آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سلمان یونس

قیام پاکستان سے قبل کراچی شہر جہاں دیگر خصوصیات کا حامل تھا، وہیں یہاں مختلف کھیل بھی کھیلے جاتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی میں یہ سلسلہ جاری رہا۔ ایک وقت تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ گلی گلی بچے مختلف کھیل کھیلتے، جیسے ہاکی، فٹبال، کرکٹ وغیرہ لیکن جہاں اس شہر کا مزاج بدلا کھیل اور نام ور کھلاڑی بھی منظر عام سے غائب ہوگئے۔ گلیوں میں سناٹے کا راج ہوگیا اور کھیل کے شائقین منہ بسورتے رہ گئے۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں اسکواش کا طوطی بولتا تھا، ٹیبل ٹینس بھی شوق سے کھیلا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت کرکٹ کراچی والوں کا مقبول کھیل نہیں تھا، لیکن پھر گلی گلی کرکٹ میچ ہونے لگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کے دیگر کھیلوں کی جانب بھی توجہ دی جائے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے راہیں ہم وار کی جائیں۔

فٹ بال:

شہر کراچی جس کا مختلف وقتوں میں مختلف نام تھا اور یہ چند ہزاروں پر مشتمل مچھیروں کا ایک چھوٹا شہر ہوا کرتا تھا، آبادی کی اکثریت بلوچی، مکرانی، جھکرانی، بروہی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اور فٹ بال ان کا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا جو آج بھی ہے۔

غیر منقسم ہندوستان میں ’’محمڈن اسپورٹس‘‘ اور ’’موہن بگان‘‘ دو مختلف مذاہب فکر کے لوگوں پر مشتمل ٹیم ہوا کرتی تھی جو کلکتہ گرائونڈ کو رونقیں بکھیرتی تھیں۔ کراچی ہی وہ شہر تھا جو مسلمان ہونے کی لاج رکھتے ہوئے ’’محمڈن اسپورٹس‘‘ کو مایہ ناز پیشہ ور کھلاڑی فراہم کرتا تھا۔ جو فتح یابی اورکامرانی شناخت بنے۔ کراچی کے کھلاڑی تو فٹ بال میچ کھیلنےکےلئے سمندری جہاز پر بیٹھ کر برطانیہ اورہالینڈ بھی جایا کرتے تھے۔ افسوس صد افسوس پاکستان کے قیام کے بعد ان مایہ ناز کھلاڑیوں کو لوگوں نے گمشدگی کے غار میں دھکیل دیا۔

آج اگر فٹ بال کو پاکستان میں زندہ رکھنا ہے اور دنیا میں اس کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے تو ان نگینوں کو تلاش کرنا ہوگا ،جن سے ایک اچھے کل کی امید کی جا سکتی ہے۔

باکسنگ:

لیاری کو اس بات پر بڑا ناز ہے کہ باکسنگ کے کھیل نے انہیں ایک الگ پہچان دی ہے۔ قومی باکسنگ کے مقابلوں میں لیاری کے باکسرز نے ہمیشہ بین الاقوامی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کراچی کے ان خستہ حال اور اجڑے ہوئے گراؤنڈ میں جہاں فٹ بالز اور باکسر پیدا ہوتے رہے ہیں،کئی سال گزر جانے کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کاش ادارے آگے بڑھیں اور فٹ بال اور باکسنگ کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو موقع فراہم کریں۔ یہ وہ ستارے ہیں جو آپ کی نظر کرم کے منتظر ہیں۔

ٹیبل ٹینس:

افسوس اس کھیل میں ہم کوئی خاص مقام حاصل نہیں کر سکے۔ کراچی والے جناب ’ابوالخیر نعمانی ‘ مرحوم کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں شرف آباد کلب میں اس کھیل کے فروغ کے لئے جگہ مخصوص کی تھی۔ جس کے بعد کالج اوریونی ورسٹی میں بھی اس کھیل نے پذیرائی حاصل کی۔ لیکن اب یہ کم ہی کھیلاجاتا ہے۔

اسنوکر:

اس کھیل کی ترقی کا سہرا کراچی میں جناب فخرالدین دلیکا کو جاتا ہے، جنہوں نے کراچی کلب میں اس کھیل کو بڑے زور و شور سے روشناس کرایا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ پاکستان اس کھیل میں ورلڈ چیمپئن ہو گیا۔ اس تمغے کو ہم نے کچھ عرصے تک تو ضرور سینے سے لگائے رکھا لیکن افسوس پھر وہی ہوا جو دوسرے کھیلوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔

ہارڈ ٹینس:

ٹینس کراچی والوں کا ایک پسندیدہ کھیل ہے لیکن بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ کراچی میں چند جگہیں جہاں ہارڈ ٹینس، زندہ ہے۔ ان میں کشمیر روڈ کمپلیکس، کاسمو پولیئن کلب، کراچی جیم خانہ، سندھ کلب، ڈیفنس کلب، ہوٹل مڈ وے ہائوس، 63 سالوں میں اعصام الحق کی صورت میں پاکستان نے U.S.A اوپن چیمپئن شب میں داخل ہوا ہے۔

آج سے تقریباً پچیس سال پہلے کراچی کے میئر ’’عبدالستار افغانی‘‘ مرحوم نے اس کھیل کو زندہ رکھنے کے لئے کشمیر روڈ پر میئر ٹینس کپ ٹورنامنٹ کرایا۔ ہمیں عوام میں زیادہ سے زیادہ اس کھیل کو مقبول بنانے اور پذیرائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسکوائش:

اسکوائش کا نام آتے ہی ذہن میں ہاشم خان، روشن خان، جہانگیر خان، جان شیر خان کا نام تازہ ہو جاتا ہے، جنہوں نے اس کھیل کے باعث پاکستان کو دنیا میں ایک اعلیٰ مقام دلوایا۔

برصغیر میں جب انگریزوں کی حکومت تھی اور اسکواش انگریزوں کا پسندیدہ کھیل تھا تو ایک کمسن بچے کو معمولی اجرت پر یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ میدان سے بال اٹھا کر ان کھلاڑیوں کو دیا کرے گا۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل کا روشن خان ہے جو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اس ملک کی پہچان بن جائے گا۔ روشن خان نے دو ہونہار بیٹے کھلاڑیوں کی صورت میں قوم کو دیئے ایک بیٹا جو جہانگیر خان کا بھائی بھی تھا اور اسکا بھی آسٹریلیا میں کھیلتے ہوئے اچانک دل کا دورہ پڑا اور سب کو روتا ہوا چھوڑ گیا۔

جہانگیر خان نے اپنے بھائی سے وعدہ کیا کہ وہ اس کھیل کی لاج رکھے گا روشن خان کی پھیلائی روشنی کو نہیں بجھنے دے گا اس کے بعد جہانگیر خان کے مسلسل دس سالوں تک اسکواش کی دنیا پر راج کیا۔ اس کے بعد جان شیر خان نے ملک و قوم کی عزت بڑھائی اور دس سالوں تک چیمپئن شب کا تاج اپنے سر پر سجائے رکھا۔ اس کے بعد جان شیر خان نے اس کھیل میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن افسوس ان عظیم کھلاڑیوں کے بعد پاکستان اسکواش کی دنیا میں گمنام ہو چکا ہے۔کراچی میں اسکواش کی نرسری ڈیفنس سوسائٹی، ایئر فورس بیس میں اور کشمیر روڈ کمپلیکس کے علاوہ چند مختلف جگہوں پر کھیل کو فروغ دینے میں لگے ہیں دعا کیجئے ان لوگوں کی محنتیں رنگ لائیں۔

ہاکی:

ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ قومی کھیل کی پہچان اس کھیل کی فتح یا شکست سے نہیں ہوا کرتی گو کہ یہ کھیل آج تنزلی کا شکار ہے لیکن پھر بھی قوم ناامید نہیں۔ جب یہ خود غرض اورمفاد پرست ٹولوں سے نجات حاصل کرلے گی اور پھر یہ کھیل فخریہ طور پر کہنے میں حق بجانب ہو گا کہ میں ہی پاکستان کی پہچان ہوں۔ شہر کراچی میں ہاکی کے شیدائی پھر اس پرچم کو بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ کراچی نے ہر دور میں مایہ ناز کھلاڑیوں کو پیدا کیا جن پر پاکستان نے ہمیشہ فخر کیا ان میں عبدالوحید خان، اصلاح الدین، منور، حنیف خان، سید صفدر عباس ، سمیع اللہ، کلیم اللہ شامل ہیں۔

ہاکی اسٹیڈیم شاہرائے فیصل پر ہوٹل میٹروپول اور عسکری اپارٹمنٹ کے نزدیک نہ صرف ہاکی کے کھیل کیلئے ایک کشادہ اسٹیڈیم ہے بلکہ اسے فخر ہے کہ یہاں کئی بین الاقوامی مقابلے بھی ہو چکے ہیں۔ کراچی میں یہ ہاکی کا اہم معروف اسٹیڈیم ہے۔

کرکٹ:

قیام پاکستان کے وقت کرکٹ کراچی والوں کا مقبول کھیل نہیں تھا۔ یہ زیادہ تر پنجاب میں کھیلا جاتا تھا لیکن ہندوستان سے ہجرت کر کے ان صوبوں سے آنے والے، جہاں کرکٹ کھیلی جاتی تھی نے کراچی میں بھی کرکٹ کو ایک مقبول کھیل بنا دیا۔ کرکٹ کے کھیل نے آج تقریباً تمام کھیلوں پر سبقت حاصل کر لی ہے اور اس کا ثبوت ہر محلے اور گلی کوچوں میں کھیلتے ہوئے نوجوان اور بچے ہیں۔ کراچی نے بڑے اہم کھلاڑی دیے ہی۔ کراچی کے سندھ مدرسہ جیسے کرکٹ کی نرسری کہا جاتا ہے حنیف محمد وہ نام ہے، جس نے سندھ مدرسہ کا جھنڈا بلند کیا، ہم ’’سرعزیز‘‘ کا تعارف کرائے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، یہ وہ ہستی ہے جو سندھ مدرسہ میں کھیلوں کے استاد ضرور تھے ، لیکن اس فرض شناس استاد نے اپنی سفید قمیض اور سفید پتلون، جو مرحوم کی پہچان بھی تھی، نے صرف حنیف محمد کو ہی پیدا نہیں کیا بلکہ اور بہت سارے کھلاڑی روشناس کرائے۔

کولاچی کراچی سے مزید
کھیل سے مزید