آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپ ایک بار پھر غیر قانونی تارکین وطن کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM)کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست تک 46ہزار 500سے زائد افراد غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہو چکے ہیں تاہم غیر قانونی طور پر یورپی ممالک داخل ہونے کی کوشش میں ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اِن میں سے سینکڑوں بدقسمت افراد سیکورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے یا پھر سمندر برد ہوگئے جبکہ بڑی تعداد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئی۔ ایک حالیہ واقعہ میں گزشتہ دنوں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کے خواہشمند 150سے زائد افراد یورپی ملک اسپین کے جنوبی ساحلی شہر سیوتا پر نصب آہنی باڑ پھلانگ کر اسپین میں داخل ہوئے۔ یہ آہنی باڑ مراکش سے ملحق اسپین کے شہر سیوتا کی سرحد پر نصب ہے جہاں سے کچھ روز قبل اسپینش پولیس نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 11رکنی بنگلہ دیشی گروپ کو گرفتار کیا تھا۔ اِن اسمگلرز نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ وہ اب تک ہزاروں بنگلہ دیشی، پاکستانی، سری لنکن اور بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر یورپی ممالک اسمگل کر چکے ہیں۔ اسمگلرز کے بقول اِن ممالک سے لوگوں کو پہلے بذریعہ ہوائی جہاز افریقی ملک الجزائر لے جایا جاتا جہاں سے جنگلات کے راستے پیدل مراکش لایا جاتا اور پھر کشتیوں کے ذریعے اسپین اسمگل کیا جاتا تھا، اِس دوران کئی افراد غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش میں سمندر کی نذر ہو جاتے یا سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوجاتے تھے۔

انسانی اسمگلنگ کے ایک اور واقعہ میں گزشتہ دنوں ترک پولیس نے زنجیر میں جکڑے 57پاکستانیوں کو بازیاب کروایا ہے جو غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہورہے تھے۔ ان پاکستانیوں کی منزل یونان کا جزیرہ لزباس تھا جہاں اِس سے قبل 540غیر قانونی تارکین وطن جن میں 240بچے بھی شامل تھے، کشتیوں کے ذریعے داخل ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ اسپین اور یونان کا شمار اُن یورپی ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ تارکین وطن غیر قانونی طور پر داخل ہوتے ہیں اور بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر دونوں ممالک نے یورپی یونین سے مدد طلب کی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں اسمگل کئے جانے والے غیر قانونی افراد میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں انسانی اسمگلنگ میں عورتوں اور بچوں کی تعداد 23فیصد سے بڑھ کر 49فیصد ہو چکی ہے۔

پاکستان میں شادی کے نام پر غریب خاندان کی لڑکیوں کو سہانے خواب دکھا کر چین لے جانے اور انہیں وہاں جسم فروشی پر مجبور کرنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں جہاں مرد اور کم عمر بچے جبری مشقت کا شکار ہوتے ہیں وہیں لڑکیوں اور عورتوں کو سہانے خواب دکھا کر بیرون ملک اسمگل کرکے جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری، مہنگائی اور غربت کے باعث بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر پاکستانیوں کے بیرون ملک جانے کے واقعات وبا کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ’’لیبر مائیگریشن فرام پاکستان‘‘ کی اسٹیٹس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بیرون ممالک سے پاکستانیوں کو سب سے زیادہ ڈی پورٹ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 3برسوں کے دوران 3لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق گجرات، جہلم، بہاولپور، منڈی بہائو الدین اور پاکستان کے دیگر شہروں سے تھا۔ اِن علاقوں کے لوگ یہ دیکھ کر کہ محلے کے کسی خاندان کے نوجوان کے بیرون ملک جانے سے اُس خاندان کے معاشی حالات بہتر ہوگئے ہیں تو وہ بھی اِسی لالچ میں اپنے جوان بیٹوں کو بیرون ملک جانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اِن نوجوانوں میں سے کچھ خوش نصیب ہی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ بیشتر نوجوان یا تو اسمگلرز کے ہاتھوں چڑھ جاتے ہیں یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

حکومت پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کی گئی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس، معصوم نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے پاکستان بھر میں دندناتے پھررہے ہیں لیکن حکومتی ادارے اُن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ سے درخواست ہے کہ جس طرح حکومت نے ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’کراچی آپریشن‘‘ کر کے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اُسی طرح انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھی آپریشن کر کے اس گھنائونے دھندے میں ملوث جرائم پیشہ افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی بھی پیسے کی لالچ میں نوجوانوں کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانیوالے نوجوانوں کے اہل خانہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ کل وہ اُن کی موت کا ذمہ دار خود کو نہ ٹھہرا سکیں۔