آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کو سیاسی اور معاشی چیلنجز کے بعد دفاعی اور سفارتی محاز کا نیا چیلنج درپیش

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سال مکمل کر لیا ہے یہ ایک سال سیاسی اور معاشی چیلنجز سے بھرپور تھا لیکن اب اسے دفاعی اور سفارتی محاذ کا نیا چیلنج درپیش ہے۔ بھارت نے آئین میں ترمیم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد وادی کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانا ہے۔ فلسطین ماڈل پر اب بھارت سے ہندوئوں کو یہاں لاکر آباد کیا جائے گا۔ ہندو یہاں جائیدادیں خرید سکیں گے اور اس طرح مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان کی حکومت نے اس بھارتی اقدام کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ سلامتی کونسل نے پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ بلاشبہ50سال کے بعد کشمیر کے ایشو پر سلامتی کونسل نے غور کیا اور اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں انکشاف کیا کہ ہمارے پاس یہ انفارمیشن ہے کہ انڈیا آزاد کشمیر پر حملہ کر سکتا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نے بھی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی پالیسی پرنظر ثانی کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی طاقت ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے تناظر میں بہر حال جنگ کے مہیب سائے یا بادل چھائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب وادی کشمیر کے لوگ دو ہفتوں سے محصور زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیئے گئے ہیں۔ زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر پر قومی سلامتی کمیٹی کا فوری اجلاس بلایا یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بحث کی گئی لیکن پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزرا اور اپوزیشن رہنمائوں کے درمیان جس طرح الزامات کا مقابلہ ہوا اور جو تلخ ماحول پیدا ہوا ہے وہ ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ ایک تبدیلی البتہ خوش آئند ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی اقدام کے بعد جو بھی تقاریر کی ہیں ان میں ماضی کے برعکس مخالفین پر الزامات سے گریز کیا۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا کر اپوزیشن رہنمائوں سے ذاتی رابطے استوار کریں۔ جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو بھارت پر سفارتی دبائو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ اسے بڑھایا جائے۔ خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی تو اس کے نقصانات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ جہاں تک پی ٹی آئی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا تعلق ہے تو وزیراعظم عمران خان نے جو خوشنما وعدے اور دعوے کئے تھے ابھی تک وہ پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ موجودہ حکومت نے 7.5 ٹریلین یا کھرب کا قرضہ لیا۔ گیس کی قیمتوں میں 333 فیصد اضافہ کیا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں 2.76 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا۔ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر عوام پر 1.3 کھرب کا بوجھ ڈالا گیا۔ بجٹ خسارہ 1.1 کھرب بڑھا۔ افرط زر کی شرح بڑھ کر 10.3 فیصد پر آگئی جو چھ سال کی بلند ترین شرح ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں 29 فیصد کی ریکارڈ کمی کی گئی۔ گزشتہ ایک سال میں ایف بی آر کو ٹیکس کی وصولی میں 318 ارب کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 7.50 فیصد سے بڑھا کر 13.25 فیصد کردیا۔ ایک سال میں سٹاک ایکسچینج 52ہزار پوائنٹس سے گر کر 28ہزار پر آ گئی اس کے نتیجے میں کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوگیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.7 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ پی ٹی آئی حکومت کے بعض مثبت اقدامات یا کامیابیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارے میں 6.3 بلین ڈالر کی کمی وقع ہوئی ہے۔ تجارتی خسارے میں 5.76 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ تجارتی خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ درآمدات میں 6 بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کا ایک کریڈٹ یہ بھی ہے کہ اس نے خوف پیدا کیا کہ بے نامی جائیداد رکھنے والوں کے خلاف ایکشن ہوگا اور فائلر بننے میں ہی انکی بقاہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار نئے ٹیکس فائلر بنائے گئے۔ بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز میں 1.4 فیصد کمی کی گئی ہے۔ بجلی کے بلوں وصولی میں بہتری آئی ہے اور یہ وصولی 121 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان آزادانہ تجارت کے نظرثانی شدہ معاہدے پر دستخط سے بھی پاکستان کو فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ سعودی عرب سے 21 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز پر دستخط کئے گئے ہیں۔ روس کے ساتھ آف شور گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کی مالیت دس ارب ڈالر ہے۔ 10سال کے بعد برٹش ایئر ویز نے پاکستان کیلئے اپنی پروازیں بحال کیں۔ موجودہ حکومت نے سادگی اور کفایت شعاری کو اختیار کرکے انتظامی اخراجات میں 10 فیصد کمی کی ہے جو قابل ستائش ہے۔ 3.9ارب روپے مالیت کا قومی زرعی پروگرام شروع کیا گیا ہے جو تین سال میں مکمل ہوگا۔ 100ارب روپے مالیت کا کامیاب جوان پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ وزارت سماجی بہبود و انسداد غربت کے نام سے نئی وزارت قائم کی گئی ہے جس کے تحت احساس پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ ایک وعدہ جس پر حکومت عمل کرنے میں ناکام رہی وہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے۔ وفاقی محکموں میں 70ہزار اسامیاں خالی ہیں۔ سی ڈی اے میں چھ سال سے کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ وزیراعظم کم ازکم خالی اسامیوں کو میرٹ پر بھرتیوں کے ذریعے پُر کرنے کے احکامات دیں۔ 50 لاکھ مکانوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی سست روی کا شکار ہے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے قیام میں بھی 10 ماہ لگ گئے ہیں ۔ بہرحال اب حکومت کا دوسرا سال شروع ہوچکا ہے اب اس کے پاس یہ جواز نہیں ہے کہ سابقہ حکومت نے مسائل وراثت میں دیئے۔ ایک سال مسائل کو حل کرنے، سمت کو درست کرنے اور نتائج دینے کیلئے مناسب وقت ہے۔ وزیراعظم ریاست مدینہ کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائیں جو مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر چیخیں مار رہا ہے۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید