آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زیر نظر ناول’’ایک عظیم ہیرو گیٹس بی۔The Great Gatsby‘‘ کی مقبولیت کا عالم یہ ہے، سو برس ہونے والے ہیں، لیکن اس کو نہ صرف اب بھی پڑھا اور سمجھا جا رہا ہے، بلکہ امریکی نصاب میں بھی شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ 1925 میں جب اس کی پہلی مرتبہ اشاعت ہوئی تھی، تب اس ناول کو کسی نے گھاس نہیں ڈالی تھی، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ اس کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا، قارئین کا بڑا حلقہ اسے میسر آیا اور آج یہ نہ صرف ادب کے عام قارئین کی دلچسپی کا باعث ہے بلکہ امریکا سمیت کئی ممالک کی نامور شخصیات کا بھی پسندیدہ ناول ہے۔ اس ناول کو امریکا کے 100 بڑے اور عظیم ترین ناولوں کی فہرست میں بھی گردانا جاتا ہے۔

اس ناول کے مصنف’’ایف فٹزجیرالڈ‘‘ ہیں، جن کو زندگی نے مہلت کم دی، پھر بھی وہ اپنی ادبی تصانیف سے متاثر کرنے میں کامیاب رہے، دنیا سے جلدی چلے جانے اور کم عمری میں بے انتہا متاثر کرنے کی اس صلاحیت سے ہمیں اپنے پاکستانی ادیب سعادت حسن منٹو کا خیال آتا ہے، جنہوں نے اسی انداز میں لکھا، البتہ ان دونوں کے موضوعات جداگانہ ہیں، مگر تخلیقی یورش اور گہرائی کے معاملے میں مسابقت ہے۔’’ایف اسکاٹ فٹزجیرالڈ‘‘ نے 44 برس کی عمر میں کل چار مکمل ناول لکھے جبکہ پانچواں ناول ادھورا رہا۔ ان کی کہانیوں میں جہاں امریکی سماجیات اور انسانی ذات کے رومان کی تصویر محفوظ ہو رہی تھی،وہیں دوسری جنگ عظیم کی وجوہات بھی جنم لے رہی تھیں، امریکا کو بطور ملک اور معاشرہ دیکھا جائے تو یہ وہ دور ہے، جب وہ بھی اپنے کئی اہم ارتقائی مراحل سے گزر رہا تھا، ایک طرف ٹیکنالوجی کی آمد آمد تھی، جبکہ دوسری طرف جیز موسیقی کی شروعات تھی، اس دور کو جیز موسیقی کا دور بھی کہا جاتا ہے، جب’’ایف اسکاٹ فٹزجیرالڈ‘‘ اپنے طرزِ سخن سے امریکی خوابوں کی تعبیر کو اپنے رنگ میں لکھ رہے تھے۔ یہ وہ دور ہے، جب مصنف خود جدوجہد کے معرکے سر کر رہے تھے، ایک طرف تخلیقی بقا کا معاملہ تھا تو دوسری طرف محبت کے احساس نے انہیں جکڑ رکھا تھا، وہ ہر محاذ پر کامیاب رہے، سوائے ایک بات کے، شہرت کی جو بلندی انہیں اپنی موت کے بعد نصیب ہوئی، وہ زندگی میں اس کا اندازہ نہیں کرپائے، بلکہ زیر نظر ناول کو جب بہت زیادہ مقبولیت نہ ملی، تو وہ کسی حد تک مایوس بھی تھے، پھر وقت بدلا اور انہیں امریکا کے کلاسیکی ادب میں شامل کیا گیا، ساتھ ساتھ عالمی ادب میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔

ادبی نکتہ نظر سے بھی یہ دور بہت اہم ہے، جب’’ایف فٹزجیرالڈ‘‘ اپنا ادب تخلیق کر رہے تھے، اسی دور میںا یک طرف پروست، جیمز جوائس، ہرمن ہیسے اور یولیسز تھے تو دوسری طرف فرانز کافکا اور ڈی ایچ لارنس بھی ادب کی معراج تخلیق کر رہے تھے۔ انہی دہائیوں میں معمولی برسوں کے فرق سے ہندوستان میں اردو زبان میں ناول کی داغ بیل ڈالی جاچکی تھی، ڈپٹی نذیر احمد کا نام سامنے آچکا تھا اور اردو کے مزید ناول نگار منظرنامے پر طلوع ہو رہے تھے۔ یہی وہ وقت ہے، جب’’ایف اسکاٹ فٹزجیرالڈ‘‘ بھی اپنی تخلیقی دور کی بلند ترین سطح پر تھے۔ اس ناول ’’دی گریٹ گیٹس بی‘‘ کے مرکزی خیال میں ایک ہیرو ہے، جس کا نام ’’گیٹس بی‘‘ ہے۔ وہ سماجی روایات اور ذہنی تخیل کی رومان پرور آمیزش کا نمونہ ہے۔ اس کے ذریعے اُس وقت کے معاشرے کے سیاسی وسماجی معاملات کی گتھی سلجھتی ہے، انسانی رویوں کا بھی پول کھلتا ہے۔ اس کہانی میں گیٹس بی ایک طربیہ ہیرو ہے، جو اچانک دولت مند ہو جاتا ہے، لیکن تنہائی اور یاسیت کے احساسات اس کی ذات سے چمٹے رہتے ہیں، وہ تنہائی کو دور کرنے کے لیے اپنے قلعہ نمامحل میں محافل کا اہتمام کرتا ہے تاکہ کسی طرح اس تخلیقی تنہائی کا مداوا ہوسکے۔ ان شاندار اور مسلسل ہونے والی تقریبات کی وجہ سے، اپنے معاشرے کی اشرافیہ میں اس کی شہرت زور پکڑ لیتی ہے۔ بقول ناصر کاظمی’’دوستوں کے درمیاں، وجہ دوستی ہے تو‘‘ والی کیفیت میں گیٹس بی اشرافیہ کے طبقے کے لیے پرکشش تقریبات کرتا رہتا ہے، جبکہ اس کے پیچھے اصل وجہ، بورژوا طبقہ کی ایک شادی شدہ اورحسین خاتون’’ڈیزی بوکانن‘‘ ہوتی ہے، جس کے عشق میں وہ مبتلا ہوجاتا ہے۔ ستم ظریقی دیکھیے، تمام حیلے کر لینے کے باوجود، وہ خاتون ان کو قبول نہیں کرتی، نہ ہی وہ طبقہ ،جس میں ان کا داخلہ نیانیا ہوتا ہے۔

اس ناول کی صورت میں معروف استعارے’’امریکی خواب‘‘ پر ایک طنز کے طور پر بھی لیا جاتا ہے، جبکہ طبقاتی تقسیم کی عکاسی بھی کی گئی ہے، کیونکہ 20 ویں صدی کے ابھرتے ہوئے امریکی سماج کو’’ایف اسکاٹ فٹزجیرالڈ‘‘ نے اس ناول کے ذریعے ادبی انداز میں آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے، اس کہانی کے بعض حصے، خود ان کی اپنی ذاتی زندگی سے بھی متاثر رہے ہیں، البتہ جے گیٹس بی کے کردار کے علاوہ، کہانی کے دیگر کرداروں میں ڈیزی بوکانن، تھامس ٹام بوچانن، جارڈن بیکر، جارج بی ولسن اور میئر وولفشائم بھی متاثر کن ہیں۔ موجودہ امریکی ادبی منظر نامے میں اس کہانی میں اضافہ کرکے نئے ناول نگاروں نے کہانی کی توسیع بھی کی ہے، لیکن کلاسیکی کہانی کی مقبولیت برقرار ہے۔

اس ناول کی شہرت صرف فلم کے شعبے پر ہی اثر انداز نہیں ہوئی، بلکہ تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن کے ڈراموں میں بھی کہانی سے استفادہ کیا گیا، کہیں براہ راست اور کہیں ماخوذ شدہ کہانی نے دیکھنے والوں پر اپنا سحر طاری کر دیا۔ 1926 میں اس ناول پر پہلی بار فلم بنی، جس کا اب کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، یہ ایک خاموش فلم تھی، جو ماضی کے اسٹورروم میں کہیں گمشدہ ہوگئی۔ اس کے بعد کے ادوار میں بالترتیب 1949، 1974، 2000 اور 2013 میں اس ناول پر مبنی فلمیں بنیں۔ اوپیرا تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن کے مختلف ڈراموں سمیت کئی ویڈیو گیمز بھی اس کہانی کے تناظر میں بن چکی ہیں۔ یہاں جس فلم کو منتخب کیا گیا ہے، وہ 2013 میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم ہے، جو ناول کے نام پر ہی بنائی گئی۔ اس کے ہدایت کار باز لوہرمن ہیں، جنہوں نے اس سے پہلے ولیم شیکسپیئر کے معروف ناول’’رومیو اینڈ جولیٹ‘‘ کو بھی فلم کے پردے کی زینت بنایا تھا۔ فلم’’دی گریٹ گیٹس بی‘‘ کے نام سے ہی بنائی گئی، جس کا اسکرین پلے ہدایت کار نے کریگ پیرس کے ساتھ مل کر لکھا۔ تھری ڈی ٹیکنالوجی سے لیس فلم کو فرانس کے معروف فلمی میلے’’کانز فلم فیسٹیول‘‘ میں افتتاح کرنے والی فلم کے طور پر شامل کیا گیا، جس میں فلم کے اداکاروں میں لینارڈو ڈی کیپریو سمیت پوری کاسٹ شامل ہوئی، جبکہ اس فلم میں معروف انڈین اداکارامیتابھ بچن نے بھی ایک مختصر کردار نبھایا، وہ بھی اس فلمی میلے میں اور بعد میں اس کی تشہیری مہم میں شامل تھے، انہوں نے اس فلم میں یہودی میئر وولفشائم کا کردار نبھایا ہے۔ اس فلم نے دو آسکر ایوارڈز کے علاوہ بہت سارے اہم فلمی ایوارڈز اپنے نام کیے اور باکس آفس پر بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔

قرطاسِ ادب سے مزید