آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کبھی ملنگوں کی باتیں سن لینے سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اگر آپ بھی چھپ چھپا کر ملنگوں کی باتیں سن لیں تو آپ کا بھی کچھ نہیں بگڑے گا۔ دُنیا کا ہر آدمی اپنی آدھی زندگی چھپ چھپا کر کچھ کرتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ کبھی بگڑا کچھ کسی کا؟ یقین جانیے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ہمارے دل و دماغ میں ہوتا کچھ ہے، مگر ہم زبان پر کچھ اور لے آتے ہیں۔ یہ دستورِ دنیا ہے۔ چھپائے نہیں چھپتا۔ اس لئے آپ آج ملنگوں کی باتیں سن لیجئے۔

اگر آپ کو انڈا اُبالنا نہیں آتا تو پھر آپ انڈا کھانا چھوڑ دیجئے۔ اگر آپ مگر مچھ ہیں اور تیرنا نہیں جانتے تو پھر آپ چھپکلی بن جائیے۔ اگر آپ کو کتابیں لکھنے کا شوق ہے مگر آپ لکھ نہیں سکتے تو پھر آپ پبلشر بن جائیے۔ اگر آپ لوگوں کو راہ راست دکھانا چاہتے ہیں مگر آپ راہ راست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو پھر کسی گھنے درخت کے نیچے دھونی مارکر بیٹھ جائیے اور لوگوں کو موت اور موت کے بعد ملنے والے عذابوں کے من گھڑت قصے سنا سنا کر اَدھ موَا کر دیجئے۔ اگر آپ نے موٹر سائیکل خرید لی ہے مگر آپ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتے تو پھر آپ ایک ڈرائیور رکھ لیجئے۔ اگر آپ نے خود موٹر سائیکل چلانے کی کوشش کی تو پھر آپ خود لنگڑے ہو جائیں گے اور خلقِ خدا کو بھی لنگڑا کر دیں گے۔ ملنگوں کا قول ہے کہ اگر آپ سپیرے نہیں ہیں تو پھر سانپوں کے بلوں میں ہاتھ ڈالنے کا سوچئے گا بھی مت، کسی بھینس کے آگے بین بجاتے ہوئے زندگی گزار دیجئے گا۔ ملنگوں کے اقوال کا مطلب ہے کہ جو کام آپ کے بس کا نہیں ہے وہ کام کرنے کا کبھی سوچئے گا بھی نہیں۔

مگر کچھ لوگ اپنی تمنائوں اور خواہشوں کے سامنے بے بس ہوتے ہیں۔ پہلوانی دکھانے کے شوق میں چاروں شانے چت ہو جائیں پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اپنی ہر ہار، ہر ناکامی کے پیچھے ان کو دشمن کا خفیہ ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک الگ تھلگ ملک لے کر اس پر حکومت کرنے کا بڑا شوق تھا۔ ملک تو مل گیا اب اس ملک کو ڈھنگ سے چلائے کون؟ بہتر برسوں سے حکمرانوں کی ایک جیسی باتیں سنتے سنتے ملنگوں کے کان پک گئے ہیں۔ اپنی خامیاں، اپنی نااہلی اور اپنی کوتاہیاں قبول کرنے کے بجائے اپنی ناکامیوں کا ملبہ دشمن کے خفیہ ہاتھ بلکہ خفیہ ہاتھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں خفیہ ہاتھ ہمیں حکومت کرنے نہیں دیتا ورنہ ہم حکومت کرنے کی ایسی ایسی مثالیں قائم کرتے کہ دنیا دنگ رہ جاتی بلکہ دنیا کے ہوش اُڑ جاتے۔ مگر کیا کریں کہ دشمن کا خفیہ ہاتھ بڑی گڑ بڑ کر رہا ہے۔ کراچی کے برساتی نالوں میں کچرا کراچی کے لوگ نہیں ڈالتے یہ شیطانی کام دشمن کے خفیہ ہاتھ کا ہے۔ بدبخت خفیہ ہاتھ نہ جانے کہاں کہاں سے کچرا لا کر کراچی کے برساتی نالوں میں ڈال دیتا ہے۔ بٹوارے سے پہلے شملہ کے بعد کراچی کو برصغیر کا سب سے صاف ستھرا شہر مانا اور سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات دشمن کے خفیہ ہاتھ کو قبول نہیں تھی۔ اس نے کراچی کو اجاڑنے کی ٹھان لی۔ کراچی میں کچرا سیاست کے پیچھے دشمن کا خفیہ ہاتھ کام کر رہا ہے۔

ملنگوں نے سن رکھا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ مطلب یہ کہ آپ اپنے آپ کو اپنی صلاحیتوں تک محدود رکھیں۔ گڑ بڑ گھٹالے کی ابتدا تب ہوتی ہے جب پینٹنگ کے حرف پ سے نابلد ہونے کے باوجود آپ جناب وزیر صاحب پینٹنگ کی نمائش کا افتتاح کرتے ہیں۔ موسیقی کے حرف م سے ناواقف ہونے کے باوجود آپ محفلِ موسیقی کے مہمانِ خاص بنتے ہیں، زندگی بھر آپ نے کبھی کوئی کتاب ہاتھ میں لے کر نہیں دیکھی مگر آپ تعلیم و تربیت کے لئے کتابوں کی تعارفی تقریب میں فیتا کاٹنے پہنچ جاتے ہیں، آپ انتظامی امور کے بارے میں کچھ نہیں جانتے مگر اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر خود کو انتظامی امور کا سربراہ لگوا دیتے ہیں۔ آپ دبنگ قسم کے سردار، پیر سائیں اور زمیندار ہیں آپ کو ازل سے حکومت کرنے کا شوق چراتا ہے آپ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، آپ کے مرید مزارے اور کسان آپ کو ووٹ دیتے ہیں۔ اسمبلی ممبر بننے کے بعد آپ حکومتی پارٹی میں شامل ہوتے ہیں اور وزیر، سینئر وزیر یا پھر اُٹھتے ہی آپ وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں اور اس طرح آپ کا حکومت کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے اور سب کو شرمندہ کر دیتا ہے مگر آپ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون آپ کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ آپ خوش رہتے ہیں کہ آپ حاکم ہیں، آپ حکمراں ہیں آپ کو قطعی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ برساتی نالے اُمنڈتے رہیں، شہر کراچی اُبلتے ہوئے گٹروں کے گندے پانی میں ڈوبتا رہے۔

ملنگوں نے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے ہیں۔ بٹوارے سے لے کر آج تک پچھلے بہتر برسوں سے سرداروں، بھوتاروں، پیروں، وڈیروں نے کراچی پر حکومت کی ہے۔ انہوں نے کراچی کو اندرونِ سندھ کی طرح اُجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ شوقیہ حکمراں کراچی نہیں سنبھال سکتے۔ بدبخت ملنگوں نے یہ بھی تاریخ میں پڑھا ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے کراچی کا انتظام پارسیوں، عیسائیوں اور سندھی ہندوئوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ انہوں نے کراچی کو برصغیر کا نمبر ون شہر بنا دیا تھا۔ یہ میرا نہیں تاریخ کا کہنا ہے۔