آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کو غذائی الرجی سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟

سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ غذائی الرجی کیا ہے۔ الرجی میں مبتلا شخص کے جسم میں جب الرجی کا باعث بننے والی غذا (غذائیں) داخل ہوتی ہے تو اس کا مدافعتی نظام مفلوج ہوکر خود اپنے ہی خلاف لڑنے لگتا ہے۔ اس صورتحال کو سادہ الفاظ میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ غذائی الرجی میں مبتلا شخص کا جسم خود کوتصوراتی طور پر یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ یہ غذا (جوکہ درحقیقت بےضرر ہے) اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے، جس کے بعد اس کا مدافعتی نظام اس غذا (جوکہ درحقیقت جسم کے لیے فائدہ مند ہے) کے خلاف ردِعمل کے طور پر سرگرم ہوجاتا ہے۔

بچوں میں الرجی

ہرچندکہ بچوں میں الرجک ری ایکشن (غذائی الرجی کا باعث بننے والی غذاؤں کے خلاف ردِعمل) معتدل ہوتا ہے، تاہم یہ حقیقت الرجی میں مبتلا بچوں کے والدین کو تشویش میں مبتلا رکھنے کے لیے کافی ہےکہ کچھ الرجک ری ایکشن ’شدید‘ اور’جان لیوا‘ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں 8غذاؤں کی نشاندہی کی جاچکی ہے، جو 90فی صد الرجک ری ایکشن کا باعث بنتی ہیں:گائے کا دودھ، مونگ پھلی، شیل فش، انڈے، گندم، گری دار میوے، سویا اور مچھلی۔ امریکا کے ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول‘ کے مطابق، جن بچوں میں غذائی الرجی پائی جاتی ہے، ان میں دیگر افراد کے مقابلے میں دمہ کا مرض ہونے کے امکانات 2سے 4گُنا زیادہ پائے جاتے ہیں۔

الرجی کا علاج

الرجی کا علاج ممکن نہیں ہے، تاہم ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ان سے بچنے کا طریقہ ضرور موجود ہے۔ بچوں (جن میں عمومی غذائی الرجی کے خطرات موجود ہوتے ہیں) کی غذا میں چھوٹی عمرسے ہی الرجی پیدا کرنے والی غذائیں شامل کرکے ان میں غذائی الرجی کے خلاف بہتر مدافعت پیدا کی جاسکتی ہے۔

مونگ پھلی والی غذاؤں سے الرجی

امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے 2017ء میں پہلی بار والدین کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں بتایا گیا کہ والدین اپنے بچوں کو الرجی سے محفوظ رکھنے کے لیے مونگ پھلی والی غذاؤں سے کب متعارف کروائیں۔ این آئی ایچ نے ان رہنما اصولوں میں والدین کو تجویز دی کہ وہ بچےجن میں انڈوں سے الرجی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے (جیسے ایگزیما، جس میں خارش کے ساتھ جِلد لال ہوجاتی ہے)، انھیں 4سے 6ماہ کی عمر میں ہی مونگ پھلی کھلادینی چاہیے۔ اس کے برعکس، جن بچوں میں الرجی کا خطرہ نہیں ہوتا، ان کی غذا میں یہ کسی بھی وقت شامل کی جاسکتی ہے۔

دیگر غذاؤں سے الرجی

کِلیولینڈ کلینک کے پیڈیاٹرک الرجسٹ، ڈاکٹر برائن شرائر کہتے ہیں کہ بچوں میں الرجی سے متعلق کی گئی زیادہ تر تحقیق ’’مونگ پھلی بمقابلہ دیگر‘‘ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’بچوں کی غذا میں انڈے یا دودھ کو کب شامل کرنا چاہیے، اس حوالے سے کوئی خاص مشورہ نہیں دیا گیا۔ البتہ، کچھ مطالعوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں بچوں کی غذا میں انڈوں کو شامل کرکے انھیں انڈوں کی الرجی سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ دودھ کے لیے بھی یہی بات کہی جاتی ہے‘‘۔

ڈاکٹر برائن شرائر کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصول جس قدر مونگ پھلی کی الرجی سے متعلق واضح ہیں، اتنے دیگر 7غذائی الرجیز سے متعلق نہیں ہیں۔ اس حوالے سے وہ کہتے ہیں،’’والدین اپنے بچوں کو ہر طرح کی غذائی الرجی سے محفوظ رکھنے کے لیے مونگ پھلی کی الرجی سے متعلق حکومت کے رہنما اصولوں کو دیگر 7غذائی الرجیز پر بھی لاگو کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے سائنسی تحقیق اور ثبوت کی بنیاد پر جتنے ٹھوس شواہد مونگ پھلی کی الرجی پر موجود ہیں، اس قدر دیگر اقسام کی غذائی الرجی سے متعلق دستیاب نہیں‘‘۔ تاہم والدین کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذا میں الرجی کا باعث بننے والی غذائیں ڈاکٹر کے مشورے سے ہی شامل کریں۔

دیگر 7غذائی الرجیز پر عدم تحقیق کی کیا وجہ ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر شرائر کہتے ہیں، ’’اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ والدین کو اس بات پر راضی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس طرح کے تحقیقی مطالعوں میں شامل کریں‘‘۔

نیویارک یونیورسٹی لنگون ہیلتھ کی پیڈیاٹرک الرجسٹ، ڈاکٹر پروی پاریکھ کہتی ہیں، ’’یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کا معائنہ کسی الرجی کے ماہرڈاکٹر (الرجسٹ) سے کروایا جائے۔ الرجسٹ ٹیسٹنگ بہت اہم ہے‘‘۔

رِسک فیکٹرز

بچوں میں غذائی الرجی پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر پاریکھ کہتی ہیں،’’ہم بہت زیادہ صفائی ستھرائی اور پروسیسڈ شدہ کھانوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہمارے مدافعتی نظام کو وہ سود مند بیکٹیریا مل ہی نہیں پاتے، جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ ہم والدین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر ’سِنیٹائزر ‘ استعمال نہ کریں۔ چیزوں کو ضرورت سے زیادہ صاف ستھرا (Overly clean)رکھ کر ہم اپنے بچوں کا نقصان کررہے ہیں کیونکہ اس میں وہ سودمند بیکٹیریا بھی صاف ہوجاتے ہیں، جن کی بچوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں میں الرجی اور دمہ کی ایک بڑی وجہ پروسیسڈ اور جَنک فوڈ کا استعمال ہے‘‘۔

حاملہ خواتین

’’اپنے بچے کو الرجی سے محفوظ رکھنے کے لیے حاملہ خواتین کو کسی بھی غذائی پرہیز سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کوئی حاملہ خاتون کسی وقت مونگ پھلی کھانا چاہتی ہے تو اسے ضرور کھانی چاہیے۔ حاملہ خواتین کے مونگ پھلی کھانے سے ان کے بچے کے الرجک یا نان الرجک ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘‘، ڈاکٹر شرائر کہتے ہیں۔ اس بات سے ڈاکٹر پاریکھ بھی متفق ہیں کہ حاملہ خواتین کو ممکنہ طور پر الرجی پیدا کرنے والی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دینا ’وہمی بات‘ کے علاوہ کچھ نہیں۔مزید برآں، ڈاکٹر پاریکھ کہتی ہیں کہ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ C-Sectionکے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں میں الرجی کے خطرات دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ ’’اس حوالے سے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ بات ان حاملہ خواتین کے لیے رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے جن کو واقعتاً C-Sectionکی ضرورت ہوتی ہے۔ دراصل، یہ بات ان والدین کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے، جو اپنی مرضی سے بلاضرورت اس کا انتخاب کرتے ہیں‘‘۔

صحت سے مزید