آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی المیہ جنم لینے لگا

جموں و کشمیر کے اندر بھارت کے لاک ڈاون کو 25دن ہونے کو ہیں اس وقت وادی میں خوراک ادویات پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس سے بدترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے مگر اس کی پروا کیے بغیر بھوکے پیاسے پیٹ مرد و زن سرینگر کی سڑکوں پر ہاتھوں میں پتھر ڈنڈے لے کر بھارت کی جدید اسلحہ سے لیس فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں کشمیری نوجوان بھارتی فوج کو للکار کر سینے پر گولی کھا رہے ہیں اور تحریک آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کیے ہوئے ہیں مقبٖوضہ وادی میں لاکھوں کی تعداد میں بچے بوڑھے خواتین شدید بیمار اور لاغر بھوک سے نڈھال ہیں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق سرینگر کی سڑکوں پر خون ہی خون نظر آرہا ہے آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ ہیں اور انھیں فوجی وردی پہنا کر دشت گردی کی جا رہی ہے 20ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے عزت مآب خواتین کی عصمت دری کی جا چکی ہے اس بھارتی دہشت گردی کے خلاف آزاد کشمیر میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے مظفرآباد سمیت دیگر شہروں کے ٖعلاوہ پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اس وقت 1990والا جذبہ پیدا ہو گیا ہے لوگوں کے اندر شدید اشتعال پیدا ہو رہا ہے سیزفائر لائن کی جانب آزاد کشمیر اور پاکستان کے صحافیوں نے مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے مارچ کیا جس میں سیکڑوں کی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سابق وزیر اعظم سردار عتیق نے بھی سیزفائیر لائن کو توڑنے کی کال دی ہے موجودہ صورت حال میں آزاد کشمیر کے اندر سیزفائر لائین کو روندنے کیلئے لوگوں کے اندر جذبات ابھر رہے ہیں کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی کو مقبوضہ کشمیر میں داخل نہ ہونے دینے سے واضح ہو گیا ہے کے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال اور بھارتی آئین کی دفعہ35A-370کے خاتمہ پر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کی کشمیریوں کی نظریں مشترکہ سیشن پر جڑی ہوئی تھیں کہ پاکستان کے پارلیمنٹرین کشمیر پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کریں گے اور دنیا کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ وزیراعظم پاکستان کوئی بہت بڑا اعلان کرنے والے ہیں دو روزہ جائنٹ سیشن کو دیکھ کر کشمیریوں میں انتہائی مایوسی ہوئی کشمیری سوچ رہے تھے کہ مشترکہ اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ایوب، محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد تازہ ہونے والی ہے لیکن افسوس مشترکہ اجلاس میں چور چور ڈاکو ڈاکو کے سوا سننے کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ پاکستانی پارلیمنٹرین کشمیر فتح کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران کا معذرت خواہانہ خطاب نے کشمیریوں کو مایوس کیا وزیراعظم پاکستان کے خطاب سے سخت موقف بھارت نواز فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی عمر عبداللہ کا تھا۔ تینوں سابق وزرائے اعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے سخت زبان میں بھارت کو للکارا۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ اور پاکستان کے گلی کوچوں۔ سڑکوں چوک چوراہوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے کشمیریوں کو ایک سو سال مزید لڑنے کی ہمت دی ہے۔ پاکستان کے عوام اور عام آدمی نے اپنا حق ادا کر دیا ہے دونوں اطراف کے کشمیری مشترکہ اجلاس سے مایوسی کے بعد مملکت کے عوام نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارا رشتہ پاکستان عوام سے ہے نہ کہ حکومتوں سے۔ 5اگست سے لے کر ابھی تک پاکستانیوں نے وہ حق ادا کر دیا جسکی توقع کشمیری کر رہے تھے۔ 14اگست کو یوم یکجہتی کشمیر نے بھی کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے 15اگست کو پاکستانی عوام نے یوم سیاہ منا کر دنیا پر واضح کیا اس ملک کو اپنا یوم آزادی منانے کاحق نہیں جس نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی آزادی غصب کر رکھی ہے پاکستان کے عوام نے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منا کر کشمیریوں کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کی 22کروڑ عوام ان کے ساتھ ہے14اگست کو مظفرآباد میں مسلم لیگ ن نے1لاکھ افراد جمع کر کے مریم نواز کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالنے کا پروگرام تشکیل دے رکھا تھا اگر مریم نواز کی گرفتاری نہ ہوتی تو آزادکشمیر کے بیس کیمپ سے ایک لاکھ افراد سے زیادہ کی ریلی دوسری جانب کے کشمیریوں کے لیے بڑا پیغام ہوتا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت، بلتستان، ہندوستان کے بیشتر شہروں بنگلہ دیش، امریکہ، چین، ترکی، ایران۔ یو اے ای پورے، یورپ میں لوگوں نے کشمیریوں کے ساتھ مثالی یکجہتی کا اظہار کیا۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہندوئوں، سکھوں۔ مسلمانوں نے ایک بڑا احتجاج کیا ہے ادھر آزادکشمیر میں مشترکہ اور خصوصی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ الگ الگ قراردادوں کو یکجا کر کے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان، چوہدری عبدالمجید، چوہدری یاسین،عبدالرشید ترابی، سردار عتیق احمد خان، عبدالماجد خان، حسن ابراہیم، راجہ عبدالقیوم خان،راجہ نصیر خان، چوہدری طارق فاروق، راجہ نثار احمد خان، بیرسٹر افتخار گیلانی، نورین عارف،ملک نواز، فاروق طاہر، عامر الطاف،مشتاق منہاس ،چوہدری جاوید اختر، فاروق سکندر،مصطفیٰ بشیر عباسی نے ایوان میں اپنے خطاب میں بھارتی 70سالہ مظالم کی شدید مذمت کی اور کشمیریوں کی پشت پناہی کی یقین دہانی کروائی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید