• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چونیاں واقعے میں ملوث ملزم کی شناخت ہوگئی


وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ چونیاں واقعہ میں ملوث ملزم کی شناخت ہو گئی ہے، مقتول بچوں فیضان اور علی حسن کےنمونوں کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا، ملزم کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق چاروں وارداتیں سہیل شہزاد نامی ملزم نے کیں۔

ایوان وزیراعلیٰ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایا کہ چونیاں واقعہ میں ایک بچے کی لاش ملی جبکہ تین بچوں کے ڈی این اے سے اُن کی شناخت کی گئی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ 27 سالہ ملزم کے خلاف کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا، کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی، تمام قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں، پراسیکیوٹرجنرل کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ خودکیس کی پیروی کریں گے اور میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ ملزم سہیل شہزاد کو ٹریس کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے بہت محنت کی۔ پنجاب حکومت نے اس کیس کے لیے تمام وسائل مہیا کیے، ایک ہزار چھ سو 49 مشکوک افراد کی جیو فینسنگ اور ایک ہزار پانچ سو 43 لوگوں کا ڈی این اے کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انصاف کی فراہمی کا وعدہ پورا کریں گے۔ چونیاں اور قصور کو سیف سٹیز میں شامل کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملزم سہیل شہزاد کی تصویر بھی دکھائی۔

 چونیاں واقعے میں ملوث ملزم کی شناخت ہوگئی
وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملزم سہیل شہزاد کی تصویر بھی دکھائی۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ عمرے سے واپسی پر غمزدہ خاندان کے پاس گیا اور انصاف دلانےکا وعدہ کیا تھا، متعلقہ اداروں نےبہت محنت کی جس پر ان کاشکرگزار ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: مقتول بچوں کے رشتے داروں سے تحقیقات کا فیصلہ

واضح رہے کہ 17 ستمبر کو پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں مختلف ایام میں اغواء ہونے والے 4 میں سے 2 بچوں علی حسنین اور سلمان کی باقیات اور ایک بچے فیضان کی لاش ملی تھی جبکہ عمران نامی بچہ لاپتہ تھا۔

بعد میں عمران اور مزید ایک لاپتہ ہونے والے بچے کی لاشوں کی باقیات بھی چونیاں ہی سے برآمد ہوئی تھیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق را نا ٹاؤن کا 12 سالہ عمران یکم جون کو لاپتہ ہوا، 8 سالہ علی حسنین اور 9سا لہ سلمان اگست کے مہینے میں غائب ہوئے، 8 سالہ فیضان 16 ستمبر کو لاپتہ ہوا۔

قومی خبریں سے مزید