آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ ماہ پاکستان میں سینما انڈسٹری کے حوالے سے ایک اور افسوسناک خبر یہ سامنے آئی کہ شہر کی معروف و مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر قائم پرنس سینما مسمار کرکے اس کی جگہ رہائشی اور تجارتی مرکز قائم ہونے جارہا ہے۔

پرنس سینما21ستمبر2012 کےبعد مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں نذرآتش ہونے کے بعد سے مستقل بند ہونے کے بعد کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہا تھا تاہم وہ لوگ جو ا س سینما کے شاندار ہال میں متعدد فلموں سےلطف اندوز ہوئے انہیں اس کی بحالی کی موہوم سی امید تھی ۔

ایک زمانہ تھا جب شہر کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ سینما بینی کے شائقین کےلیے مرکز تصور کیا جاتا تھا جس کی وجہ اس پر اور اس کے اطراف میں ایک زمانے میں اردو پنجابی پشتواور انگریزی فلموں کےلیے کم و بیش20کے قریب سنیما قائم تھے۔

ان سینماؤں میں کیپری،پرنس ،نشاط،ناز،تاج محل ،لائٹ ہاوس ،رٹز،کوئن،کنگ، محفل ،انجمن،نگینہ ،میجسٹک ،پلازہ جبکہ اطراف میں بمبینو،لیرک،اسکالا،اسٹار،ایروز،نشیمن،جوبلی،افشاں ریوالی اور قیصر وغیرہ قائم تھے۔تاہم گزرتے وقت کے ساتھ اب اس مرکزی شاہراہ پر صرف کیپری عوام کو تفریح فراہم کررہا ہے جبکہ دوسرا نشاط 21ستمبر 2012 کے واقعے کے بعد سے تباہ حال میں نظر آتا ہے۔

کراچی میں سینما گھر کی تاریخ ایک صدی پر محیط ہے ۔ایم اے جناح روڈ کے نزدیک قائم اسٹار سینما کاقیام انیس سو سترہ ،اٹھارہ میں ہوا جبکہ قیام پاکستان کے بعد قائم پہلا سینما جوبلی کو کہا جاتا ہے جس کا افتتا ح 18ستمبر1947 کو ہوا تاہم اب یہ دونوں شاپنگ پلازے میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

پچاس ساٹھ اور ستر کی دہائی شہر کراچی پاکستان فلم انڈسٹری کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق اس دوران100 سے زائد سینما عوام کو معیاری تفریح فراہم کررہے تھے۔پھرستر کی دہائی کے آخر میں ملکی صورتحال تبدیل ہوئی تو اس بدلتے نظام کے ساتھ ہی ہماری کئی چیزیں انحطاط پزیری کاشکار ہوئیں۔ جس میں سے ایک فلم انڈسٹری کا بحران ہے اور جیسے جیسے فلمی معیار گرتا رہا لوگ سینما بینی سے دور ہونا شروع ہوئے تو رفتہ رفتہ ملک بھر کے ساتھ معاشی حب کراچی کے سینما گھر بھی ایک ایک کرکے شاپنگ سینٹرز اور رہائشی پلازوں میں تبدیل ہوگئے۔

شہر کے پرانے باسی خصوصا جنہوں نے گزشتہ 70دہائیاں کراچی میں بسر کیں اور تفریح طبع کےلیے خاص طور پر سینما بینی کرتے ہوئے اپنا وقت گزارا۔وہ جانتے ہیں کہ پرنس سینما کا شمارشہر ہی کے نہیں ملک کے بھی خوبصور ت سینما میں ہوتا تھا۔جہاں خاندان بھر کے لوگ خاص طور پر فلم دیکھنے کےلیے آتے تھے۔

پرنس سینما کا افتتاح

چودہ جون1974 کو روزنامہ جنگ میں میں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق مورخہ 15جون 1974 بروز جمعہ کو شہر میں دو سینما پرنس اور عرشی کا افتتاح ہورہا ہے۔پرنس میں انگریزی فلم سباتا اور عرشی میں اردو فلم پردہ نہ اٹھاوریلیز کی جارہی ہے۔

پرنس سینما گنجائش اور خوبصورتی کے اعتبار سے پورے پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے جبکہ کہ عرشی سینما بھی آسائش و زینت میں باقی دوسرے سینما میں سبقت رکھتا ہے۔

پرنس سینما اس وقت کا جدید سینما تھا۔1100 نشستوں پر اس میں 92فٹ کی عظیم ترین ویسٹاراما روشن اسکرین،36اسپیکرایسٹروفونک اور جدید ترین سائونڈ سسٹم۔186 ٹن وزنی آئس کول ائیرکنڈیشنگ۔ مکمل طور پر ائیرکنڈیشنگ،کیفے ٹیریا اور دل کش فوارہ موجود تھے۔

پہلی فلم

پندرہ جون 1974 کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم انگریزی سباتا تھی جو تقریبا دو ماہ سینما میں دکھائی جاتی رہی۔سینما میں روزانہ ساڑھے تین ،شام ساڑھے چھ اورشب ساڑھے نو سمیت تین شو دکھائے جارہے تھے۔ 28ستمبر 74 سے سینما میں روزانہ 12بجے دوپہرایک خصوصی شو کا آغاز کیا گیا ۔جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیاب یادگار فلمیں دکھانے کا اہتمام کیا گیا ۔

پہلی فلم پاکستانی سپرہٹ امراو جان ادا تھی۔حسن طارق کی ہدایت میں بنائے جانے والی فلم کے مرکزی کردار میں اداکارہ رانی اور شاہد تھے۔معیاری سینما ہونے کے سبب فلم کے اکثر شو ہاوس فل جاتے تھے ۔

سینما میں آخری فلم 2012 میں اداکارہ زیبا بختیار کی فلم بابو تھی۔مجموعی طور پر جون 1974 سے 2011 تک لاتعداد فلمیں پرنس سینما کی اسکرین کی زینت بنیں جس میں زیادہ تعداد انگریزی کی تھی۔

خاص رپورٹ سے مزید