آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ حکومت نے انسانی وسائل پر انوسٹمنٹ کو ترجیح بنایا ہے، صوبے میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کر لی گئی ہے، پنجاب حکومت ملک کے کسی بھی حصے میں تیزاب سے متاثر ہونے والی بچیوں کو معاونت فراہم کرنے کے لئے ’’نئی زندگی‘‘ پروگرام شروع کر رہی ہے۔ چہرہ انسانی شخصیت کی پہچان ہے اسی لئے دین برحق میں چہرے پر مارنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں آئے دن ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ محبت میں ناکامی یا رشتہ نہ ملنے پر نوجوان لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا، اس کے پیچھے یہ شیطانی سوچ کار فرما ہوتی ہے کہ اب یہ چہرہ کسی کے لئے بھی قابلِ قبول تو کیا قابل دید بھی نہ رہے اور ہوتا بھی یہی ہے کہ اس چہرے کی پلاسٹک سرجری بھی ہو جائے تو وہ پہلے جیسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں ایسے متعدد واقعات پر متاثرہ لڑکیوں کو بیرونِ ملک بھجوایا جاتا رہا کہ ملک میں چند پرائیویٹ اسپتالوں کے سوا کوئی ایسا اسپتال ہی موجود نہ تھا جو ایسے مریضوں کو انفیکشن سے محفوظ علاج فراہم کر سکے۔ علاوہ ازیں یہ اتنا مہنگا علاج ہے کہ ہر کوئی اس کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔ 2011میں منظور ہونے والا قانون اس لئے مکمل نہ تھا کہ اس میں متاثرہ شخص کی طبی، نفسیاتی اور معاشی بحالی سے متعلق کوئی شق نہ تھی۔ بقول چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ تیزاب گردی قتل سے بڑا جرم ہے اور اس کی سزا عمر قید ہے، خواہ متاثرہ فریق مجرم کو معاف کر دے یہ معافی تسلیم نہ ہو گی کہ یہ ریاست کے خلاف بھی جرم ہے۔ ’’نئی زندگی‘‘ پروگرام کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، امید ہے اس میں سخت ترین سزا تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا اسپتال بنایا جائے گا جہاں تیزاب گردی سے متاثرہ افراد کا بلا معاوضہ علاج ہو سکے۔ حکومت جتنی جلدی ممکن ہو اس قانون کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ کوئی اور چہرہ بدنمائی سے دوچار نہ ہو اور ایسا کرنے کی سعی کرنے والا نشانِ عبرت بن جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998