• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرنیشنل کمیونٹی کے رویے سے بہت مایوسی ہوئی، وزیر اعظم

عمران خان کی نیویارک میں نیوز کانفرنس


وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کے رویے سے بہت مایوسی ہوئی، سیکورٹی کونسل اپنے فیصلوں پر عملدر آمد نہیں کراسکی جس کی وجہ سے کشمیری متاثر ہورہے ہیں۔

نیویارک میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے تک مودی سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں نیویارک اس لیے آیا کہ بتاسکوں کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ کرفیو اٹھنے کے بعد کیا ہوگا، لیکن قتل عام کا خدشہ ہے، 8 ملین لوگ کشمیر میں محصور ہیں، اس سے بڑی اور ریاستی دہشتگردی کیا ہوگی، یہ وقت ہے کہ دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیوبا بحران کے بعد پہلی بار دو ایٹمی طاقتیں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔ اگر دو ایٹمی ممالک میں جنگ ہوئی تو اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔

عمران خان نےکہاکہ بدقسمتی سے بھارت میں گذشتہ 6 سال سے نسل پرست جماعت حکمران ہے، آر ایس ایس پر دہشتگرد تنظیم ہونے پر بھارت میں کئی بار پابندی بھی لگائی گئی۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی 11 قراردادوں میں مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ کہا گیا، اقوام متحدہ نے کشمیر سے متعلق گیارہ قراردادیں پاس کر رکھی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات بہت مشکل ہوتے جارہے ہیں، پچاس دن سے کشمیر سے متعلق خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت جیل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافک تبدیل کرنا چاہتی ہے، 80 لاکھ افراد کھلی جیل میں ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے، جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے پلوامہ واقعے پر ثبوت مانگنے کے جواب میں بمباری کی، بھارت نے اپنے پائلٹ کی واپسی کو امن کے اقدام کے بجائے کمزوری سمجھا۔

انہوں نے کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک سے کرپٹ لوگ منی لانڈرنگ کرتے ہیں اور امیر ممالک میں اثاثے بناتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امیر ممالک غریب ممالک کے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔

عمران خان نے کہا کہ کرفیو اور پابندی لگانے سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مزید متحرک ہوگی، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے یکجہتی کے لیے مسلم ممالک کو آواز اٹھانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پر انتہا پسند جماعت حکمرانی کر رہی ہے جو مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹنے پر بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرفیو ہٹے گا تو کشمیریوں کا کیا رد عمل ہوگا؟ کیا وہ بھارتی سرکار کے اقدام کیخلاف خاموش رہیں گے؟ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہورہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادی پر کوئی سختی نہیں ہورہی، مقبوضہ کشمیر میں صرف اس لیے پابندیاں لگائی گئیں کیونکہ وہاں مسلمان ہیں، جیسے ہی مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹے گا مودی کو بھی صورتحال کا اندازہ نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید پر ترک صدر طیب رجب اردوان کے شکر گزار ہیں، ترک صدر آیندہ ماہ پاکستان آئیں گے، ترکی سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نیویارک میں صدر ٹرمپ، جرمن چانسلر اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی، میں نے صدر ٹرمپ اور بورس جانسن سے مقبوضہ کشمیر پر بات کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے مسئلے پر مزید بات نہیں کر سکتا، ٹرمپ سے ملاقات کے بعد میں نےفوری طور پر صدر روحانی سے ملاقات کی۔

تازہ ترین