آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تین روز پہلے پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (اسا)، پائنا اور متحدہ علما کونسل کے زیرِاہتمام کشمیر قومی کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم جناب راجہ فاروق حیدر تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے صدارت فرمائی۔ فیصل آڈیٹوریم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اسا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور نے مہمانانِ گرامی، اساتذہ اور طلبا و طالبات کو خوش آمدید کہا۔ پائنا کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راقم الحروف نے کہا کہ ہیوسٹن میں امریکی نژاد بھارتیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جو کچھ کہا، باہمی دوستی کے جو دعوے کیے اور اسلامی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ لڑنے کے جو اعلانات ہوئے ہیں، وہ پاکستان سے اپنی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے ذرائع تلاش کرنا ہوں گے جن سے بھارت کے اسٹرٹیجک مفادات پر کاری ضرب لگائی جا سکے اور اسے استصوابِ رائے کی تاریخ دینا پڑے۔ اِس بار بھارت کی چیرہ دستیوں کے خلاف جنگ بھارت کے اندر لڑی جائے گی۔ وہاں ایسی طاقتیں اور شخصیتیں موجود ہیں جو مودی کی فسطائیت کے سخت خلاف اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں۔ اُن سے قریبی تعلقات قائم کیے جانا چاہئیں۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فرزانہ نذیر بتیس برسوں سے کشمیر کاز کے لئے سرگرم ہیں۔ اُنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا مودی سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس نے کشمیری عوام کی آزادی کے امکانات بہت روشن کر دیئے ہیں۔ حق شناس اور معتدل مزاج جناب مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ کشمیری عوام نے مودی کے 5؍اگست کا اقدام مسترد کر دیا ہے اور وہ پوری عزیمت سے ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پاکستان اُنہیں مدد اِسی صورت فراہم کر سکتا ہے کہ وہ سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہو۔ ہمیں جوش کے ساتھ ساتھ ہوش سے کام لینا اور اپنے گھر کو درست رکھنا ہوگا۔ دانش مند اور بلند ہمت کشمیری لیڈر جناب عبدالرشید ترابی کی رائے میں ہم پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ پاکستانیوں، کشمیریوں اور عالمی ہم نواؤں کے تعاون اور جہدِ مسلسل سے ہمیں یہ جنگ جیتنا ہو گی۔ اُمورِ خارجہ کے ماہر جناب محمد مہدی نے تجویز دی کہ ہمیں اپنی سفارت کاری اور فیصلہ سازی میں کشمیری رہنماؤں کو شامل کرنا اور اُن کی صلاحیتوں سے پورا پورا اِستفادہ کرنا چاہئے۔ اِسی طرح بھارت میں آزادی کی جو تحریکیں چل رہی ہیں، اُن کے ساتھ قریبی رابطے قائم رکھنا ازبس ضروری ہے۔

پاکستان کے سیاسی مدبر جناب قمر زماں کائرہ نے کہا کہ ہم ان کشمیری مجاہدین کی سرفروشانہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو نو لاکھ غاصب فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ پوری قوم کشمیر کے مسئلے پر متفق ہے اور پاکستان کے حکمران اِس یکجہتی کو بروئے کار لا کر کشمیر کاز کو غیر معمولی تقویت پہنچا سکتے ہیں۔ اگر وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں تو میں اپنی جماعت اور مسلم لیگ نون کی قیادت کے ساتھ پہنچوں گا۔ خدارا! سیاست کو گالی مت دیجیے، یہ تو خدمتِ خلق اور اُمورِ مملکت چلانے کا نہایت عمدہ فن اور عبادت ہے۔

معروف دانش ور جناب مجیب الرحمٰن شامی نے مژدہ سنایا کہ مودی 5؍اگست کو خود ہی اپنے دام میں آ گیا ہے۔ اس کے سفاکانہ اقدامات کی کسی ایک ملک نے بھی حمایت نہیں کی۔ پاکستانی قیادت کو سنہری موقع میسر آ گیا ہے کہ وہ قوم کو متحد رکھے اور مشترکہ جدوجہد کا ایک میکنزم قائم کرے۔ میری تجویز ہے کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ایک ایکشن کمیٹی قائم کی جائے جس میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیرِاعلیٰ اور پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ شامل ہوں۔ تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر جناب اعجاز چوہدری نے جناب مجیب الرحمٰن شامی کی تجویز سے پورا اِتفاق کیا اور اِس پر زور دِیا کہ ہمیں ایک آواز کے ساتھ اور اپنی تمام تر توانائیوں سے کشمیریوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنا ہو گا۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا آپ کی بات اُسی وقت سنے گی جب آپ کے ہاتھ میں تلوار ہو گی۔

دیدہ ور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے پُرجوش نعروں کے درمیان کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ٹرمپ کی ثالثی کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ پاکستان کے حق میں نہیں ہو گی۔ اُن کا مشورہ تھا کہ پاکستان کو آزاد جموں و کشمیر اور حریت کانفرنس کے لیڈروں کو سفارت کاری میں فرنٹ لائن پر رکھنا چاہئے۔ اُنہوں نے اِس یقین کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام بھارت کو شکست سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِس بنا پر اُن کی پشت پناہی اوّلین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ اکھنڈ بھارت کی راہ میں صرف پاکستان حائل ہے جس کی ہم سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ جونہی وزیراعظم پاکستان کال دیں گے، ہماری یونیورسٹی کے ہزاروں طلبا و طالبات اور اساتذہ کنٹرول لائن عبور کرنے کے لئے جوق در جوق نکلیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی اہم قومی اور بین الاقوامی اُمور پر مکالمے کا اہتمام کرتی رہتی ہے اور ہم جلد ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات پر سیمینار منعقد کریں گے۔ ہماری فوج قوتِ ایمانی کی حامل ہے جو بھارت کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جناب فاروق حیدر کی سربراہی میں آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کو آزادی دلانے میں تاریخی کردار ادا کرے گا۔ اختتام پر اعلامیہ پڑھا گیا جسے کانفرنس کی فضا میں ہمارے قابل صاحبِ دانش جناب سجاد میر نے تیار کیا تھا۔ اِس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل بھارت کو جنگی جرائم اور کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لئے طاقت استعمال کرے اور استصوابِ رائے کے عمل کو یقینی بنائے۔ اِس سے قبل تازہ دم تخلیق کار جناب امجد اسلام امجد نے کشمیر پر ایک نہایت اثر انگیز نظم پڑھی۔ ہال سے نکلتے ہوئے اربابِ علم و ادب کہہ رہے تھے کہ جناب وائس چانسلر نے پنجاب یونیورسٹی کو حقیقی معنوں میں علم و تحقیق کا گہوارہ بنا دیا ہے۔