آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک آزادیٴ کشمیر تحریک پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، پروفیسر فتح محمد

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میزبان حامد میر نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان مقاصد کو یاد رکھیں جن کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا، پاکستان کی آزادی کا جو مقصد ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا وہ کشمیر کی آزادی ہے، جب تک پاکستان کشمیر کی آزادی کے مقصد کو حاصل نہیں کرتا قائداعظم کا پاکستان نامکمل رہے گا،تحریک پاکستان کا تحریک آزادیٴ کشمیر سے مضبوط تعلق ہے ،مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست کا تصور پیش کرنے والے علامہ اقبال نے ہی 1931ء میں تحریک آزادیٴ کشمیر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔یوم آزادی اور تحریک آزادیٴ کشمیر کے حوالے سے خصوصی نشریے میں تحریک پاکستان کے کچھ بزرگ کارکنوں کی یادیں بھی شامل کی گئیں۔ معروف دانشور و محقق پروفیسر فتح محمد ملک نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادیٴ کشمیر تحریک پاکستان کے بطن سے پھوٹی ہے، تحریک آزادیٴ کشمیر تحریک پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، تحریک آزادیٴ کشمیر کے سب سے بڑے لیڈر علی گیلانی

تحریک آزادیٴ کشمیر کو تحریک پاکستان کے آئینے میں دیکھتے ہیں،علامہ اقبال کے سیاسی عمل اور فکر نے تحریک آزادیٴ کشمیر کو جنم دیا اور زندگی بھر پروان چڑھایا۔ پروفیسر فتح محمد ملک کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے 14اگست 1931ء کو آزادیٴ کشمیر کی تحریک کا لاہور سے آغاز کیا۔تحریک پاکستان کے کارکن انور عزیز چوہدری نے کہا کہ گاندھی، ولبھ بھائی پٹیل اور نہرو کی منافقت کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا۔پروگرام میں تحریک پاکستان کے کارکن بیرسٹر ایس ایم ظفر،مولانا محمد علی جوہر کی نواسی عزیز فاطمہ اور تحریک پاکستان کے کارکن الحاج شمیم الدین نے بھی اظہار خیال کیا۔تحریک پاکستان کے کارکن بیرسٹر ایس ایم ظفر نے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناح کو لاہور میں پہلی دفعہ تقریر کرتے دیکھا تھا، ہم تمام طلباء کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ہم سے خطاب کررہے ہوں، قائداعظم نے ہمیں اسی وقت بتادیا تھا کہ اب پاکستان کو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے، اب ہم ایک آزاد مملکت کے باشندے ہوں گے، ہم وہاں سے آئے تو پُرامید تھے کہ پاکستان نے بن ہی جانا ہے۔ بیرسٹر ایس ایم ظفر نے مزید بتایا کہ ریڈیو سیلون سے قائداعظم کی انگریزی میں تقریر نشر ہورہی تھی، ہمارے ساتھ دیہاتی لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے لیکن اس طرح سن رہے تھے جیسے ایک ایک لفظ سمجھ میں آرہا ہو، قائداعظم نے جیسے ہی پاکستان زندہ باد کہا پورے گاؤں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے لگے۔مولانا محمد علی جوہر کی نواسی عزیز فاطمہ نے کہا کہ میرے نانا مولانا محمد علی جوہر کی والدہ بی اماں بہت جرأت مند اور بہادر خاتون تھیں، وہ نہیں ہوتیں تو محمد علی جوہر بھی نہیں ہوتے، انہوں نے محمد علی جوہر سے کہا تھا کہ اگر انگریز سے لڑائی لڑنی ہے تو ان کی زبان سیکھو، پتھر بازی اور ڈنڈے بازی سے کام نہیں چلے گا۔تحریک پاکستان کے کارکن الحاج شمیم الدین نے بتایا کہ بھوپال میں تمام علمائے اہلسنت مسلم لیگ کیلئے بہت کام کررہے تھے جن کی قیادت مولانا عبدالحامد بدایونی کے پاس تھی، مولانا عبدالحامد بدایونی کی تقریریں سن سن کر ہم پاکستان بننے سے پہلے پاکستانی بن گئے تھے، انہوں نے نوجوانوں کو مسلم یونین فیڈریشن میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔تحریک پاکستان کے کارکن انور عزیز چوہدری نے کہا کہ گاندھی، ولبھ بھائی پٹیل اور نہرو کی منافقت کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا، گورنر جنرل کے ساتھ طے پاچکا تھا کہ ہندوستان متحد رہے گا اور ایک کنفیڈریشن بن جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید