آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عمران خان صاحب نے محض ایک سال بعد نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا اور مولانا صاحب بھی محض ایک سال بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کررہے ہیں۔ 

عمران خان نے اپنے مارچ کے آغاز کے لئے یوم آزادی کا دن چنا جبکہ مولانا نے یوم کشمیر کا۔ مولانا ایسے وقت میں دھرنا دے رہے ہیں کہ جب کشمیر کا مسئلہ توجہ چاہتا ہے اور خان صاحب نے ایسے وقت میں دیا جب فوج نے شمالی وزیرستان آپریشن کا آغاز کیا تھا اور پولیس ہر روز ہونے والے دھماکوں سے برسرپیکار تھی۔ 

اس حوالے سے عمران خان اور مولانا میں کوئی فرق نظر نہیں آتا لیکن ایک اور حوالے سے دونوں کی پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مثلاً 2013میں انتخابی نتائج صرف پی ٹی آئی نے مسترد کئے تھے لیکن 2018 کے انتخابی نتائج پی ٹی آئی کے سوا تمام بڑی اور چھوٹی جماعتوں نے مکمل طور پر مسترد کئے تھے۔ 

تب انتخابی عذرداریوں کے سلسلے میں الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر اعتماد زیادہ تھا لیکن اب وہ اعتماد باقی نہیں رہا۔ تب انتخابات سے قبل نیب کا اس بے دردی سے استعمال نہیں ہوا تھا لیکن اب اس کا استعمال بڑی بے دردی کے ساتھ ہوا۔ 

تب انتخابات کے دوران پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت کا کوئی امیدوار جیل میں نہیں تھا لیکن اب انتخابات سے قبل مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے کئی لوگ زیرِ حراست تھے۔ یوں 2018کے انتخابات کے بارے میں مولانا اور اپوزیشن جماعتوں کا موقف 2013کے انتخابات کے بارے میں عمران خان کے موقف سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ پارلیمنٹ، موجودہ پارلیمنٹ کی نسبت سنجیدہ اور قابلِ وقعت تھی۔ مثالی وہ بھی نہیں تھی اور عمران خان کی طرح میاں نواز شریف بھی مسائل کا حل پارلیمنٹ میں تلاش کرنے کے زیادہ حامی نہیں تھے لیکن بہرحال اس پارلیمنٹ کی کارکردگی اور قانون سازی کی صلاحیت موجودہ پارلیمنٹ کے مقابلے میں بہت بہتر تھی۔ 

تب اسمبلی کے اندر پی ٹی آئی کے ممبران کی تعداد موجودہ اسمبلی میں مولانا کے ممبران کی تعداد کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی اور یوں مولانا کی نسبت عمران خان کا زیادہ فرض بنتا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اپنا احتجاج ریکارڈ کرتے۔ تب ایک صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی لیکن مولانا کی اب کسی صوبے میں حکومت نہیں۔ 

تب دھرنے سے قبل عمران خان صاحب یا ان کے ساتھیوں کو میاں نواز شریف نے بالکل تنگ نہیں کیا تھا لیکن مولانا صاحب اور ان کے ساتھیوں کو گزشتہ ایک سال کے دوران بے توقیر اور تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوئی۔ 

تب نسبتاً زیادہ توقع کی جاسکتی تھی کہ دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کو عدالتوں سے انصاف ملے اور آخر میں معاملہ حل بھی وہیں ہوا لیکن اب مولانا صاحب اور اپوزیشن کو ایسی کوئی خاص توقع نہیں۔ یوں مولانا یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔

ابھی واضح نہیں کہ مولانا آگے جاکر کیا کریں گے لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جے یو آئی، پی ٹی آئی سے زیادہ منظم ہے۔ مولانا کے ساتھ کوئی طاہرالقادری بھی نہیں آرہا۔ 

مولانا نے ابھی تک سول نافرمانی کا اعلان کیا ہے اور نہ بجلی کے بل جلائے ہیں۔ آج تک ان کا پارلیمنٹ پر حملہ کرنے اور پی ٹی وی میں گھسنے کا ٹریک ریکارڈ بھی نہیں۔ ان کے درجنوں ملین مارچ ہوئے لیکن پی ٹی آئی والوں کی طرح انہوں نے کہیں پولیس کو دھمکیاں دیں اور نہ ان کی طرح پولیس والوں کو مارا پیٹا۔ 

مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمٰن کی اخلاقی پوزیشن مضبوط ہے لیکن کیا آئینی اور سیاسی لحاظ سے بھی مولانا دھرنا دینے اور اسلام آباد کو بند کرنے میں حق بجانب ہیں؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ 

یقیناً عمران خان اور ان کی حکومت کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ مولانا پر تنقید کریں یا ان کو روکیں لیکن ہم جیسے طالب علم، جنہوں نے اس وقت کے دھرنوں کی مخالفت اور مزاحمت کی تو ایسا کر سکتے ہیں۔ 

مکرر عرض ہے کہ مولانا کے موقف میں بہت وزن ہے اور ہمیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ موجودہ سیٹ اپ نے ان کے لئے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لئے احتجاج کے تمام راستے بند کردئیے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دھرنوں کے سوا احتجاج کسی اور طریقے سے نہیں ہو سکتا؟ دھرنوں سے اسلام آباد کے عام شہریوں کو تکلیف ہوگی، جن کا مولانا جیسے لوگوں کو ہروانے میں کوئی کردار نہیں۔ دھرنوں سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے اور یہ ملک صرف عمران خان کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ 

دھرنوں سے تو مجھے بھی تکلیف ہوگی لیکن میں نے تو انتخابات سے قبل کہہ دیا تھا کہ میں ووٹ ڈالوں گا اور نہ کسی اور کو ووٹ ڈالنے کا کہوں گا۔ اگر حکومت گرانا مقصود ہے تو کاروبار زندگی مفلوج کرنے اور انسانی زندگیوں کا رسک لینے کے بجائے مولانا خود بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں جبکہ ساتھ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی مستعفی کرائیں تو شاید کسی کو تکلیف پہنچے بغیر حکومت ختم ہوجائے۔ 

وہ اگر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو مارچ ضرور کریں اور اسلام آباد آجائیں لیکن شہر کو بند کرنے سے گریز کریں۔ وہ اگر زیادہ دنوں کیلئے بھی دھرنا دینا چاہتے ہیں تو ڈی چوک کے بجائے فیصل مسجد میں بیٹھ جائیں، وہاں وضو اور رہائش کا انتظام بھی بہتر ہے اور لوگوں کے معمولات زندگی بھی متاثر نہیں ہوں گے۔ 

اگر مولانا ایسا کرتے ہیں تو حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ انہیں فیصل مسجد میں ڈیرے ڈالنے کی اجازت دے۔ تاہم اگر مولانا اسلام آباد آکر دھرنا دینے پر ہی مصر رہیں تو پھر ملک چلانے والوں کو چاہئے کہ وہ ڈائیلاگ کرکے مولانا کو اسلام آباد آنے سے روک دیں لیکن ان کے اور اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ وزیراعظم کر سکتے ہیں اور نہ ان کی کابینہ۔ 

مولانا کو روکنے کے لئے وہ ڈائیلاگ ہونا چاہئے جس کی تجویز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دی تھی۔ میں کسی حد تک مولانا کی تیاریوں اور ارادوں سے واقف ہوں اور بصد ادب و احترام التجا کررہا ہوں کہ مولانا کو راضی کرکے بہرصورت اسلام آباد آنے سے روکا جائے ورنہ تو ملک کیلئے بہتر ہوگا اور نہ ملک چلانے والوں کیلئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید