آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں بچوں سے کام لینا معمو ل، ڈھائی لاکھ بچے گھریلو ملازم

کراچی (جنگ نیوز) پاکستان میں گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کی حیران کن رپورٹوںاور سوشل میڈیا پرآواز اٹھا جانے کے باوجود ، بچوں کی حفاظت کے لئے سخت قوانین نہیں ہیں، عوام میں غم وغصے کی بڑھتی لہر کے باوجود گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے پنجاب میں ایک موجود ہے تاہم دیگر صوبوں میں نہیں ۔ پاکستان میں بچوں سےکام لینا معمول ہے اور تقریباً ڈھائی لاکھ بچے گھریلو ملازم ہیں ۔ برطانوی اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے انتہائی پوش علاقوں کے چمکتے شیشوں کے دروازوں کے پیچھے ہزاروں بچے نوکروں کی طرح کام کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 2؍ لاکھ 64ہزار بچے گھریلو ملازم ہیں اوران کے ساتھ آجروں کے طرف سے بدسلوکی کے واقعات عام ہیں۔رواں برس لا ہور میں سولہ سالہ عظمیٰ بی بی کو تشدد کے بعد کا قتل کیا گیا۔ 2018 میں سوشل میڈیا پر 10 سالہ طیبہ کے زخمی چہرے اور ہاتھوں کی تصاویروائرل ہوئیں ،جو ایک جج کے کام کرتی تھی۔ جوڑے کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ عوامی غم و غصے کی بڑھتی لہر کے باوجود یہ مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حقیقت میں صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ بچوں کو بغیر کسی تحفظ کے ملازم رکھا جاتا ہے اور جب تک گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے جامع قانونی فریم ورک موجود نہیں ،

صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ بیداری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پراس معاملے پر آواز اٹھانے سے پاکستان میں مثبت نتائج کی امید نہیں جب تک قانون منظور نہیں کیا جاتا۔

اہم خبریں سے مزید