آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر، او آئی سی اور کینیڈا کو تشویش، روس کا مسئلے کے حل پر زور

اسلام آباد / جدہ (نیوز ایجنسیز / ماریانہ بابر) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور کینیڈا نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن پرتشویش کااظہار کیا ہے جبکہ روس نے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے ۔ او آئی سی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلے کے حل کیلئے اپنی کوششیں تیز کرے ، کینیڈین وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کو فون کیا اور انہیں مقبوضہ وادی کی صورتحال سے آگاہ کیا ۔ ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی فوجی جیل بن گئی ہے بھارت نے عید پر مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی ، اقوام متحدہ بھارت کا احتساب کرے ۔ تفصیلات کے مطابق اوآئی سی سیکرٹریٹ کی طرف سے بدھ کوجاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن کی صورتحال پرتشویش کااظہارکیاگیا۔بیان میں کہاگیاکہ مذہبی حقوق سےانکارعالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف وزری ہےاوآئی سی

بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اورانہیں بلاروک ٹوک مذہبی آزادیاں دی جائیں۔بیان کےمطابق او آئی سی اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہےکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی کوششیں تیز کریں اور انہیں بڑھائیں۔ ادھر کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے اپنے بیان میں مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ با معنی مذاکرات کیے جائیں۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈا کشمیر میں ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا ہے کینیڈا کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورت حال، وادی کی قیادت سمیت کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تمام فریقین ایل او سی اور خطے میں امن برقرار رکھیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمودنےروسی ہم منصب سرگئی لاروف سےٹیلیفونک رابطہ کرکےان سےکشمیرکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب کو، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے اپنے حالیہ خط کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔اعلامیے کے مطابق وزیرخارجہ نے روسی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔وزیرخارجہ کا گفتگو میں کہنا تھا کہ بھارت، غیر آئینی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کےآبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی صریحاً منافی ہیں۔شاہ محمود قریشی کے مطابق ہندوستان کے حالیہ غیر آئینی اقدامات خطے میں امن و امان کیلئے شدید خطرات کا باعث ہو سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے اپنے حالیہ خط کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ روس اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔روسی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور کو پر امن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں وزرائے خارجہ نےخطے میں امن و استحکام کیلئے باہمی روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔علاوہ ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے عید پر مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی ۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پابندیوں اور لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی مذہبی حقوق پر قدغن سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ʼمقبوضہ وادی فوجی جیل بن گئی ہے جہاں کشمیریوں کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں عید کی نماز پڑھنے سے روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی فون، لینڈ لائن اور سیلولر و انٹرنیٹ سروسز کی گزشتہ ایک ہفتے سے بندش سے کشمیریوں سے مذہبی تہوار کے موقع پر اپنے اہلخانہ اور اپنے پیاروں سے بات کرنے کا حق چھینا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ʼپاکستان عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے و دیگر متعلقہ اداروں سے مذہب کے خلاف جرائم اور عالمی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر بھارت کا احتساب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید