آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز


وادی مہران کے دامن میں بے شمار تاریخی اور قدیم مقامات سے متعلق پراسرار اور حیرت انگیز داستانیں محفوظ ہیں۔ ان پر سے اگر گزرتے ہوئے وقت کی گرد ہٹا دی جائے تو تاریخ کے ایسے دھندلے نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں جو زمانے کی گردش کا شکار ہوکر ماضی کی بھول بھلیوں میںگم ہوتے جارہے ہیں۔ سندھ کے بیشتر مقامات قدیم عمارتوں، قلعوں ، ٹیلوں ،یادگاروں اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے غیر معمولی شناخت اور شہرت کے حامل ہیں۔ سندھ کے دورافتادہ مقام تھرپارکر میں واقع نوکوٹ تھر کا ایک چھوٹا اور پس ماندہ شہر ہے۔ صحرائے تھر کے آغاز پر واقع ہونے کی وجہ سے اسے ’’تھر کا دروازہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ نوکوٹ شہر، میرپورخاص سے تقریباً 75کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

قلعہ نوکوٹ ،شہر سے تقریباً 6کلومیٹرکی دوری پر ہے۔ یہ قلعہ تھر پارکرتہدیب و تمدن کی عکاسی کرتا ہے اور تھر میں پہاڑی کی بلند چوٹی کی طرح موجود علاقے کی عظمت کا نشان دکھائی دیتا ہے۔ تاریخ کے اوراق کے مطالعے سے قلعے کے قیام سے متعلق جو حقائق منظر عام پر آئے ہیں، ان کے مطابق یہ قلعہ میر شیر محمد تالپور کے والدمیر علی مراد خان تالپور نے 1789ء میں تعمیر کروایا تھا۔ قلعے کی تعمیر کا بنیادی اور اہم مقصد تھر کے سرکش اور باغی سوڈھوں اور انگریزوں سے اپنا دفاع کرنا اور انہیں زیر کرنے کے منصوبے بنانا تھا۔ بعد ازاں میر کرم علی خان تالپور نے 1814ء میں قلعہ کی مرمت کرائی اور اسے تباہی سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے۔ 1783 سے 1843 تک تالپور حکم رانوں کا 60 برس کا مختصر عہد اقتدار،سیاسی ریشہ دوانیوں کا زمانہ رہا۔ اس عرصے میں انہیں کبھی شجاع الملک کی جانب سے پریشانی کبھی سردار محمد عظیم کی حملے کی دھمکیاں ۔ 'عمرکوٹ پر 'جودھپورکے مہاراجہ کا قبضہ تھا، جبکہ جنوب کی طرف "سوڈھے سردار" تھر والی اراضی پر قابض تھے۔ وہ 'کلہوڑہ دور میں تو خراج دیتے تھے مگر جیسے ہی تالپور خاندان کی حکومت قائم ہوئی انہوں نے خراج کی ادائیگی سے انکار کردیا۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میر فتح علی خان تالپور نےسوڈھوں سے خراج کی وصولی کے لیے سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔اس طرح کی سورشوں سے نمٹنے کے لیے فتح علی تالپور نے تھر میں مختلف جگہوں پر قلعے تعمیر کرائے اور ان قلعوں میں حکومتی کارندوں کو بٹھایا گیا جنہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ 'سوڈھوں سے بذریعہ قوت لگان وصول کریں۔ان اقدامات سے تالپور حکمران اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔

یہ قلعہ تھر کے دوسرے قلعوں ، فتح گڑھ، سینگاریو، چیلہار، اور اسلام کوٹ سے بڑا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس قلعہ کی تعمیر پراس دور کے 8 لاکھ روپے سے زیادہ کی لاگت آئی ہوگی۔ یہاں تالپوروں کی فوج کے سپاہی رہتے تھے اور ساتھ میں بارود، بندوقیں اور توپوں کا ذخیرہ بھی تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً 640فٹ اور چوڑائی 440فٹ ہے۔ قلعہ کی تعمیر میں پکی اینٹوں کو جوڑنے کے لیے مٹی کا گارا اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔قلعہ نوکوٹ صحرائے تھر کے تمام قلعوں سے بڑا اور وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ قلعے میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی محفوظ پناہ گاہ میں آگئے ہوں، کیوں کہ اندر وسیع و عریض احاطے کے ساتھ، سامنے اور دائیں جانب کے حصے میں طویل سرنگ نما برآمدے اورغلام گردشیں بنی ہوئی ہیں، جہاں اب حشرات الارض اور چمگادڑوں نے مسکن بنالیا ہے۔ قلعہ کی طویل عرصے سے دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اندرونی حصے کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جن میں سانپ اور بچھوؤں نے اپنے بل بنالئے ہیں۔ قلعے کی مغربی فصیل کے اندرونی حصے میں میروں کےمحلات اور بارہ دری وغیرہ منہدم ہوچکی ہیں۔

قلعے کے اندر مختلف مقامات پر فوجی بیرکیں بھی بنائی گئی تھیں جو اب بھی انتہائی شکستہ حالت میں موجود ہیں۔ قلعے کی دیواریںسڑک کی طرح چوڑی اور کشادہ ہیں۔ قلعہ نوکوٹ میدانی اور ریگستانی علاقوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے کو ’’مہرانو‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں کسی دور میں ’’ہاکڑہ ندی ‘‘ بہتی تھی جو دریا کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے خشک ہوچکی ہے۔ صحرائے تھر کا یہ حصہ ضلع مٹھی کی مغربی سرحد پر واقع ہے، جہاں حدنگاہ تک ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے۔ گرمیوں کا سخت موسم آمدورفت کے حوالے سے سخت عذاب بن جاتا ہے۔ تپتی دوپہر میں گرم ریت وہاں پیدل چلنے والوں کو جھلسا دیتی ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ خطہ بے آب و گیا ریگستان دکھائی دیتا ہے۔بارشیں اس علاقے کے باسیوں کے لیے نئی زندگی کا پیغام لاتی ہے۔ بارش ہوجائے تو یہاں ہر سو سبزے کی حکم رانی ہوتی ہے اور لوگ پانی حاصل ہونے پر پھر سے کھیتی باڑی شروع کردیتے ہیں۔

نوکوٹ کے قلعے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا حصہ فوجی اور انتظامی حوالے سے نہایت اہم ہے۔ یہ ایک دمدمہ کی حیثیت رکھتا ہے، شاہی دروازے سے داخل ہونے کے بعد آپ 48x40 کے دمدمہ میں پہنچ جاتے ہیں، یہاں پر قلعے کی مشرقی اور شمالی دیواروں کے نیچے کمانی دار چھت والی بیرک نما کوٹھریاں ہیں۔ ان میں نہ کوئی کھڑکی ہے نہ ہوا اور نہ روشنی کا انتظام۔تاریکی میں ڈوبی ہوئی بیرکس کےمقامی لوگ مختلف قسم کی روایات بیان کرتے ہیں۔ 

کسی کا کہنا ہےکہ ان بیرکس میں بارودکا ذخیرہ رکھا جاتا تھا، جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا تھا جب کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہاں پھانسی گھاٹ ہوتا تھا ، جہاں لوگوں کو پھانسی دی جاتی تھی۔ اس جگہ پھانسی گھاٹ کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ان کی چھتوں پر ٹانگنے کے لیے کچھ لوہے کے کڑے لگے ہوئے ہیں جب کہ اینٹوں سے بیٹھنے کی نشستیں بھی بنائی گئی ہیں۔ نوکوٹ کے اس خوبصورت قلعہ کو نو برجوں نے سنبھال کر رکھا ہے۔ دو مرکزی دروازے اور دمدمہ کی نگرانی کرتے ہیں، اور تین برج شمال، جنوب، اور مغربی دیوار کے بیچ میں اس کی مضبوطی میں مدد کر رہے ہیں۔ ان نو برجوں میں سب سے مضبوط برج کچھ اس طرح چھپا ہے کہ اسے ڈھونڈنا بھی مشکل ہے۔ اس کا قطر 44.6 فٹ اور اس کا گھیراؤ 139 فٹ ہے۔ اس قلعے کے برج آہنی چٹان جیسے مضبوط ہیں۔

قلعہ نوکوٹ سے کچھ فاصلے پرصوفی بزرگ، حضرت راضی شاہ کا مزار ہے۔ یہ بزرگ کلہوڑہ دورحکومت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مزار پر ہر سال ذی الحج کے مہینے میں عرس ہوتا ہے۔ اس موقع پر یہاں ایک میلہ بھی لگتا ہے۔ہرسال سندھ کے مختلف شہروں سے سیکڑوں عقیدت ماد عرس میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اشیاء کی خریدوفروخت کے لیے بھی لوگ یہاں آتے ہیں۔ اس علاقے کو آباد کرنے کے یے انگریزوں نے قلعہ کے جنوب میں ایک بازار اور کئ چھوٹی چھوٹی عمارتیں تعمیر کروائی تھیں،لیکن شہر کی تعمیر کے منصوبے پر پور ی طرح عمل نہیں ہوسکا، کیوں کہ 1938ء میں ریلوے لائن بچھنے سے اسٹیشن تقریباً 6میل دور بنا اور لوگ بھی ذرائع نقل و حمل کی آسانی کی وجہ سے وہیں آباد ہوگئے۔ قلعہ نوکوٹ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ایک مضبوط قلعہ ہے اور چھوٹا موٹا حملہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ بات درست تھی لیکن وقت کے بے رحم تھپیڑوں نے اس قلعے کی مضبوطی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس قلعے میں موجود قدیم پھانسی گھاٹ کی عمارت بھی منہدم ہو چکی ہے ، اگر فوری طور پر اس پر توجہ نہ دی گئی تو تاریخی قلعے کے آثار مٹ سکتے ہیں ۔

وادی مہران سے مزید