آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ دنوں اے پی پی کے حوالے سے اخبارات میں ایک اہم خبر شائع ہوئی کہ وفاقی حکومت نے ٹھٹھہ کے نزدیک ’’سندھ بیراج‘‘ تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے، اس منصوبے کو ’’کوسٹل بیراج‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ منصوبہ ٹھٹھہ کے جنوب میں 65کلو میٹر کے فاصلے پر اور کراچی کے مشرق میں 130کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انڈس ڈیلٹا میں سمندری پانی روکنے کیلئے دریائے سندھ پر ٹھٹھہ کے نزدیک تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ بیراج سمندر سے 45کلو میٹر اوپر کی طرف تعمیر کیا جائے گا، یہ کراچی میں پینے کے اضافی پانی کی ضرورت کا اہتمام، انڈس ڈیلٹا میں سمندری پانی کی چڑھائی کو روکنے، زرعی اراضی کو سمندر برد ہونے سے بچانے اور سمندر میں مینگروز کے جنگلات کیلئے مددگار ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں کوٹری بیراج کے نچلے علاقوں میں پانی کے مسائل حل ہونگے۔ وزیراعظم عمران خان نے دریائے سندھ پر سندھ بیراج تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ واپڈا کے مطابق سندھ بیراج کا منصوبہ ڈائون اسٹریم کوٹری میں پانی کی فراہمی کے پرانے مسئلے (پانی معاہدے 91ء کے تحت 10ایم اے ایف پانی ڈائون اسٹریم کوٹری میں چھوڑنا تھا، میری معلومات کے مطابق اس شق پر برائے نام عمل کیا گیا) اور کراچی میں پانی کی کمی کو مدنظر رکھ کر تیار کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے

اور یہ منصوبہ تیزی سے مکمل کرنیکی حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ یہ 2024ء تک مکمل ہو جائے۔ آئندہ ماہ واپڈا فزیبلٹی اسٹڈی پر کام شروع کر دیگا اور اسی سال دسمبر تک عالمی کنسلٹنٹس کی طرف سے فزیبلٹی اسٹڈی کا جائزہ مکمل کیا جائیگا۔ دسمبر 2021ء تک منصوبے کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد سندھ بیراج پر تعمیراتی کام جنوری 2022ء تک شروع ہوگا۔ میرے خیال میں جن مقاصد کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے انکی سندھ بھر میں ہر کوئی حمایت کرے گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کو پانی کی کم فراہمی کا مسئلہ کافی عرصے سے درپیش ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کراچی کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کراچی میں نہ صرف پاکستان کے مختلف صوبوں کے باسی بڑے پیمانے پر روزگار کی تلاش میں منتقل ہو رہے ہیں بلکہ سندھ بھر میں پینے کے پانی کا مسئلہ پیدا ہونے علاوہ ازیں اندرون سندھ صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث دیہی آبادی مسلسل کراچی منتقل ہوتی رہی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کراچی میں بیرونی ممالک کے لاکھوں غیر قانونی لوگ آباد ہیں، ان اسباب کی وجہ سے کافی عرصے سے کراچی میں کئی مسائل کے علاوہ پینے کے پانی کا مسئلہ بڑھتا رہا ہے۔ جب 1991ء میں صوبوں کے درمیان پانی کا معاہدہ ہوا تو اس میں کراچی شہر کیلئے پانی کا کوٹہ الگ مقرر کیا گیا تھا مگر جس انداز میں کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے، پانی کا یہ کوٹہ کراچی کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے چند سال پہلے سندھ کے پانی کے حصے سے کراچی کیلئے پانی کی فراہمی میں کسی حد تک اضافہ کیا گیا، یہ پانی ٹھٹھہ کیلئے مقرر شیئر سے کراچی کو فراہم کیا گیا۔ اس مرحلے پر میں اپنی کچھ تجاویز دوبارہ پیش کرنا چاہوں گا۔ حال ہی میں اسلام آباد اور پنڈی کیلئے پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے تو اسی اصول پر کراچی کو پانی کی ترسیل کے بارے میں عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اسلام آباد کو پانی کی فراہمی میں اضافہ اس اصول کے تحت کیا گیا کہ اسلام آباد میں سارے صوبوں کے لوگ رہتے ہیں لہٰذا یہ طے کیا گیا کہ جس صوبے کے لوگ جس تعداد میں اسلام آباد میں آباد ہیں، اسی تناسب سے ان صوبوں کے پانی کے حصے سے یہ حصہ کاٹ کر اسلام آباد کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ میرا کہنا ہے کہ کراچی میں بھی سارے صوبوں کے لوگ بڑے پیمانے پر آباد ہیں تو اسی اصول کے تحت کراچی کے پانی میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت، حکومت سندھ اور کراچی کی سیاسی قیادت کو اب آواز اٹھانا چاہئے کہ کراچی میں غیر قانونی طور پر آباد غیر ملکیوں کو واپس اپنے ملک بھیجا جائے جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بینچ 2010ء اور 2011ء میں فیصلہ دے چکی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ان غیر قانونی غیر ملکیوں کو فوری طور پر کیمپوں میں منتقل کرے اسکے بعد انہیں واپس بھیج دیا جائے۔ اس مرحلے پر میں اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ ’’سندھ بیراج‘‘ منصوبہ ’’کوسٹل بیراج‘‘ کے نام سے 1970ء میں سندھ کے اس وقت کے آبپاشی کے سیکرٹری وہاب شیخ نے فضل اکبر کمیٹی کے سامنے رکھا تھا۔ یہ کمیٹی حکومت نے صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے بنائی تھی مگر اس کمیٹی کی رپورٹ پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس تجویز کیساتھ کمیٹی کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی گئی تھی کہ ایک اور کوسٹل بیراج سندھ کے کچے کے علاقے اور جنگلات کیلئے بھی تعمیر کیا جائے تاکہ وہاں غیر آباد لاکھوں ایکڑ زمین آباد کی جاسکے مگر اس تجویز پر آج تک اعلیٰ سرکاری حلقوں کی طرف سے کبھی غور نہیں کیا گیا۔ سندھ بیراج والی تجویز کے بارے میں میری سندھ کے کئی آبی ماہرین اور سیاسی حلقوں سے بات ہوئی ہے جہاں یہ حلقے اس منصوبے کی تعریف کر رہے ہیں وہاں ان میں سے کچھ کو اس منصوبے پر کچھ اعتراضات بھی ہیں۔ بہرحال سندھ کے اکثر حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ منصوبہ اچھا نظر آتا ہے مگر ملک کے آئین اور رول آف بزنس کے تحت ایسا کوئی بھی منصوبہ منظوری سے قبل سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی اور بعد میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ سندھ حکومت اس منصوبے پر اسٹڈی شروع کرانے پر غور کر رہی ہے۔