آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برطانیہ کے ارب پتی ہمسایوں میں 12انچ زمین پر قبضے کی جنگ

برطانیہ کے ارب پتی ہمسایوں میں 12انچ زمین پر قبضے کی جنگ
صرف 12 انچ زمین کے ٹکڑے پر کروڑ پتی برطانوی پڑوسیوں میں شدید اختلافات ہوگئے ہیں

چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے تو اکثر و بیشتر مشرق بالخصوس برصغیر پاک و ہند میں تو بہت سنے گئے ہیں، لیکن لگتا ہے برطانیہ کا ترقی یافتہ معاشرہ بھی اب اس رویہ سے محفوظ نہیں۔

جی ہاں! فقط بارہ انچ زمین کے ٹکڑے پر کروڑ پتی برطانوی پڑوسیوں میں شدید اختلافات ہوگئے ہیں اور دونوں کے درمیان زمین کے اس ٹکڑے پر قبضے کے لیے عدالتی جنگ جاری ہے اور زمین کے اس ایک فٹ ٹکڑے کے لیے تین ملین پاؤنڈ (لگ بھگ ساڑھے 59 کروڑ پاکستانی روپے) کے ایک نئے تعمیر شدہ مکان کو جزوی طور پر گرایا بھی جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے ٹام گوئٹربوک اور انکی اہلیہ ہیلن کا کہنا ہے کہ انکے پڑوسی نے اپنے عالیشان مکان کی تعمیر کے دوران انکے حصے کی زمین پر قبضہ کرلیا تھا، یاد رہے کہ اس جگہ سے متصل وہ سائٹ جہاں پر دوسری عالمگیر جنگ کے دوران جرمن فضائیہ (لوفت وافے) نے بمباری کی تھی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ سابق سٹی ٹریڈر باون سالہ الیکس میک پیل اور انکی اہلیہ ہیلن نے اپنے چھ کمروں کا جب محل نما مکان تعمیر کیا تو انہوں نے ہماری زمین سے اس قدر قریب تک اپنی تعمیرات کیں کہ ہمارا قطعہ اراضی کا کچھ حصہ بھی انکی بیس مینٹ میں آگیا۔

لیکن مسٹر میک پیل جو کہ پروفیشنل موٹی ویشنل اسپیکر ہیں اپنے پڑوسی کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، اُن کا کہنا ہے انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

ادھر ایک سماعت کے دوران وسطی لندن کی کاؤنٹی کورٹ کے جج نیل جیرالڈ کو آگاہ کیا گیا کہ مسٹر میک پیل کا گھر ہنیڈریسن روڈ  پر اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں 1940ء کے دورمیں جرمنوں نے بمباری کی تھی۔

انکا کہنا تھا کہ اس غلط تعمیر کی وجہ سے انکے پاس ایک تنگ سی گزرگاہ بچی ہےجو کہ تین فٹ سے بھی کم ہے اور جہاں سے وہ صرف ایک دروازہ کھول سکتے ہیں، جبکہ انکے قطعہ اراضی کے نیچے مسٹر میک پیل نے ایک بیسمینٹ بھی تعمیرکرلی ہے۔

دوسری عالمگیر جنگ سے قبل انکے گھر اور پڑوس کے مکان کے درمیان ایک گلی ہوا کرتی تھی، جس سے دونوں مکان کے مکینوں کو مکان کے عقب میں واقع باغ کی جانب جانے کا راستہ میسر تھا۔

گوئٹر بوک خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مکان 2004 میں خریدا، جبکہ 2014 میں پڑوس میں موجود فلیٹس ایک ڈیولپر ہینڈرسن کورٹ لمیٹڈ کے پاس تھےجس کے مسٹر میک پیل اب ایک ڈائریکٹر ہیں۔ پلاننگ دستاویزات کے مطابق ڈیولپرز چاہتاتھا کہ70 برس قبل اس جگہ کو جو نقصان پہنچا تھا اسے بہتر کرنے کے لیے یہاں پر نئے گھر اس طرح تعمیر کیے جائیں کہ انکا طرز تعمیر اصل ہی رہیں۔

جس کے بعد ہینڈریسن کورٹ کمپنی نے یہ جگہ حاصل کرکے فلیٹس کو منہدم کرکے اسکی جگہ 2015 سے 2018 کے درمیان مکانات تعمیر کیے۔ اب گوئٹر بوک خاندان کا کہنا ہے کہ عدالت فریق ثانی کو حکم دے کہ وہ اس پرانی گلی کا نصف حصہ انکے حوالے کرے  اور اس جگہ پر انکا حق تسلیم کیا جائے۔جبکہ مسٹر میک پیل کا کہنا ہے کہ دونوں مکانوں کے درمیان کی گزرگاہ جائیداد کے ٹائٹل میں انکی پراپرٹی میں شامل ہے۔

عدالت نے اپنی ابتدائی سماعت کے دوران مسز میک پیل کے خلاف کیس کا جو حصہ تھا وہ خارج کرنے کا حکم جاری کیا کیونکہ مسز میک پیل کی نومبر 2016 میں طلاق ہوچکی ہے اور وہ اب انکا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ گوئٹر بوک عدالت سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ جزوی طور پر بیس مینٹ کی فلنگ کا حکم جاری کرے اور انھیں انکی جگہ واپس دلائی جائے۔ سماعت کے موقع پر دونوں پڑوسی موجود نہ تھے۔ اب اس کیس کی سماعت اگلی تاریخ پر ہوگی۔

دلچسپ و عجیب سے مزید