آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسلامی ممالک دشمن طاقتوں کا آلہ کار نہ بنیں

گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے علاقے ابقیق اور خریص میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر ڈرونز اور کروز میزائلوں کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور خطہ کسی وقت بھی جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

سعودی عرب نے اِن حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے یمن سے نہیں بلکہ ایران کی سرزمین سے کئے گئے اور سعودی عرب اِن حملوں کو ’’ایکٹ آف وار‘‘ قرار دیتا ہے۔

اس سے قبل امریکہ بھی ایران پر یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے جس کے ثبوت امریکہ کے پاس موجود ہیں تاہم ایران نے سعودی اور امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے آرامکو کمپنی کی نصف پیداوار معطل اور عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہوئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو پہلے ہی جوہری پروگرام سے متعلق ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرچکے ہیں، نے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے قومی بینک پر پابندی عائد کردی ہے جو کسی بھی ملک پر نافذ کی جانے والی سخت ترین پابندی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران خود پر عائد امریکی پابندیوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیتا ہے اور اِن پابندیوں میں مزید سختی سعودیہ ایران تعلقات کی کشیدگی کو عروج پر لے جائے گی۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے سعودی عرب اور یو اے ای کی درخواست پر اپنی افواج اور میزائل دفاعی سازو سامان دونوں ممالک میں بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ایسی صورتحال میں خطے میں جنگ کے خطرات منڈلارہے ہیں جو کسی وقت بھی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو حملہ آور ملک کو میدان جنگ بنا کر تباہ کردیں گے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ایران اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز کسی کو نہیں دے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فورسز کی خطے میں موجودگی تیل کی ترسیل میں عدم تحفظ پیدا کرے گی اور خطہ مزید مشکلات سے دوچار ہوجائے گا۔ ایرانی صدر کا یہ بیان اس طرف اشارہ ہے کہ حملے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کیلئے شپنگ کی آزادی ایک اہم مسئلہ ہے اور کوئی بھی جھڑپ یا تنازع جس سے آبی راستے متاثر ہوں، امریکی بحریہ اور فضائیہ کو کارروائی پر مجبور کرسکتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 5سال سے جاری یمن جنگ کے دوران حوثی باغی میزائل، راکٹس اور ڈرون کے ذریعے یمن کی سرحد کے قریب واقع سعودی آبادی پر حملے کرتے رہے ہیں مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سعودی عرب کے اندر کئی ہزار کلومیٹر دور تیل تنصیبات کو اتنے Preciseطریقے سے نشانہ بنایا گیا ہو۔

پاکستان ایئرفورس کے ایک سینئر آفیشل نے مجھے بتایا کہ میزائل کی اتنی ایکوریسی دنیا کے چند ممالک کے علاوہ کسی کے پاس نہیں جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں کہ کیا واقعی ایران اتنی جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے جس کا میزائل سسٹم کئی ہزار کلومیٹر دور اپنے ہدف کو بالکل ٹھیک نشانہ بناسکتا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں مسلم دشمن طاقتیں، اسلامی ممالک کو اپنے مفاد کیلئے جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں جیسا کہ ماضی میں کویت، عراق جنگ میں مسلم دشمن طاقتوں نے فائدہ اٹھایا اور اس جنگ کے اخراجات کا امریکی بل جو 100ارب ڈالر سے زائد تھا، آج تک کویت، امریکہ کو ادا کررہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ خلیجی ممالک کو بھی مستقبل میں اِسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا پڑے۔

امریکہ میں آئندہ سال صدارتی انتخابات متوقع ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی منشور میں افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی بھی شامل تھی اور صدارتی انتخابات کے پیش نظر امریکی صدر اپنی افواج کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں جھونکنے کی حماقت کبھی نہیں کریں گے۔

موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کو کانگریس کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے جو مشرق وسطیٰ کے تنازع میں امریکہ کے فریق بننے کے حق میں نہیں لیکن اگر امریکہ ردعمل کے طور پر ایران پر فضائی حملہ کرتا ہے تو ایران پہلے ہی متنبہ کر چکا ہے کہ وہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا اور اس جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایران کے صدر حسن روحانی نے ایران عراق جنگ کی یادگاری تقریب کے دوران خلیجی ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ماضی کو بھلا کر ’’امن منصوبے‘‘ کی پیشکش کی ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ ایرانی صدر، اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران خلیج فارس میں کشیدگی کم کرنے کیلئے یہ امن منصوبہ پیش کریں گے۔

خلیجی ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ دشمن طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے ایران کی امن پیشکش پر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر دوستی کے نئے باب کا آغاز کریں تاکہ مسلم دشمن طاقتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید