھ کر گانا تیار کروایا جاتا ہے۔ جب ماضی جیسی شاہکار فلمیں بننا شروع ہوجائیں گی، فلمی موسیقی پھر سے رنگ بکھیرنے لگے گی۔

ثاقب ملک

معروف ہدایت کار ثاقب ملک نے فلمی موسیقی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں تو ماضی کے فلمی گیتوں کا دیوانہ ہوں۔ اسی وجہ سے اپنی فلم ’’باجی‘‘ میں 1970ء کی دہائی کے سپرہٹ گیت شامل کیے۔ ’’یہ آج مجھ کو کیا ہوا‘‘ وہ گیت تھا، جو فلم ’’نوکر‘‘ میں بابرہ شریف پر فلمایا گیا تھا۔ ان کی پرفارمنس قابل دید تھی، جب ہم نے فیصلہ کیا کہ ’’باجی‘‘ میں اس گیت کو شامل کرنا ہے، تو آج کی نسل کی گلوکارہ آئمہ بیگ اور نتاشا نے یہ گیت نئے سرے سے ریکارڈ کروایا، جسے بے حد پذیرائی ملی۔ ہمارے پاس شان دار موسیقی ترتیب دینے والے وہ ماضی کے موسیقار تو نہیں رہے، جن کو کام سے عشق تھا، لیکن نئی نسل کو اچھی موسیقی دی جاتی ہے، تو وہ اسے عمدہ انداز میں گاتی ہے۔ ’’ابھی ابتدائے عشق ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘ ایک مرتبہ پھر ہماری فلمیں سنیما گھروں میں راج کریں گی اور ان کی موسیقی بھی گھر گھر سنی جائے گی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید