مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے کہا : حکومت طالبان کے ساتھ بلاتاخیر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع کرے، مسلم لیگ ن نے ہمیشہ بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی، طالبان کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔
مثل مشہور ہے ”آں کہ دانا کند نادان ہم میکند مگر بعد از خرابیٴ بسیار“
جو دانا کرتا ہے وہ نادان بھی کرتا ہے مگر بڑی خرابی کے بعد) اب یہ وقت طالبان کو ظالمان کہہ کر مزید مسائل پیدا کرنے کا نہیں، اگر طالبان ازخود مذاکرات میں سنجیدہ ہیں، اور وہ میاں صاحب پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں تو بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں، ہمیں ہر اس راستے کو بند کرنے کیلئے سیاسی ڈائیلاگ کا سہارا لینا چاہئے کہ جو دہشت گردی تک جا پہنچتا ہے، میاں نواز شریف نے ٹکراؤ اور مقابلے کی سیاست چھوڑ دی تھی اور ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرکے عفریت دہر سے نجات پا کر 10 برس صبر و شکر سے گزارے تو آج وہ زیادہ زور و شور سے میدان سیاست میں موجود ہیں، اور ان کا ووٹ بینک پہلے سے بڑھ چکا ہے، بات چیت کے خوار مردے کو اپنا کر انہوں نے سب کچھ بچا لیا، آج طالبان کا ان پر کھلا اعتبار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں طالبان کو مثبت راستے پر ڈال کر ان سے قومی سیاست میں فائد حاصل کیا جا سکتا ہے، ہمیں سب سے زیادہ امن کی ضرورت ہے اور یہ امن انقلاب لانے میں اب حکومت کو دیر نہیں کرنی چاہئے، میاں صاحب کے ہریسے اور نہاری پر نظر رکھنے والے ان کی سیاسی دور اندیشی سے فائدہ اٹھائیں، حکومت نے اگر پانچ برس پوری خرابی کے ساتھ گزارے مگر پانچ برس تک جمہوریت کو بچائے رکھنے میں مسلم لیگ کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو آج یہاں سبھی دست و گریباں ہوتے۔ لوگ اب ملک جمہوریت اور امن کی بقا کے لئے میاں صاحب کو نظرانداز نہیں کریں۔ امریکی سفارتی ترجمان نے یقین دلایا کہ ماضی کی غلطیاں تسلیم کرتے ہیں، امریکہ پاکستان کہ تنہا چھوڑ کر نہیں جائے گا۔
####
لگتا امریکہ بھی پروین شاکر کے محبوب پر گیا ہے، اس لئے اگر وہ تنہا چھوڑ کر نہ جانے کا وعدہ کر رہا ہے توکوئی بات نہیں اس لئے کہ یہ اس کی مجبوری ہے
وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی اک بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
پاکستان سے امریکہ کو پیار ہے، اور پیار ہی پیار میں کبھی کبھی دولتی بھی مار جاتا ہے، مگر ہمارے حکمران ہمارے عوام سے بڑھ کر امریکہ کو چاہتے ہیں اسلئے پھر بھی کہتے رہتے ہیں
مجھے غم بھی ان کا عزیز ہے
کہ انہی کی دی ہوئی چیز ہے
ویسے سچ ہے کہ ہم امریکہ سے یاری لگا کے مفت بدنام بھی ہوئے اور اس سے کوئی کلیدی فائدہ بھی حاصل نہ کر سکے، پاک امریکہ دوستی میں لبھو رام نے موقع پاتے ہی اپنی سری دیوی اور انکل سام سے بدظن کر دیا، اب اگر امریکہ ڈرون حملے بند کر دے، ہمارے حکمرانوں کے بجائے براہ راست پاکستانی عوام سے یاری لگا لے تو نہ صرف اس کا قارورہ ہم سے مل جائے گا بلکہ پاک امریکہ پیوند کاری سے کتنے ہی رنگ رنگ کے پھول کھل اٹھیں گے، یہ دہشت گردوں کی تلاش بھی وہ اب چھوڑ دے کہ دہشت کوئی سونا تو نہیں جو امریکہ ان کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ امریکی حکومت اور عوام پاکستان کے عوام پر بھروسہ کریں وہ ان کے سب کام کر دیں گے۔ ملن کی رات آ چکی ہے آؤ دوستی کر لیں کہ شائد پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو۔
####
مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کہتے ہیں ”اوگرا نے سوئی ناردرن سدرن کو دیوالیہ کے قریب پہنچا دیا۔ اس نام نہاد آزاد ادارے کے خاتمہ کے لئے قرارداد منظور کی جائے۔
جو بات وزیر ہوتے ہوئے ہونٹوں پر نہ آئی وہ اب مشیر بن کر کیوں آ گئی، بس یہی ایک بات ایسی ہے جو ”او… گرا“ کے حق میں جا سکتی ہے۔ ویسے قطع نظر ڈاکٹر عاصم کی مشیری و وزیر کے، اوگرا کوئی اچھا ادارہ ثابت نہیں ہوا مگراس سلسلے میں وزارت پٹرولیم نے اس کے ساتھ شریفانہ تعاون کیا تو آج بات یہاں تک آ پہنچی کہ جب ساری حکومتی مشینری آخری دموں پر ہے تو بیانات سامنے آنے لگے، ورنہ تو کبھی اس اوگرا کی بے حرمتی ڈاکٹر عاصم نے نہیں کی تھی۔ اب سرکس کا کھیل ختم ہونے کو ہے، اور میلہ شالامار لگنے والا ہے، اب تو کسی ایسے کا انتظار ہے جو آئے اور سوکھی کھیتی ہری کر دے، وارث شاہ بھی اس کو بلا رہے ہیں
اک جٹ دے کھیت نوں اگ لگی ویکھاں
آن کے کدوں بجھاؤندا ای
دیواں چوریاں گھیو دے بال دیوے
وارث شاہ جے سنان میں آؤندا ای
ابھی وقت نہیں آیا کہ اقبال کے اس فارمولے کو آزمایا جائے
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دو
####
ہماری مشیر پٹرولیم یا زرداری سے نہیں اوباما سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں ایران سے سستی بجلی اور گیس پائپ لائن لانے سے نہ روکے، کیا وہ حسین باراک اوباما ہوتے ہوئے بھی فرات کا پانی ہم پر بند کریں گے؟
####
اداکارہ سارہ لورین کہتی ہیں بولڈ مناظر کو پرانے پیمانوں پر جانچنا انتہائی افسوسناک ہے۔
ویسے بولڈ مناظر کو اگر پرانے پیمانوں پر نہ جانچا جائے تو پھر ان کا مزا کیا؟ اکثر لوگ بولڈ مناظر سے الرجک ہوتے ہیں حالانکہ فلم جو انسانی زندگی کی عکاس ہوتی ہے، اس میں پیش کئے گئے بولڈ مناظر زندگی کے سیاق و سباق میں ضرورت کے مطابق پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ثابت ہو کہ فلم نے زندگی کے کسی فطری بہاؤ کو روکا نہیں جانے دیا۔ خود حقیقی زندگی میں بولڈ مناظر واقع ہوتے رہتے ہیں اس پر کبھی اعتراض نہیں ہوا، ہر انسان اپنی زندگی میں ملبوس بھی ہوتا ہے اور بے لباس بھی، بس فرق یہ ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کی فلم کو خود دیکھتا ہے جبکہ بڑی چھوٹی سکرین پر تو پوری دنیا اس کے مناظر دیکھتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہماری آنکھوں کو سب کچھ دیکھنے برداشت کرنے کی عادت ہی نہیں، آج کا نیک آدمی وہ ہے جو بولڈ مناظر دیکھ کر بھی بولڈ رہے، اپنے آپ سے باہر نہ نکلے،
سب سے بڑی نیکی اور بلند کرداری آنکھوں کے چلن میں مخفی ہے آنکھ پاک ہے تو بولڈ منظر بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر آنکھ پاک نہیں تو انسان پاک جگہ میں بھی گناہ کا مرتکب ہوسکتا ہے۔