آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیسل
ہم اوورسیز پاکستانی کہلانے والی مخلوق کا یہ ذاتی المیہ ہے کہ ملک سے باہر بس کر بھی ملک کی یادوں میں کھوئے رہتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے وطن عزیز کی راہ پکڑتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے بہت سال گزر گئے اس بار سوچا بڑی عید کا مزے سے مادر وطن میں لطف اندوز ہوا جائے سو ہم بھی جا پہنچے پاکستان۔ برسا برس بیت گئے تھے پاکستان میں عیدوں کا مزہ صرف رشتے داروں سے سن، سن کر لے رہے تھے اس بار ذاتی تجربے کے لئے ہم نے بھی رخت سفر باندھا۔ اتنے برس میں اور خان صاحب کے تبدیلی کے نعرے سن سن کر ہمیں تو لگتا تھا بڑی عید پر اس روایتی گندگی کا سامنا نہیں ہوگا جو اس خصوصی موقع کا خاصہ ہوا کرتا تھا، لیکن یہ تو ایک خیال تھا جو محض سوچوں تک ہی محدود تھا جو جناح ائیر پورٹ کی مہمان نوازی جھیلنے کے بعد شہر کی حدود میں داخل ہوتے ہی چکنا چور بھی ہوگیا۔ اندازہ ہوا کہ ملک کے حالات بدلنے کی ذمے داری صرف حکومت کی ہی نہیں اس میں ملک کے عوام کو بھی بھرپور ساتھ دینا ہوتا ہے لیکن شاید عوام کو یہ گمان کرنا بھی بار خاطر لگتا ہے کہ انھیں ایک صاف ستھرے پاکستان کی کتنی ضرورت ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے یہ سوچنا محال ہوگیا ہے کیونکہ نصف ایمان کو تازہ رکھنا کسی کے لئے ضروری نہیں کم از کم اس ملک کے عوام کے لئے تو بالکل بھی

نہیں۔ بڑی عید کو ہی لیجیے قربانی مذہبی فریضہ ہے لیکن قربانی سے پہلے اور بعد میں پورا ملک جس طرح کچرا کنڈی کا منظر پیش کرتا ہے اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے عوام پر یا پھر شہری حکومتوں پر؟؟ ہم اتنے برس برطانیہ میں رہ کر یہ سمجھے ہیں کہ یہ معاملہ دونوں کا ہے۔ نہ شہری حکومتیں اس سے بھاگ سکتی ہیں نہ ہی عوام اس گندگی کا الزام اداروں پر ڈال کر اپنے عوامی فرائض سے کندھا جھاڑ سکتے ہیں۔ قربانی اپنے دروازے پر کی تو اپنے گھر کے اندر نہیں بلکہ اپنے محلے کی صفائی کی ذمے داری ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔ صرف ناک بھوں چڑھا کر یہی کہہ دینا کی کتنی گند ہوگئی ہے مکھیوں کی بھر مار ہے توبہ توبہ، یہ کہنا سنا بہت ہوا ملک صاف رکھنا ہے تو ہمیں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ یہ گندگی صفائی ستھرائی کا فقدان ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ ہم ایسے ماحول میں کیسے بے حسی کی زندگی گزار سکتے ہیں جہاں مکھیوں اور مچھروں کا طوفان ہو اور ڈینگی جیسے خطرناک مرض کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاے۔

یورپ سے سے مزید