• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


جب بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مودی سرکار کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی پارلیمنٹ میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370کو معطل کرنے کا متنازع اعلان کیا تو دارصل وہ نریندر مودی کے اس وعدے کی تکمیل کر رہے تھے جس کا اظہار بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے منشور میں پہلے کی کر چکی تھی۔ بھارتی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق مودی سرکار کی سیاست کی بنیاد دراصل وہ ہندو قوم پرست نظریہ ہے جس کے عَلم بردار بال ٹھاکرے کی شیو سینا اور آر ایس ایس ہیں اور یہی ہندو قوم پرست نظریہ دراصل مودی سرکار کے 5اگست کے اقدام کے پیچھے کارفرما تھا ۔ اسی لئے جہاں مہذب دنیا جمہوریت پسند طبقات اور بین الاقوامی قوانین کا احترم کرنے والے آرٹیکل 370پر حملے کو بھارت کا غاصبانہ اور غیر آئینی اقدام قراردے رہی تھی وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس اور شیو سینا سے منسلک ہندو قوم پرست آرٹیکل 370کی معطلی کا جشن یہ کہہ کر منا رہےتھے کہ مودی سرکار نے اپنے منشور میں کیا گیا وعدہ پورا کر کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ یقیناً مودی سرکار کا یہ خواب ایک ایسے سراب کی ماند ہے جس کا مقدر صرف اور صرف فضا میں تحلیل ہو جانا ہی ہے۔

اس سراب کے پیچھے بھاگتی مودی سرکار اگر یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر کے اپنے غیر جمہوری اور متنازع ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر پر اپنے غاصبانہ تسلط کو طول دے پائے گی تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے۔ تاریخ کی ردی کی ٹوکری ایسے جابرانہ اور آمرانہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے جن کو عوام کی تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ناکامی کی دھول چاٹنا پڑی۔ لہٰذا آج مودی سرکار خود کو ایک نام نہاد جمہوریت کہنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے ذریعے عوام کو کچلنے کی کوششوں میں بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ کیا مودی سرکار یہ بتا سکتی ہے کہ ریاستی جبر اور عسکری قوت کےذریعے نہتے کشمیروں کو ڈرانا دھمکانا، کرفیو لگا کے ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگانا،ان کے ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن کو بند کرنا، درسگاہوں کو تالے لگا دینا، سیاسی رہنماؤں کو پابند ِ سلاسل کردینا بھلا کہاں کی جمہوریت ہے؟ اگر آرٹیکل 370کی قانونی حیثیت کو دیکھا جائے تو کئی آئینی ماہرین کے مطابق 5اگست کا صدارتی فرمان بھارت کے آئین سے متصادم ہے کیونکہ اس طرح کا صدارتی فرمان صرف دستور ساز اسمبلی کی مشاورت کے بعد ہی جاری کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370کی معطلی کے بعد بھارت اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان قانونی اور آئینی ربط کے خاتمے کے بعد مزید آئینی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان قانونی اور آئینی پہلوئوں کی بنیاد پر ایڈووکیٹ ایم ایل شرما نے صدارتی فرمان کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج بھی کر دیا ہے۔

اپنے غاصبانہ عزائم کے نشے میں دھت مودی سرکار شاید بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ سفارتی معاہدوں کو بھی بھول چکی ہے ورنہ اسے معلوم ہوتا کہ ریاست جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھے نہ ہی کبھی ہو سکتے ہیں۔ جموں و کشمیر تو ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس حوالے سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ بین الاقوامی معاہدے بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اس بین الاقوامی معاملے کے فریق ہونے کے ناتےپاکستان ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

یہی وجہ ہے کے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پریکساں موقف رکھتی ہیں، اس کی تازہ مثال 6اگست 2019کو منعقدہ پارلیمنٹ کا وہ مشترکہ اجلاس ہے جس میں ملک کی پوری قیادت موجود تھی۔ اس اجلاس میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصبانہ عزائم کو عالمی سطح پر بےنقاب کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے اس کے لئے ضروری ہے دنیا کو یہ بتایا جائے کہ جمہوریت اور سیکولرازم کے کھوکھلے دعوےکرنے والا بھارت مودی سرکار کی قیادت میں دراصل تیزی سے ایک ہندو قوم پرست معاشرے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں اقلیتیں بالعموم اور مسلمان بالخصوص خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور جمہوری روایت کو جس طرح پامال کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بین الاقوامی سطح کے ساتھ ساتھ بھارت میں موجود معتدل، مہذب اور امن پسند طبقات کے ساتھ رابطے بھی استوار کرنا چاہئیں۔ ایسے طبقات جو بال ٹھاکرے کو نہیں بلکہ گاندھی کو اپنا نظریاتی گرو مانتے ہیں، جو مودی سرکار کے جنگجو عزائم کے مخالف اور پاکستان کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی اجلاس کے دوران کشمیر جیسےاہم قومی اور ملکی معاملے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی طرف سے تعاون کی پیشکش ایک خوش آئند امر ہے لہٰذا ملکی اور قومی مفاد کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوے حکومت کو بھی چاہئے کہ کشمیر جیسے اہم معاملے پر جو بھی حکمت عملی تشکیل دے اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی آراء اور تجاویز کو شامل کرے تاکہ ملکی مفاد کی اس اہم پالیسی کو تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل تائید حاصل ہو۔

تازہ ترین