آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جدوجہد کی تاریخ۔ نوابزادہ نصراللہ خان

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کرفیو لگاکر 80لاکھ کے قریب مسلمانوں پر زندہ رہنا مشکل بنا دیا ہے۔

ایسے موقع پر ایک ایسے شخص کی یاد آرہی ہے جس نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے 1993سے 1996تک یورپ اور OICمیں کشمیر کے تنازع کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم نے او آئی سی کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کی قرار داد منظور کروائی۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے منشور میں کشمیر کی آزادی کو حصہ بنایا۔ 26ستمبر 2003کو بحالی جمہوریت کی جدوجہد میں مصروف بابائے جمہوریت اور سینئر سیاستدان اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آج جب ہم نوابزادہ نصراللہ خان کی برسی منا رہے ہیں تو کشمیر میں آگ جل رہی ہے اور بھارت خون سے کھیل رہا ہے توہمیں کشمیر کی آزادی کے لیے ان کی جدوجہد اوراشعار یاد آرہے ہیں۔

ایک طرف ان کی زندگی کا مشن جمہوریت کو بحال کر انا تھا تو دوسری طرف کشمیر کی آزادی ان کی جدوجہد میں شامل تھی۔ کمزور جمہوریت کو مضبوط آمریت سے بہتر قرار دینے والے نوابزادہ نصراللہ خان نے تحریک پاکستان کی جدوجہد سے لے کر جمہوریت کی بحالی تک بھر پور اور نمایاں رول ادا کیا۔

وہ ہر تحریک کا ہراول دستہ رہے۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کیا تو جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کی جمہوریت کی جدوجہد کی بدولت وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ وہ جمہوریت کو ملکی ترقی کا ضامن تصور کرتے تھے۔ معاشی مسائل کے حل بھی جمہوری نظام میں دیکھتے تھے۔

پاکستان کی جمہوری تاریخ ان کا ذکر کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ کہتے تھے کہ جمہوریت کے ساتھ کوئی لاحقہ نہیں ہوتا جمہوریت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اور تیسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔

نوابزادہ نصراللہ خان 1918ء کو خان گڑھ میں پیدا ہوئے 1928ء سے 1933ء تک ایچیسن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ برطانوی راج کی مخالفت کی اور 23مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان پیش کئے جانے والے تاریخی مسلم لیگی جلسے میں شریک ہوئے۔

1952، 1962، 1970، 1977، 1988، 1993، 1997اور 2002ء کے انتخابات میں حصہ لیا۔ زندگی میں بے شمار قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں جبکہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پانچ سال قید رہے۔

1998 کے صدارتی انتخاب میں غلام اسحاق خان کا مقابلہ کیا۔ پاکستان بننے سے لے کر زندگی کے آخری دن تک تمام جمہوری تحریکوں کا حصہ رہے جبکہ حکمرانوں کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں شریک ہوتے رہے۔ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

پوری زندگی لاہور کے چھوٹے سے گھر میں گزار دی۔ بڑے بڑے حکمرانوں نے اس چھوٹے کرائے کے گھر کی یاترا کی۔ آمریت کے خلاف اتحاد بنانے کے فن کو جانتے تھے۔ ان کی زندگی کے بعد آج تک کوئی سیاسی بڑا اتحاد نہیں بن سکا۔

ان کی زندگی کا آخری اتحاد بھی انتہائی شاندار تھا جس میں انہوں نے دو دو دفعہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر رہنے والے اور ایک دوسرے کے شدید مخالفین کو مشرف آمریت کے خلاف ARDکے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔

زندگی کے آخری دنوں میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے مذاکرات کے لیے لندن، دبئی اور جدہ کا دورہ کیا۔ مذاکرات میں معروف اینکر سہیل وڑائچ اور میں بھی شریک تھے۔ ہم نے ملک کو آمریت سے نجات دلانے کے عزم کو قریب سے دیکھا۔ ان کو حقے کا بڑا شوق تھا۔ لندن کے ہوٹل میں بھی حقہ ساتھ رکھا۔ ایک دفعہ تو ہوٹل کے سائرن بھی بج گئے۔

نواب زادہ نصراللہ کا تمام طبقوں میں بے حد احترام تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا احترام سے کیا جاتا ہے۔

ان کی رحلت سے ملک اتفاق رائے پیدا کرنے والے رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان بننے سے لے کر آج تک چل رہا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہےاور پاکستان نے کشمیری بھائیوں کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی کے بحران کا ہم مقابلہ کر رہے ہیں۔ آمریت کے ساتھ ساتھ معاشی بحران سے ہم دوچار ہیں۔ ان تمام بحرانوں کا مقابلہ قومی اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پوری قوم کو اکٹھا کر سکے اور قوم کو ایک آواز دے سکے۔

آج نوابزادہ نصراللہ خان کویاد رکھنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے جس میں اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی آزادی ہواور احتسابی عمل پاک صاف اور شفاف ہو۔ یہی تو ان کاخواب تھا اور یہی ان کی جدوجہد۔ان کی زندگی ایک تاریخ تھی۔ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کی تاریخ۔کرپشن کے خلاف نبرد آزما ہونے کی تاریخ۔

بڑے بڑے آمروں کو جھکانے کی تاریخ۔ قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی تاریخ مذاکرات کرنے کی تاریخ۔ جمہوریت کے لیے آمروں کے ساتھ لڑنے کی تاریخ۔ سیاسی اتحاد بنانے کی تاریخ۔ رواداری کی اعلیٰ روایات قائم کرنے کی تاریخ۔ دو کمرے میں زندگی گزارنے کی تاریخ۔ اصولوں پر قائم رہنے کی تاریخ۔

آئیے! قائداعظم اور علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل کے لیے نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی ’’تاریخ‘‘ کو مشعل راہ بنائیں اور قومی اتفاق رائے پیدا کر کے ملک کو مضبوط بنائیں۔