آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عمران فاروق قتل، 3 برطانوی گواہ 6 نومبر کو طلب

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں 3 برطانوی گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 6 نومبر کو طلب کر لیا۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔

ایف آئی اے کی جانب سے برطانیہ سے موصول شواہد بھی عدالتی اعتراض کے بعد گواہوں کی فہرست کے ساتھ دوبارہ عدالت میں پیش کر دیے گئے۔

عمران فاروق کی بیوہ کے پولیس بیان میں اہم انکشافات

متحدہ قومی موومنٹ کے مقبول رہنما عمران فاروق کی...


ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت سے حاصل شواہد دوبارہ عدالت میں جمع کرا دیے گئے ہیں جن میں عمران فاروق قتل سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، آلۂ قتل، فرانزک رپورٹس، مقتول کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، ریکوری میمو اور انویسٹی گیشن افسر سمیت 23 گواہوں کے بیانات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 23 میں سے 3 برطانوی گواہان ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر جبکہ 20 ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہونے والے گواہوں میں لندن میٹرو پولیٹن پولیس سروس کی کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ کے حکام شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیئے: عمران فاروق قتل، ایف آئی اے مکمل شواہد پیش کرے، عدالت

عدالت نے تینوں برطانوی گواہان کو بیان قلم بند کرانے کے لیے 6 نومبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اس سے قبل عدالت نے گواہوں کی فہرست جمع نہ کرانے پر برطانوی شواہد ایف آئی اے کو واپس کر تے ہوئے انہیں مکمل کر کے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو برطانوی دارالحکومت لندن کے ضلع ایجویئر میں تیز دھار آلے سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید